محمد بشارت
کوٹرنکہ //راجوری ضلع کے کو ٹرنکہ سب ڈویژن میں واقع کنڈی۔پٹلی رابطہ سڑک کی مسلسل خستہ حالی اور محکمہ تعمیراتِ عامہ (PWD) کی مبینہ لاپرواہی کے خلاف مقامی عوام میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ علاقے کے باشندوں نے محکمہ پر الزام عائد کیا ہے کہ بارہا توجہ دلانے کے باوجود اس اہم سڑک کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق کنڈی۔پٹلی سڑک علاقے کی مصروف ترین شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہ ہزاروں افراد کے لیے روزمرہ آمدورفت کا واحد اہم ذریعہ ہے۔ طلبہ، سرکاری ملازمین، مریض، تاجروں اور دیگر مسافروں کی بڑی تعداد روزانہ اسی سڑک کے ذریعے اپنی منزلوں تک پہنچتی ہے، تاہم طویل عرصے سے سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور متعدد مقامات پر بڑے بڑے گڑھے اور خراب سطح حادثات کا سبب بن رہی ہے۔اہلِ علاقہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال اس حد تک خراب ہو گئی کہ لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت چندہ جمع کرنا پڑا اور ذاتی خرچ پر مزدوروں کی خدمات حاصل کرکے سڑک کے بعض حصوں کی عارضی مرمت کرانی پڑی۔
عوام کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی تعمیر، مرمت اور دیکھ بھال محکمہ تعمیراتِ عامہ کی آئینی اور انتظامی ذمہ داری ہے، لیکن متعلقہ حکام کی عدم توجہی کے باعث شہریوں کو وہ کام انجام دینا پڑا جو سرکاری ادارے کی ذمہ داری تھی۔مقامی شہریوں نے کہا کہ عوام نے ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے سڑک کو قابلِ استعمال بنانے کی کوشش کی ہے، مگر یہ مستقل حل نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور متعلقہ محکمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو محفوظ اور معیاری سڑکوں کی سہولت فراہم کرے، نہ کہ انہیں اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بھی چندہ جمع کرنے پر مجبور کرے۔شہریوں نے محکمہ تعمیراتِ عامہ سب ڈویژن ٹرنکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور کنڈی۔پٹلی سڑک کی فوری بنیادوں پر مکمل اور معیاری مرمت کو یقینی بنائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سڑک کی مستقل دیکھ بھال کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے تاکہ آئندہ عوام کو اس قسم کی مشکلات اور حادثات کے خدشات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں بہانوں کی نہیں بلکہ محفوظ، پائیدار اور معیاری سڑکوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس افسوسناک صورتحال کے بعد محکمہ تعمیراتِ عامہ سب ڈویژن ٹرنکہ اپنی غفلت کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے فوری عملی اقدامات کرے گا، تاکہ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بحال ہو اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔