سری نگر//حکومت نے قبائلی نوجوانوں کو مویشی پالنے اور فوڈ پروسسنگ سیکٹر میں ہنر مندی کے مختلف کورسوں اور سیلف ایمپلائمنٹ منصوبوں کے لئے مدعو کیا ہے جس کا مقصد جموں وکشمیر میں دودھ، گوشت اور اون کی پیداوار میں خود کفیل بنانا اور دُور دراز علاقوں میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے ۔ قبائلی امور محکمہ فارم محکمہ کے ساتھ مل کر دیہات میں قبائلی نوجوانوں کو ہنر ، کاروبار اور روزگار کے لئے مالی اعانت فراہم کرے گا۔لائیو سٹاک سیکٹر میں قبائلی نوجوانوں کی ہنر اور روزگار سکیم میں 15 کروڑ روپے کے منصوبے پر غور کیا گیا ہے جس میں سکل ڈیولپمنٹ کے تحت سکلنگ، آمدنی پیدا کرنے والے یونٹوں کا قیام، شیپ یونٹ،مِلک چلنگ پلانٹوں،مِلک پروڈکٹ مینجمنٹ ، فوڈ پروسسنگ یونٹوں ،مِلک اے ٹی ایم،ڈسٹربیوشن نیٹ ورک ، اون پروسسنگ اور دیگر منافع بخش کاروباری اِداروں کا قیام شامل ہیں۔محکمہ قبائلی اَمور کے سیکرٹری ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے ڈائریکٹر قبائلی اَمور ، ڈائریکٹر پشو پالن کشمیر / جموں ، ڈائریکٹر ان شیپ ہسبنڈری کشمیر /جموں اور چیف اینمل ہسبنڈری اَفسران / ڈسٹرکٹ شیپ ہسبنڈری اَفسران اور دیگر متعلقین کے ساتھ میٹنگ منعقد کی ۔اُنہوں نے کہا کہ مویشی شعبے میں قبائلی نوجوانوں کو مدد فراہم کرنے کے لئے ضلعی ہنر اور خود روزگار کے منصوبے مرتب کئے جائیں۔دونوں محکموں میں ہنر کی ترقی کے10ہزار نوجوانوں کے ہدف میں پانچ سو نوجوانوں کو لائیو سٹاک ہسبنڈری اور لائیو سٹاک پروڈکٹ مینجمنٹ شعبوںکے لئے منتخب کیا جائے گا۔سکل ڈیولپمنٹ کورسوں میں محکموں اور یونیورسٹیوں ، سکل ڈیولپمنٹ اِداروں اور اکیڈیمیوں کے ذریعے پیش کردہ دونوں شامل ہوں گے ۔ ہنر مند نوجوانوں کو مخصوص شعبوں میں کاروباری اِداروں کے قیام کے لئے مالی اعانت فراہم کی جائے گی۔ محکمہ قبائلی اَمور نے تمام اَضلاع میں ایک ہزار منی شیپ فارموں کے قیام کی تجاویز بھی طلب کیں ۔شیپ فارموں کے قیام کے لئے حکومت کی جانب سے 10کروڑ روپے کی رقم میں توسیع کی جائے گی۔ محکمہ نے منی ڈیری فارموں ، پولٹری فارموں اور سکل ڈیولپمنٹ کے لئے لازمی قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ محکموں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ قبائلی آبادی سے 3500 نوجوانوں کو سکریننگ اور منتخب کریں تاکہ وہ اَنٹرپرینیورشپوں کی مدد فراہم کریں۔محکموں سے مزید کہا گیا ہے کہ وہ ایسے علاقوں میں مِلک وِلیج پر کام شروع کریں جو ممکنہ طور پر دودھ پیداوار کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ منڈیوں میں رابطے کے ساتھ ایسے دیہاتوں کو مشینری اور سامان مہیا کیا جائے گا۔اِسی طرح مجوزہ علاقوں میں پولٹری فارموں اور دودھ پروسسنگ یونٹوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔سیکرٹری قبائلی اَمور نے محکموں سے مختلف سکیموں کے لئے درخواستیں طلب کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کرنے اور قرعہ اندازی کے ذریعے مستفید اَفراد کااِنتخاب کرنے کے لئے کہا۔خانہ بدوش کنبوں کے لئے خصوصی سکیم مختص کی گئی ہے جن کے لئے ہائی لینڈپاسچرمیں جاری سروے میں تیارکردہ ڈیٹا بیس سے اِنتخاب کیا جائے گا۔چیف اینمل پالن افسران اور ڈسٹرکٹ شیپ ہسبنڈری اَفسران محکمہ قبائلی امور کے ساتھ سکل، روزگارکے مواقع پیدا کرنے اور گوشت اور دودھ کی پیداوار میں اِضافہ کے سلسلے میں پانچ برس سے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔