سرینگر //جموں وکشمیر میں مون سون کی بارش ہونے کی وجہ سے جہاں لوگوں نے کچھ حد تک راحت محسوس کی ہے، وہیں جنوبی کشمیرکے کچھ علاقوںمیں شدید بارشوں کے بعد ندی نالوں میںطغیانی کی صورتحال پیداہونے سے سیلابی ریلے کچھ علاقوںمیں داخل ہوئے ،جن سے کچھ تعمیرات کونقصان پہنچنے کی اطلاع ہے ۔اُدھر جموں صوبہ کے کئی علاقوں میں بھی سوموارکوصبح سے ہلکی اوردرمیانہ درجے کی بارشیں وقفے وقفے سے جاری رہیں ۔ اس دوران محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر کے کچھ ایک علاقوں میں آج بھی گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہو سکتی ہیں ۔اتوار کے روز موسم کے گرم ترین دن کے بعد پیر کو جموں و کشمیر میں مون سون کی بارش ہوئی جس نے لوگوں کو شدید گرمی سے کچھ راحت بخشی۔گذشتہ روزسری نگر اور جموں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بالترتیب 35 ڈگری سینٹی گریڈ اور 36 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں اتوار اورسوموار کی درمیانی رات کو یوٹی کے دونوں خطوں میں کہیں کم تو کہیں درمیانہ درجے کی بارش ریکارڈ ہوئی ۔محکمہ کے ترجمان کے مطابق سرینگر میں 1.8ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی اور یہاں اتوار کے مقابلے سوموار کو درجہ حرارت میں لگ بھگ 8ڈگری کی کمی ریکارڈ کی گئی ۔ سرینگر میںسوموار کو دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 27.3ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔اسی طرح قاضی گنڈ میں درجہ حرارت 28.0ڈگری رہا اور وہاں 14.8ملی میٹر ،پہلگام میں درجہ حرارت 23.0ڈگری رہا اور وہاں 26.3ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ، کپوارہ میںاتوار کو جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت35.3ڈگری رہا، وہیں سوموار کو بارشوں کے نتیجے میں درجہ حرارت میں گراوٹ آئی اور یہاں درجہ حرارت 28.3ڈگری ریکارڈ کیا گیا اور 2.6ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔سیاحتی مقام گلمرگ میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 19.0ڈگری رہا اور وہاں 2.4ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ ادھر جموں میں بھی تازہ بارشوں کے نتیجے میں لوگوں نے گرمی کی شدت نے راحت محسوس کی ہے ۔جموں میں جہاں درجہ حرارت 28.2ڈگری رہا، وہیں 5.2ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔اننت ناگ سے نمائندے عارف بلوچ کے مطابق ضلع کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش کی وجہ سے فصلوں سمیت متعدد تعمیراتی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا، جبکہ ناقص ڈرینج سسٹم کے باعث کئی بستیاں زیرآب آگئیں۔ ضلع کے متعدد علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی اور پانی کے تیز بہائو سے متعدد رہائشی مکانوں اور باغات کو نقصان پہنچا ہے ۔ضلع کے پہرو علاقے میں پانی جمع ہوا اور متعدد گھروں میں پانی داخل ہوا جس کی وجہ سے کئی گھروں کو نقصان پہنچا ۔رہائشی آبادی نے انتظامیہ کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا ۔ آبادی مطالبہ کر رہی ہے کہ دیدی ندی میں جمع کوڑے کچرے کوصاف کیا جائے تاکہ اس کی وسعت میں اضافہ ہو۔اسی طرح نوشہرہ کھرم میں فلیش فلڈس کی وجہ سے گوجر گرلز ہوسٹل کو بھی نقصان پہنچا۔ کوشرء کلان میں ایک رہائشی مکان مکمل طور پر تباہ ہوا جبکہ دانتر اننت ناگ میں بھی ایک رہائشی مکان کو نقصان پہنچا۔ بجبہاڑہ کے دور دراز علاقہ کھرم نوشہرہ میں بہنے والی دیدی کنال میں طغیانی آنے کی وجہ سے ندی کئی مقامات پر ٹوٹ جانے کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ، جس کے باعث یہاں عبور و مرور میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈرینج سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کریں ۔اس بیچ میونسپل کونسل اننت ناگ کے چیئرمین ہلال احمد شاہ نے متاثرہ بستیوں کا دورہ کیا اور پانی کی نکاسی کا جائزہ لیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق مزید دو دنوں یعنی آج اور کل درمیانہ درجے سے انتہائی موسلا دھار بارش متوقع ہے۔محکمہ موسمیات نے بالائی مقامات پر رہنے والے لوگوں کو محتاط رہنے کو کہا ہے جبکہ سیاحوں اور ٹریکروں کو پہاڑوں یا ندیوں کے کناروں پر کیمپ لگانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔محکمہ نے جموں و کشمیر کے دونوں صوبوں کے صوبائی کمشنروں کو انتباہ جاری کیا ہے کہ 21 جولائی تک بارش ہونے کا زیادہ امکان ہے۔اس دوران وسیع پیمانے پر بارش کے ساتھ ساتھ آسمانی بجلی اور گرج چمک کا بھی امکان ہے۔