سمارٹ لاک ڈائون کی اجازت،کورونا ویکسین کی رفتار بڑھانے کے احکامات صادر
نئی دہلی//کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے اسکے پھیلائو کو موثر انداز میںکنٹرول کرنے کیلئے رہنما خطوط جاری کئے ہیں۔ وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کو جانچ،تلاش اور علاج (ٹیسٹ،ٹریک اینڈ ٹریٹ) ضوابط بندشوں کے اقدامات اور مختلف سرگرمیوں سے متعلق معیاری عملیاتی طریقہ کار کو سختی کے ساتھ لاگو کرنے کیلئے مجاز بنایا ہے۔وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں منگل کوایک آرڈر جاری کیا ، جو یکم اپریل ، 2021 سے لاگو ہوگا اور 30 اپریل 2021 تک نافذ رہے گا۔اس ضمن میں مرکزی داخلہ سیکریٹری نے جموں کشمیر کے چیف سیکریٹری کو ایک مکتوب بھی روانہ کردیا ہے۔
اقدامات
ریاست ومرکزی زیر انتظام خطوں کی حکومتیں کام کے مقامات اور عوام میں خاص طور پر ہجوم والی جگہوں پر کورونا وائرس کے مناسب اقدامات کو فروغ دینے کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائیں گی۔ جاری کردہ حکم نامہ کے مطابق ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام والے خطوں کی حکومتوں کو مشورہ دیا جاتاہے کہ وہ چہرے کے ماسک پہننے کے عمل ، ہاتھوں کی صفائی اور سماجی دوری کو عملانے کیلئے انتظامی کارروائیوں بشمول جرمانہ عائد کرنے پر غور کرسکتے ہیں۔مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے لئے قومی ہدایت کا عمل پورے ملک میں جاری رکھا جائے گا ، تاکہ وائرس کے مناسب طرز عمل کو نافذ کیا جاسکے۔
مقامی بندشیں
ریاستیں اور مرکزی زیر انتظام خطوں کی صورت حال کے اپنے جائزہ کی بنیاد پر ، ضلع ، سب ڈسٹرکٹ اور شہر، وارڈ کی سطح پر ، مقامی پابندیاں عائد کرسکتے ہیں ، تاکہ کوروناکو پھیلانے پر قابو پایا جاسکے۔بین ریاستی اور بیرون ریاستوں کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
پابندیاں نہیں ہونگی
بندشوں والے زونوں کے باہر تمام سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے اور مختلف سرگرمیوں کے لئے معیاری عملیاتی طریقہ کا مشورہ دیا گیا ہے۔بندشوں سے باہر والے زونوں میںمسافر ٹرینوں کے ذریعہ نقل و حرکت، ہوائی سفر، میٹروریلوں، اسکولوں، اعلی تعلیمی اداروں،ہوٹلوں اور ریستورانوں، شاپنگ مالز ، ملٹی پلیکس اور تفریحی پارکوں، یوگا سینٹروںاور جمنازیم، نمائشیں ، اسمبلیاں اور اجتماعات ، وغیرہ شامل ہیں، میں پابندیاں نہیں ہوگی۔ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاہدوں کے تحت سرحد پار سے تجارت کرنے والے بین ریاستی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ اس طرح کی نقل و حرکت کے لئے کسی علیحدہ اجازت،،منظوری، ایپرمٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ معیاری عملیاتی طریقہ کاروں میںوقت کے ساتھ ساتھ بہتری لائی جاتی ہے اور متعلقہ حکام ان کو نافذ کریں اور وہ ان کی سختی سے عمل پیرا ہونے کے ذمہ دار ہوں گے۔
جانچ،سراغ و علاج ضوابط
ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام خطوں، جہاں’’ پی سی آر-آرٹی‘‘ ٹیسٹوں کا تنا سب کم ہے اس میں اضافہ کرنا چاہئے ، تاکہ یہ 70 فیصد یا اس سے زیادہ کی سطح تک پہنچ جائے۔ حکم نامہ میں کہا گیا کہ انتہائی مثبت جانچ کے نتیجے میں پائے جانے والے نئے مثبت معاملات کو بروقت علاج مہیا کیے جانے پر جلد از جلد الگ تھلگ رکھنا ضروری ہے۔رہنما خطوط کے مطابق ، ان کے رابطوں کو جلد سے جلد تلاش کرنا ہوگا ، اور اسی طرح الگ تھلگ کرنے اور قرنطینہ میں رکھنا ہوگا۔مثبت معاملات اور ان کے رابطوں کی کھوج کی بنا پر ، بندشوں والے زونوں کو ضلعی حکام کے ذریعہ ، چھوٹی سطح پر ،وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے جاری رہنما خطوط کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے ساتھ نشاندہی کی جائے۔ مزید کہا گیا کہ ان بندشوں والے زونوں کی فہرست ویب سائٹ پر متعلقہ ضلع کلکٹرس اور ریاستوں و مرکزی زیر انتظام خطوں کی طرف سے مطلع کیا جائے گا،جبکہ یہ فہرست مستقل بنیادوں پر وزارت صحت و خاندانی بہبود کے ساتھ بھی اشتراک کی جائے گی۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ جن زونوں کی بندشوں کے حوالے سے نشاندہی کی جائے گی ان کے اندر وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی سختی سے پیروی کی جانی چاہیے،جس میں سخت پیرامیٹر کنٹرول ، گھر گھر کی نگرانی ، رابطہ کا سراغ لگانا ، آئی ایل آئی،ایس ائے آر آئی کے معاملات کو سنجیدگی کے ساتھ تعاقب کرنا شامل ہے۔مقامی ضلعی پولیس اور میونسپل اتھارٹی تجویز کردہ بندشوں کے اقدامات کو یقینی بنانے اور ان کی سختی سے پیروی کرنے کیلئے ذمہ دار ہونگے،جبکہ ریاستی و مرکزی زیر انتظام خطوں کی حکومتیں ان افسراں کو جوابدہ بنانے کے عمل کو یقینی بنائیں گے۔
ٹیکہ کاری
رہنما خطوط میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند نے کوویڈ 19 کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم شروع کی ہے جو آسانی سے چل رہی ہے اوراس کی رفتار مختلف ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام خطوں میں اچھی طرح سے جاری ہے تاہم کچھ ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام خطوں میں اس کی سست رفتار تشویشناک ہے۔موجودہ منظرنامے میں کوویڈ کے خلاف ٹیکہ کاری وائرس کا سلسلہ توڑنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔احکامات کے مطابق’’لہٰذا ، تمام ریاستوں و مرکزی زیر انتظام خطوں کی حکومتوں کو فوری طور پر حفاظتی ٹیکے لگانے کی رفتار کو بڑھانا چاہئے ، تاکہ تمام ترجیحی گروپوں کا تیزی سے احاطہ کیا جائے‘‘۔
مقصد
رہنما خطوط کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے خاطر خواہ فوائد کو مستحکم کرنا ہے ، جو لگ بھگ 5 مہینوں تک دیکھنے کو ملا اورفعال معاملات کی تعداد میں مسلسل کمی بھی نظر آئی۔ کورونا وائرس کے معاملات میں تازہ اضافے ، جس کا مشاہدہ ملک کے کچھ حصوں میں ہورہا ہے ، کو مدنظر رکھتے ہوئے رہنما اصولوں کے تحت ریاست اور مرکزی زیر انتظام خطوں کی حکومتوں کو ملک کے تمام حصوں میں ٹیسٹ ،ٹریک، ٹریٹ پروٹوکول کو سختی سے نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ہر ایک کورونا وائرس سے نپٹنے میں اپنا کردار ادا کرے اور ٹیکہ کاری مہم کے ذریعے تمام عمر کے گروپوں کے اہداف کو پورا کیا جائے۔اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے وبائی صورتحال کو مکمل طور پر قابو پانے کے لئے سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جائیں،جبکہ مقررہ بندشوں کی حکمت عملی پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ اور وزارت صحت و خاندانی بہبود اور دیگر وزارتوں کے علاوہ ریاستی ،مرکزی زیر انتظام خطوں اور مرکزی محکموں کے ذریعہ جاری کردہ رہنما خطوط ،اور معیاری عملیاتی طریقہ کار پر سختی سے عمل کریں۔