اقوام متحدہ کے ادارے انسانی حقوق کونسل نے صاف اور صحت مند ماحول کی فراہمی کو باقاعدہ بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کرلیا۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جنیوا میں اس حوالے سے قرار داد امریکا اور برطانیہ کی تنقید کے باوجود بآسانی منظور کرلی گئی۔رپورٹ کے مطابق قرار داد پہلی مرتبہ 1990 میں زیر بحث آئی تھی جبکہ اس پر کوئی قانونی قدغن عائد نہیں کی گئی لیکن عالمی معیار کے تعین کرنے کا باعث ہے۔ماحولیات کے معاملات سے منسلک وکلا کا کہنا تھا کہ انہیں ماحول اور انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے مقدمات میں دلائل تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا پہلے والا مؤقف موسمیاتی کانفرنس میں ہونے والے وعدوں کی نفی ہے اور جو لوگ اس قرارداد پر تنقید کر رہے ہیں وہ تاریخ کے غلط رخ پر کھڑے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے تخمینوں کے مطابق دنیا بھر میں آلودگی کے باعث ایک کروڑ 37 لاکھ افراد یا 24.3 فیصد افراد جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکتیں فضائی آلودگی اور کیمیکل کے باعث ہوتی ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق آب و ہوا کی تبدیلی چند علاقوں میں انتہائی بارش کا باعث بھی بن رہی ہے جہاں ان کے پاس بعد میں استعمال کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اور بھارت اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں غیر متوقع بارشوں کی وجہ سے 21-2020 میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔
اقوام متحدہ کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے لیے خصوصی نمائندے کی تعیناتی کے لیے بھی ووٹنگ متوقع ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے 2050 میں 5 ارب سے زائد لوگوں کو پانی تک رسائی حاصل کرنے میں مشکل پیش آسکتی ہے اور رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ 'سی او پی 26' سربراہی اجلاس میں آبی وسائل سے متعلق اقدام اٹھائیں۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم (’دی اسٹیٹ آف کلائمیٹ سروسز 2021: واٹر‘ رپورٹ 'سی او پی 26' سربراہی اجلاس سے چند ہفتے پہلے سامنے آئی ہے۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس 31 اکتوبر سے 12 نومبر تک گلاسگو میں منعقد ہو رہی ہے۔
ڈبلیو ایم او نے کہا کہ سیلاب سے زیادہ تر اموات اور معاشی نقصانات ایشیا میں ریکارڈ کیے گئے جہاں دریاؤں کے سیلاب کے انتباہی نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ 2000 کے بعد ایک ہی وقت میں خشک سالی کے واقعات کی تعداد اور مدت میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ افریقہ سب سے زیادہ متاثرہ براعظم ہے۔اقوام متحدہ نے قلتِ آب سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت ان متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہیں جہاں مجموعی طور پر 2 ارب 30 کروڑ افراد پانی کے حصول میں دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے سیکریٹری جنرل پیٹیری تالاس نے کہا کہ ہمیں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کے لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔
رپورٹ میں بھارت اور پاکستان دونوں کو 17 ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا جہاں پانی کی قلت انتہائی زیادہ ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق آب و ہوا کی تبدیلی کچھ علاقوں میں انتہائی بارش کا باعث بھی بن رہی ہے جہاں ان کے پاس بعد میں استعمال کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اور بھارت اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں غیر متوقع بارشوں کی وجہ سے 21-2020 میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ سیلاب نے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیائی علاقوں کو خاص طور پر 2020 میں بری طرح متاثر کیا، پاکستان کے حالات بھی اتنے ہی خراب تھے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پورے برصغیر میں انتہائی بارش سے نیپال، پاکستان اور بھارت میں بڑے پیمانے تباہی ہوئی ہے، لاکھوں بے گھر ہوئے اور سینکڑوں ہلاک ہوئے ہیں۔تیل سے مالا مال ریاست قطر دنیا کا سب سے زیادہ پانی سے محروم ملک ہے جس کے بعد لبنان، اسرائیل، ایران، اردن، لیبیا، کویت، سعودی عرب، اریٹیریا، متحدہ عرب امارات، سان مارینو اور بحرین ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان بالترتیب 13 ویں اور 14 ویں نمبر پر آتا ہے جبکہ دونوں ممالک کے بعد عمان، ترکمانستان اور بوٹسوانا کا نام شامل ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق وسطی ایشیا (80 فیصد)، اس کے بعد جنوبی ایشیا (78 فیصد) اور مغربی ایشیا (60 فیصد) پانی کے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا ان ذیلی علاقوں میں سے ایک ہے جہاں عالمی سطح پر پانی کا سب سے زیادہ دباؤ ہے، پانی کی کمی کئی ممالک کے لیے خاص طور پر افریقہ میں تشویش کی ایک بڑی وجہ ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق 2 ارب سے زیادہ لوگ پانی کے دباؤ میں رہتے ہیں اور پینے کے صاف پانی اور صفائی تک رسائی نہیں حاصل نہیں ہے۔
����