عظمیٰ نیوز سروس
اننت ناگ// حکومت نے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم اے وائی)اور اے بی پی ایم جے اے وائی (صحت)اسکیموں کے تحت انجام دیے گئے امراضِ قلب (کارڈیالوجی) سے متعلق طبی طریقہ علاج اور کارروائیوں کے آڈٹ اور ڈیٹا کے تجزئے کے لئے چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔حکومتی حکم نامے کے مطابق، کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کارڈیالوجی سے متعلق تمام ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لے، دستیاب اعداد و شمار کا تجزیہ کرے اور یہ جانچے کہ کیا متعلقہ طبی طریقہ علاج مقررہ طبی، تکنیکی اور انتظامی رہنما اصولوں کے مطابق انجام دیے گئے یا نہیں۔کمیٹی آیوشمان بھارت اور صحت اسکیم کے نفاذ کا بھی جائزہ لے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ عوامی صحت کے وسائل کا شفاف، مثر اور قواعد کے مطابق استعمال ہوا ہے۔ کمیٹی اپنی مکمل رپورٹ اور سفارشات مقررہ مدت کے اندر حکومت کو پیش کرے گی۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا مقصد صحت کے شعبہ میں شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے، تاکہ تمام حقائق ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر سامنے آ سکیں۔
واضح رہے کہ چند ہفتہ قبل جی ایم سی اننت ناگ کا کارڈیالوجی محکمہ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا گیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ عوام خاص کر سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے میں رہا۔ عوامی سیاسی اور سماجی حلقوں کی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔اس معاملہ پر اس وقت ہنگامہ ہوا جب محکمہ کی جانب سے جاری کردہ چارج شیٹ کے مطابق، جی ایم سی اننت ناگ شعبہ کارڈیالوجی سربراہ ڈاکٹر سید مقبول پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے ٹرانزیکشن مینجمنٹ سسٹم (ٹی ایم ایس ) پر 103 مریضوں کو “ڈیول چیمبر پیس میکر امپلانٹیشن” پیکیج کے تحت درج کیا، جبکہ مبینہ طور پر ان مریضوں پر “لیفٹ بنڈل برانچ ایریا پیسنگ” (ایل بی بی اے پی ) طریقہ کار انجام دیا گیا۔چارج شیٹ میں مزید الزام عائد کیا گیا تھا کہ مذکورہ ڈاکٹر نے پی ایم جے اے وائی صحت اسکیم کے کیش لیس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مستحق مریضوں سے علاج کے عوض رقم وصول کروائی۔ ایک معاملے میں ایک مریض کو مبینہ طور پر 70 ہزار روپے ایک نجی کمپنی کو ادا کرنے پر مجبور کیا گیا، حالانکہ وہ سرکاری اسکیم کے تحت مفت علاج کا حقدار تھا۔محکمہ نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر نے طبی آلات اور امپلانٹس کی خریداری کے لیے منظور شدہ سرکاری طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے نجی سپلائرز کے ذریعے سامان حاصل کیا، جس سے شفافیت اور جوابدہی کے نظام پر سوالات کھڑے ہوئے۔سکمز کے ماہرین کی جانب سے کی گئی ایک جائزہ رپورٹ میں مبینہ طور پر انکشاف کیا گیا تھا کہ 55 جائزہ لیے گئے معاملات میں سے 27 مریضوں میں LBBAP طریقہ کار کے لیے مطلوبہ طبی جواز موجود نہیں تھا، جس کے بعد متعدد کلیمز مسترد کر دیے گئے۔ادھر ڈاکٹر سید مقبول نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھاکہ میمورنڈم میں درج الزامات ابھی متعلقہ مجاز حکام کی جانچ کے مرحلے میں ہیں اور ان پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ڈاکٹر مقبول نے کہا کہ معاملہ زیرِ تحقیق ہے اور ان کی جانب سے تمام الزامات کے جواب میں دستاویزی شواہد تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا، تھا کہ جو کچھ گردش میں ہے اسے حتمی فیصلہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ہر الزام کا جواب متعلقہ دستاویزات کے ساتھ دیا گیا ہے اور ہمیں تحقیقاتی عمل پر مکمل اعتماد ہے۔بعد میں گورنمنٹ میڈیکل کالج میں اس بارے میں نیا تنازعہ اس وقت شروع ہوگیا تھا جب ہسپتال انتظامیہ کے مطابق متعدد کیسز کو اسٹیٹ ہیلتھ ایجنسی (SHA) کی جانب سے پری آتھرائزیشن مرحلے پر مسترد کر دیا تھا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق، ایم ایم اے بی ایم ایسوسی ایٹڈ ہسپتال جی ایم سی اننت ناگ میں انجام دی گئی تقریبا 21 ایل بی بی اے پیسنگ کیسز کو مسترد کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ہسپتال کو تقریبا 35.70 لاکھ روپے کے مالی نقصان کا سامنا ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان کیسز کی نامنظوری کی وجوہات اب تک واضح نہیں کی گئی ہیں، حالانکہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو متعدد بار تحریری طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے۔ہسپتال انتظامیہ نے اسٹیٹ ہیلتھ ایجنسی سے مسترد شدہ معاملات پر نظرثانی کرتے ہوئے انہیں بحال کرنے کی اپیل کی تھی ۔ انتظامیہ کے مطابق، ایل بی بی اے پیسنگ ایک جدید اور جسمانی طور پر زیادہ موزوں طریقہ علاج تصور کیا جاتا ہے، جو بعض مخصوص امراض قلب کے مریضوں کے لیے زیادہ مثر ثابت ہو سکتا ہے۔دوسری جانب، بعض مریضوں کی جانب سے جمع کرائے گئے حلف ناموں میں دعوی کیا گیا کہ انہوں نے روایتی ڈوئل چیمبر پیس میکر کے بجائے اپنی مرضی اور مکمل آگاہی کے بعد ایل بی بی اے پیسنگ کا انتخاب کیا۔ حلف ناموں میں کہا گیا ہے کہ مریضوں کو علاج کے مختلف متبادلوں سے آگاہ کیا گیا تھا اور اضافی اخراجات وہ خود برداشت کرنے پر رضامند ہوئے تھے۔ایک مریض کی جانب سے جمع کرائے گئے حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعلقہ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر سید مقبول یا ہسپتال کے کسی اہلکار نے ان سے براہ راست یا بالواسطہ کسی قسم کی رقم طلب نہیں کی اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا دبا ڈالا گیا۔ مریض نے مزید دعوی کیا کہ اضافی رقم مجاز امرت فارمیسی کے ذریعے سرکاری رسید کے ساتھ جمع کرائی گئی اور وہ فراہم کردہ علاج سے مکمل طور پر مطمئن ہیں۔