عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری اور سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کے اہم مسائل، بالخصوص ریاستی درجے کی بحالی اور جموں و کشمیر کے عوام اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان موجود اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کے لیے مرکز اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان مذاکرات ناگزیر ہیں۔دونوں رہنما پونچھ کے مینڈھر میں منعقدہ کارکنوں کی ایک میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ اس میٹنگ کا اہتمام پارٹی ترجمان رقیق خان نے کیا تھا۔اپنے خطاب میں سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دلانے کا مطالبہ محاذ آرائی کے بجائے مرکز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’ریاست کا درجہ ناگزیر ہے۔ درحقیقت یہ جموں و کشمیر کے عوام کے وقار اور عزت کا معاملہ ہے۔ تاہم، یہ صرف حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، محاذ آرائی سے نہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’صرف ریاست کا درجہ عوام کے مسائل حل نہیں کرے گا۔ عوام کو روزگار کے مواقع درکار ہیں۔ انہیں بے روزگاری، غربت، بھوک، پسماندگی اور دیگر مسائل سے نجات چاہیے، لیکن یہ بے حس حکومت ان سنگین مسائل پر کوئی توجہ نہیں دے رہی، بلکہ ریاست کے درجے کے مطالبے کی آڑ میں اپنی ناکامیوں کو چھْپانے کی کوشش کررہی ہے۔‘‘انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کا ذمہ دار مرکزی حکومت کو بھی قرار دیتے ہوئے کہا، ’’نئی دہلی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے عوام پر ایسی قیادت مسلط کی جو کبھی بھی ان کے مسائل کو مؤثر انداز میں حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی، بلکہ ان کی دلچسپی صرف اقتدار حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں تھی۔‘‘اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے 2020 میں اپنی پارٹی کے قیام کے پس منظر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جماعت ایسے وقت میں قائم کی گئی جب جموں و کشمیر شدید بے یقینی، خوف اور اضطراب کے ماحول سے گزر رہا تھا۔غلام حسن میر نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ مرکز جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے۔انہوں نے کہا، ’’ہم وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام، خصوصاً نوجوانوں، کے ساتھ بامعنی مذاکرات کریں۔ انہوں نے امن اور ترقی کا راستہ اختیار کیا ہے، لیکن ان کی بات بھی سنی جانی چاہیے۔ عوام کے ساتھ مکالمہ ہی جموں و کشمیر کے عوام اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اس لیے ہم مرکز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے۔‘‘اس موقع پر سینئر صوبائی نائب صدر جموں شاہ محمد تنترے، ریاستی صدر ایس سی ونگ بودھ راج بھگت، صوبائی نائب صدر جموں اور ایس ٹی ونگ جموں کے نائب چیئرمین سلیم چودھری، ریاستی صدر کسان ونگ بدری ناتھ شرما، ترجمان رقیق احمد خان، زونل صدر سرنکوٹ مسرت حیات ملک، وحد اللہ خان، یاسر احمد خان، مشرف احمد خان، چودھری ظفر، سید صلاح الدین، ذوالفقار خان، محمد فاضل خان، محمد حفیظ خان، محمد ایوب خان، سید سرور حسین شاہ، مبین قریشی، وکرم شرما، شاہد ہلال اور دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔