رمیش کیسر
نوشہرہ // راجوری ضلع کے سرحدی قصبہ نوشہرہ میں واقع سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بنیادی طبی سہولیات کی شدید قلت کا شکار ہے، جہاں گزشتہ چار ماہ سے ایک بھی سرجری انجام نہیں دی جا سکی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں گزشتہ آٹھ برسوں سے مستقل ماہر بے ہوشی تعینات نہ ہونے کے باعث آپریشن تھیٹر عملاً غیر فعال ہو چکا ہے اور مریض معمولی نوعیت کی سرجری کے لیے بھی نجی اسپتالوں یا دور دراز اضلاع کے سرکاری اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔عوامی حلقوں کے مطابق حکومت نے سرحدی علاقے کے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کی عمارت اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تو قائم کیا، تاہم ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی نے اس اسپتال کی افادیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپتال میں اینستھیزیالوجسٹ کی عدم موجودگی کے باعث معمولی آپریشن بھی ممکن نہیں، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں کو شدید مالی اور ذہنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مقامی باشندوں نے بتایا کہ سرحدی علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد معاشی طور پر کمزور ہے اور نجی ہسپتالوں میں علاج کروانا ان کی استطاعت سے باہر ہے۔ ایسے میں سرکاری اسپتال میں آپریشن کی سہولت بند ہونے سے انہیں بھاری اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں، جبکہ بعض مریض بروقت علاج نہ ملنے کے باعث مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔علاقے کے لوگوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ نوشہرہ ایک حساس سرحدی علاقہ ہے، جہاں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران اکثر گولہ باری کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں زخمیوں کے فوری علاج کے لیے اسپتال میں سرجن اور اینستھیزیالوجسٹ کی موجودگی انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی ہنگامی صورتحال میں بڑی تعداد میں زخمی ہسپتال لائے جائیں تو موجودہ حالات میں آپریشن کی سہولت دستیاب نہ ہونے سے قیمتی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ماضی میں محکمہ صحت کی جانب سے ہفتے میں ایک دن کسی دوسرے سرکاری اسپتال سے اینستھیزیالوجسٹ کو نوشہرہ بھیجا جاتا تھا، جس کی بدولت محدود تعداد میں آپریشن انجام دیے جاتے تھے، لیکن گزشتہ چار ماہ سے یہ انتظام بھی بند ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اسپتال کے سرجن اور دیگر طبی عملہ بھی بے بسی کا شکار ہیں کیونکہ اینستھیزیالوجسٹ کے بغیر کسی بھی قسم کی سرجری ممکن نہیں۔عوام نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ہسپتال میں اینستھیزیالوجسٹ کے علاوہ چھ سے زائد ڈاکٹروں کی آسامیاں بھی عرصہ دراز سے خالی پڑی ہیں، جس کے باعث او پی ڈی سمیت دیگر طبی خدمات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق متعدد بار مقامی نمائندوں، متعلقہ حکام اور محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کو اس مسئلے سے آگاہ کیا گیا، لیکن ہر بار صرف یقین دہانیاں کرائی گئیں، عملی اقدامات آج تک دیکھنے میں نہیں آئے۔سماجی تنظیموں اور مقامی شہریوں نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ نوشہرہ سب ڈسٹرکٹ اسپتال میں مستقل اینستھیزیالوجسٹ کی فوری تعیناتی عمل میں لائی جائے، خالی آسامیوں کو پر کیا جائے اور آپریشن تھیٹر کو دوبارہ فعال بنایا جائے تاکہ سرحدی علاقے کے عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس دیرینہ مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا تو عوام کو بدستور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔