عظمیٰ نیوز سروس
ریاسی // لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جمعرات کو شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کے ممبران اور سینئر اَفسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی اور شری ماتا ویشنو دیوی جی شرائین میں نذرانہ و عطیات کے اِنتظامی نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔میٹنگ میں شرائین بورڈ کے ممبران مہامندلیشور سوامی وشویشورانند گیری جی مہاراج، بالیشور رائے، ڈاکٹر اشوک بھان، سدھا مورتی، گنجن رانا، ڈاکٹر کے کے تلوار، کلبھوشن آہوجا، للت بھسین، سریش کمار شرما، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایس ایم وی ڈی ایس بی سچن کمار واشیا، ایڈیشنل سی ای او آلوک کمار موریہ اور دیگر سینئر افسران نے سپریچول گروتھ سینٹرکٹرہ میں ذاتی طورپر اور بذریعہ ورچیول موڈ شرکت کی۔
میٹنگ میں شرائین پر موصول ہونے والے نذرانوں و عطیات کے اِنتظام میں مکمل شفافیت، جوابدہی اور قائم کردہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کی پابندی کو یقینی بنانے کے لئے عقیدت مندوں کے نذرانے کی وصولی، گنتی، حساب کتاب، حفاظت اور استعمال کا ایک جامع جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں پیش کی گئی ایک تفصیلی پرزنٹیشن میں بتایا گیا کہ شرائین بورڈ نے عطیاتی بکسوں، عطیاتی کاونٹروں، آن لائن پلیٹ فارموں اور قیمتی دھاتوں کی شکل میں موصول ہونے والے نذرانوں کو محفوظ اور شفاف اِنتظام کے لئے مضبوط ادارہ جاتی میکانزم وضع کیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ کو نذرانوں کی تصدیق کے عمل، نگرانی کے نظام، بینکنگ کے تحفظات اور وقتاً فوقتاً آڈِٹ سے آگاہ کیا گیا جو اس پورے عمل کے ہر مرحلے کو کنٹرول کرتے ہیں۔میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نذرانوں اور عطیات سے متعلق تمام مالی لین دین مقررہ بینکنگ ضوابط، قانونی دفعات اورمرکزی حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق سختی عملائے جاتے ہیں۔بورڈ نے قیمتی دھاتوں کی صورت میں موصول ہونے والے نذرانوں کی حفاظت، سٹوریج، محفوظ ٹرانسپورٹیشن، پروسسنگ اور ریفائننگ کے لئے اِختیار کئے گئے سخت حفاظتی پروٹوکول کا بھی نوٹس لیاجو ریزرو بینک آف اِنڈیا اور انڈیا گورنمنٹ منٹ حیدرآباد سمیت حکومت سے منظور شدہ معتبر اِداروں کے ذریعے انجام دئیے جاتے ہیں۔بورڈ نے تفصیلی جائزے کے بعد موجودہ اِنتظامات کی شفافیت، جوابدہی اور موثریت پر اطمینان کا اِظہار کیا۔ بورڈ نے ان جامع حفاظتی اَقدامات اور نگرانی کے طریقہ کار کی بھی ستائش کی کہ عقیدت مندوں کی طرف سے دی جانے والی نذرانوںکو دیانت داری، مالی نظم و ضبط اور عوامی اعتماد کے اعلیٰ معیار کے ساتھ منظم کیا جائے۔