مینڈھر //آبادی اور جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑی تحصیل اور راجوری پونچھ میں سب سے پرانا قصبہ ہونے کے باوجود مینڈھر کو میونسپل کمیٹی کادرجہ نہیں دیاجارہا جس پر مقامی آبادی حکام کے تئیں سیخ پا ہے ۔اس حوالے سے کی جارہی مسلسل تاخیر نے لوگوں کے غم و غصہ میں اضافہ کردیاہے اور انہوںنے الزام عائد کیاہے کہ ایسا جان بوجھ کر کیاجارہاہے ۔ مقامی آبادی کاکہناہے کہ مینڈھر کو یہ درجہ کئی دہائیاں قبل مل جاناچاہئے تھالیکن نہیںمعلوم کونسے ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ایسا نہیں ہوپایا اور اب بھی مسلسل تاخیری حربے اختیا رکرکے مینڈھر کے لوگوںکو نظرانداز کیاجارہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ حکومت مینڈھر کی ترقی کیلئے سنجیدہ نہیں کیونکہ وہ ایسے علاقے کو نظرانداز کررہی ہے جو سب سے پرا نا قصبہ ہے۔محمد جاوید نامی ایک شخص کاکہناتھاکہ حکام کی اس سلسلے میں عدم توجہی کاثبوت اس بات سے ملتاہے کہ مینڈھر قصبہ کے وسط میں نصب کی گئی سٹریٹ لائٹیں بھی پچھلے تین سال سے ناکارہ پڑی ہوئی ہیں جنہیں مقامی لوگوںکی طرف سے بارہا اپیل کئے جانے کے بعد بھی ٹھیک نہیں کروایاجارہا۔ایک اور شہری الطاف حسین نے کہاکہ الیکشن کے زمانے میں سیاستدان لوگوںسے بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں لیکن وقت آنے پر وہ سب کچھ فراموش کردیتے ہیں اور مینڈھر کے لوگ بھی ایسے ہی سیاستدانوں کا شکار بنے ہوئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ مینڈھر کو جان بوجھ کر نظرانداز کیاجارہاہے اور حکام قصبہ کو میونسپل کمیٹی کادرجہ دینے کے حق میں ہی نہیں ۔قصبہ کے رہائشی پشکر ناتھ نے الزام لگایاکہ قصبہ کو جان بوجھ کر نظرانداز کیاجارہاہے جس کے نتیجہ میں مقامی لوگ مشکلات بھری زندگی بسر کررہے ہیں اور انہیں کوئی ضخاص سہولت میسر نہیں ۔انہوںنے حکام سے اپیل کی کہ شہر میںگندگی کو دیکھتے ہوئے صفائی مہم شروع کی جائے اور اس شہر کو میونسپل کمیٹی کادرجہ دیاجائے تاکہ شہری ترقی ہوسکے ۔