اشرف چراغ
کپوارہ // شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کی خوبصورت وادی کیرن کی سیر کرنے والے سیاحوں نے الزام لگایا ہے کہ انہیں اپنی نجی گاڑیاں اہم سیاحتی مقامات سے تقریباً دو کلومیٹر دور کھڑا کرنے اور مقامی گاڑیوں کو مہنگے داموں کرایہ پر لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔۔متعدد سیلانیوں نے کہا کہ پرائیویٹ گاڑیوں کو داخلی گیٹ سے آگے ٹینٹ ویلی اور فلیگ پوائنٹ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں سیلانیوں مقامی ٹیکسیوں میں سوار ہونے پر مجبور ہیں جو تقریباً دو کلومیٹر کے لیے 300 روپے وصول کرتے ہیں۔ ایک سیلانی جاوید احمد نے کہا کہ انتظامیہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ ڈرائیوروں نے جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بدتمیزی سے جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے رویے سیاحوں پر برا تاثر چھوڑتے ہیں۔ ایک اور مقامی سیاح فردوس احمد نے کہا، “میں ضلعی انتظامیہ سے کرایہ کے ڈھانچے کی قانونی حیثیت کی توثیق کرنے کی درخواست کرتا ہوں اور اگر حفاظتی تحفظات اجازت دیتے ہیں، تو پرائیویٹ گاڑیوں کو مناسب حفاظتی چیکنگ کے بعد انٹری گیٹ سے آگے جانے کی اجازت دیں۔ کچھ سیلانیوں نے علاقے کے بعض ہوٹلوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی زیادہ قیمتوں کی بھی شکایت کی۔ ارشاد احمد نے کہا، ’’کیرن کے ایک مقامی ہوٹل میں مجھ سے 200 روپے چاول کی پلیٹ لی گئی جو کہ کشمیر بھر کے باقی مقامات سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘ ڈپٹی کمشنر کپوارہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔