جموں//ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے بجٹ پر اپنی تقریر میں انجینئر رشید نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو گلے لگاکر دنیا بھر میں اربوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے اور انکے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا ڈھونگ کیا جارہا ہے اور دوسری جانب نیتن یاہو کے استقبال کیلئے پروٹوکال کی حدود تک کو یکطرف چھوڑا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے دورہ نے بی جے پی سرکار کی دروغ گوئی کو بری طرح بے نقاب کردیا ہے۔انجینئر رشید نے قانون ساز کونسل کو فوری طور ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد ایوان بالا کی کوئی اخلاقی برتری نہیں ہے اور اسکا مقصد اسکے سوا کچھ نہیں رہا ہے کہ اس میں الیکشن میں شکست کھانے والے کچھ منظور نظر لوگوں کو پناہ دیکر عیش کی زندگی کا موقعہ دیا جائے۔انہوں نے سرکار کی جانب سے وائس چیرمین کے نام پر بے شمار آئینی عہدے قائم کرنے کی مزاحمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے میں نہ صرف سسٹم کے اندر سسٹم کھڑا ہوا ہے بلکہ اس سے سرکاری خزانے پر بے مطلب کا اور نا قابل برداشت بوجھ پڑ گیا ہے۔انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سرکار نے گریز،کپوارہ،چناب ویلی اور پیر پنچال جیسے دور دراز علاقوں کو بری طرح نظر انداز کیا ہے جوکہ انتہائی مذموم عمل ہے جس سے بچنے کیلئے فنڈنگ کے مروجہ طریقے میں تبدیلی لائی جانی چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ کرناہ،کارے،بور اور سرحدی علاقوں کے ان دیگر مہاجرین کے حق میں مالی پیکیج واگذار کیا جانا چاہیئے جنہیں لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔نئی دلی کی جانب سے جموں کشمیر کو دل کھول کر مالی امداد دئے جانے کو محض ایک مفروضہ قرار دیتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ دراصل جموں کشمیر کو ایک بھکاری ریاست کی طرح لیاجاتا رہا ہے اور دلی والے ہمیں اس سے بڑھ کر نہیں سمجھتے ہیں۔انہوں نے تاہم کہا کہ نئی دلی کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیئے کہ جموں کشمیر لاکھوں بھارتی فوجیوں اور پیرا ملٹری فورسز کو روزگار فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایوان کو یہ حقیقت یاد کرائی کہ نئی دلی ریاست پر کوئی احسان نہیں کرتی ہے کیونکہ اس نے یہاں کے ذرائع لوٹے ہیں یہاں تک کہ بقیہ ہندوستان کے مفاد میں اس نے ریاست کا پانی تک پاکستان کو بیچ دیا۔