رودادِ وطن
جب تلک نسلِ آدم نہ پیدا ہوئی سرود ؔسوسن سمن یاسمین شاد تھی
جب سے آدم کا اِن پہ تسلط ہوا باغِ ہستی تب سے ہی ناشاد تھی
شاخِ گُل اپنا قد جب بڑھانے لگیں ڈار عندلیب کے آپ آنے لگے
جابجا آن میں پھر بنے آشیاں کیا سماعت کو ہر سمت پھرناد تھی
ایسی دھرتی کا آذرؔ میںباشندہ ہوں جسکے خاکے میں قدرت نے رنگ بھر دیئے
جس کا نقشہ نہ خاکہ تھا پہلے کوئی تب یہ ساری زمین غیر آباد تھی
جائے پید میری کبھی جہیلی تھی اِس کے اطراف میں تھے کوہ و دمن
خشک بالا زمین تھی اِسکی مگر جو کہ ہنگپستؔ کی نسبت سے آباد تھی
خیمہ زن وہ یہاں پر ہوا اسلئے یہ چراگاہ تھی اُسکے لئے سُودمند
پیڑ پودوں کی یاں پر تھی استادگی گھاس لگتی تھی جیسے کہ باکھاد تھی
کارِ عالم میں وہ ’’پوھال‘‘تھا گائے، بکری وہ گھوڑوں کا جنجال تھا
اُسکی نسبت سے ’’پوھی‘‘ ہوئی یہ جگہ جسکے کہنے میں مطلق نہ اُفتاد تھی
بعد مُدت ہوا خود بخود معجزہ آب دریا کی صورت یاں بہنے لگا
خشک چوگاں ہو اساتھ متصل زمیں جسکی صورت و سیرت خُدا داد تھی
رفتہ رفتہ خلق اور آتی گئی بستیاں نِت نئی پھر بساتی گئی
لوگ آباد ہونے لگے اسطرح جیسے صدیوں سے بستی یہ آباد تھی
اسکا شہراہ ہُوا پھر بہت دور تک جایۂ بغدادؔ سے یاں ولیؔ آگئے
قوم مُسلم جو یاں آج آباد ہے یہ فضیلت بدولت آمدِ صاد تھی
فردِ کشپؔ سے منسوب ہے کاشمر’’پوھال‘‘ ہنگپستؔ سے معروف ہے کشتواڑؔ
یہ ہے رُوداد آذرؔ میرے وطن کی سلفِ عُشاقؔ جہاں پہ آباد تھی
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
چائے پیجئے
درد دل کو تم جلا لیجئے، چائے پیجئے
یہ سارے غم بھی بھلا دیجئے، چائے پیجئے
درد ہو تو پھر درد میں سب پیتے ہیں شراب
آپ کچھ تو نیا بھی کیجئے، چائے پیجئے
چائے دوسرا عشق ہے ہمارا یہ سن لیجئے
آپ اس پر گیان نہ دیجئے، چائے پیجئے
غموں کی بارش چلے یا پھر اشک کا سمندر
سب بہا کے تم فنا کیجئے، چائے پیجئے
محبت جیسا نشہ ہے اس چائے میں بس اسی لئے
پیتے ہیں تم بھی پیا کیجئے، چائے پیجئے
عاشق آشفتہ سرازی
کاستی گڑھ ڈوڈہ، جموں
ماں
ماں خدا کی سب سے خوبصورت نعمت ہوتی ہیں
ان کی محبت پھولوں کی خوشبو جیسی لگتی ہے
ماں ہمارے ہر دکھ میں ساتھ کھڑی رہتی ہیں
اور اپنی دعا سے ہماری زندگی روشن بناتی ہیں
ماں کی ہر بات میں پیار ہوتا ہے
ماں کی ہر دعا میں بہار ہوتا ہے
ماں کی قدر کرتا ہے جو اصلی زندگی پاتا ہے وہ
سکینہؔ کہتی ہے ماں جیسا کوئی اور نہیں
ماں کے قدموں تلے جنت سے بڑھ کر ٹھکانہ کہیں اور نہیں
سکینہ فاروق
طالبہ گورنمنٹ مڈل اسکول خوشی پورہ،ایچ-ایم-ٹی،سرینگر،کشمیر