قواعدکی تشکیل، ڈیجیٹل انضمام، بیداری مہمات کا جائزہ
سرینگر// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے کل ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میںمرکزی حکومت کی طرف سے نافذ کردہ چار لیبر کوڈز کی عمل آوری کے لئے لیبر و روزگار محکمہ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔دورانِ میٹنگ محکمہ کی جانب سے ایک جامع پرزنٹیشن پیش کی گئی جس میں قواعدکی تشکیل، اِدارہ جاتی تیاری، ڈیجیٹل انضمام، بیداری مہمات اور جموں و کشمیر میں نئے لیبر قانونی نظام کو یوٹی بھرمیں فعال کرنے کے روڈ میپ کو اُجاگر کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے لیبر کوڈز کی عمل آوری کے سلسلے میں محکمہ محنت و روزگار کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ باقی ماندہ قانونی و اِنتظامی کارروائیاں مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائیں۔چیف سیکرٹری نے محکمہ کو ہدایت دی کہ باقی قواعد کی حتمی منظوری اور نوٹیفکیشن کے عمل کو تیز کیا جائے، ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کو فعال بنانے کے لئے مرکزی حکومت کے ساتھ تال میل کو مضبوط کیا جائے، قانونی بورڈز کی تشکیل جلد مکمل کی جائے اور محنت کشوں، آجرین اور شراکت داروںکو نئے لیبر فریم ورک سے مکمل طور پر آگاہ کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر بیداری پروگرام جاری رکھے جائیں۔
اِس موقعہ پر سیکرٹری محکمہ محنت و روزگار کمار راجیو رنجن نے کہا کہ نئے لیبر کوڈز آزاد ہندوستان کی اہم لیبر اصلاحات میں سے ایک ہیں جس میں 29 مرکزی لیبر قوانین کو چار جامع کوڈز سے تبدیل کیا گیا ہے ۔ ان میں کوڈ آن ویجز 2019، اِنڈسٹریل ریلیشنز کوڈ 2020، کوڈ آن سوشل سکیورٹی 2020 اور آکوپیشنل سیفٹی، ہیلتھ اینڈ ورکنگ کنڈیشنز کوڈ 2020 شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ان اِصلاحات کا مقصد محنت کشوں کے لئے ایک آسان، شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی اور مزدور دوست نظام قائم کرنا ہے اور ساتھ ہی ساتھ کاروبار کرنے میں آسانی کو بھی بڑھانا ہے۔لیبر کمشنر چرندیپ سنگھ نے میٹنگ کو بتایا کہ چاروں لیبر کوڈز کے تحت رولز بنائے گئے ہیں۔ اِنڈسٹریل ریلیشنز کوڈ 2020 کے قواعد متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد سرکاری گزٹ میں باقاعدہ طور پر شائع کئے جا چکے ہیں۔اِسی طرح آکوپیشنل سیفٹی، ہیلتھ اینڈ ورکنگ کنڈیشنز کوڈ 2020 کے قواعد آخری مرحلے میں ہیںجبکہ کوڈ آن ویجز 2019 اور کوڈ آن سوشل سکیورٹی 2020 کے قواعد منظوری کے بعد اِبتدائی طور پر شائع کئے جا چکے ہیں اور حتمی نوٹیفکیشن سے قبل قانونی مشاورتی عمل جاری ہے۔محکمہ محنت و روزگار نے ایک جامع نفاذی حکمت عملی بھی پیش کی جس میں خصوصی پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کا قیام، بلاک سطح پر شرم سہائیک تعینات کرنا، آئی ٹی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، قومی لیبر پورٹلز کے ساتھ انضمام، وسیع پیمانے پربیداری مہمات اور اِدارہ جاتی صلاحیت سازی شامل ہے۔میٹنگ کو جانکاری دِی گئی کہ لیبر کوڈز کو مشن موڈ میں جموں و کشمیر میں عملانے کے لئے پہلے ہی محکمہ خزانہ کو 10.44 کروڑ روپے کا ایک تجویز پیش کیا جا چکا ہے۔