جموں//عدالت عالیہ جموں و کشمیر کی جسٹس آلوک رادھے پر مشتمل ایک بنچ نے سیشن جج پونچھ کے اس حکمنامہ کو بتاریخ 09/08/2014کوکالعدم قرار دے دیا جس کے تحت عدالت موصوف نے محمد آزاد نامی ملزم کے خلاف پولیس کی جانب سے پیش کردہ چالان پرقتل کی فرد جرم عائد کرتے ہوئے تحت دفعہ 302آر پی سی مقدمہ چلانے کا حکم جاری کیاتھا۔عدالت عالیہ نے سیشن جج کو حکمنامہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیاکہ ملزم کے خلاف پیش کردہ چالان میں ایسے شواہد موجود نہیں ہیں جن کی بنیاد پر اس کے خلاف قتل کی فرد جرم عائد کی جاسکے جبکہ دیگر چند اشخاص کے خلاف شواہد موجود ہونے کے باوجود عدالت زیریں نے انہیں نظر انداز کردیا۔جسٹس رادھے نے اپنے حکمنامے میں سیشن جج پونچھ کو ہدایت کی کہ وہ عدالت عالیہ کے فیصلے کی روشنی میں از سر نو مفصل حکمنامہ جاری کرے ۔واضح رہے کہ ملزم محمد آزاد ولد کالاخان جٹ ساکنہ بنولہ نے فرد جرم عائد کئے جانے کے خلاف ایڈووکیٹ شکور ملک کے ذریعہ دائر کئے گئے مقدمہ نمبر284/14(561-A)دائر کیاتھا جسے عدالت نے منظور کیا۔ملزم کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ مرتضیٰ خان نے دلائل پیش کئے جبکہ حکومت کی جانب سے ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل اے ایس کوتوال اور متوفی کے ورثاء کی جانب سے شری آر پی شرما پیش ہوئے ۔