کشمیری عوام کو بٹنوں کے سہارے جینے کی عادت پڑ گئی ہے۔ حکام کبھی مواصلاتی نظام کا بٹن بند کرتے ہیں اور کبھی لوگوں کی نقل و حمل کا۔جیسے ایک ماہر کسی مشین کو اپنی مرضی کے مطابق چالو یا بند کرتا ہے ، بعینہ ویسے ہی کشمیری عوام بھی جی رہے ہیں۔ایک بٹن دبایا گیا تو وہ ڈیجیٹل ہوجاتے ہیں جبکہ دوسرا بٹن دباتے ہی وہ ماقی ماندہ دنیا سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ ایسا کرنے کیلئے حکام کے پاس اپنے دلائل ہیں کہ ’’اس سے امن و قانون کی صورتحال قائم رکھی جاتی ہے‘‘ ،لیکن اس عمل سے یہاں رہنے والے لوگوں ،خاص کر طالب علموں، تاجروں اور پیشہ وروں کو کس قدر اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے! اس کا اندازہ لگانے کیلئے کسی غیر مقامی شخص کا رد عمل اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مقامی لوگ تو اس طرز عمل کو زندگی کا حصہ سمجھ کر کب کا قبول کرچکے ہیں۔ایک فیس بُک استعمال کرنے والے پونے کے شہری کو جب اپنے ایک کشمیری دوست نے مطلع کیا کہ وادی کشمیر کے اندر کورونا لاک ڈائون کے دوران موصلاتی بندشوں کا بھی اطلاق عمل میں لایا گیا ہے تو پونے کا شہری بے اختیار کہہ اُٹھا’ ’کیا تم واقعی انسان ہو‘‘؟
بالفاظ دیگر باہری دنیا کا ماننا ہے کہ انٹر نیٹ اورموبائیل فون فی الوقت انسان کی بنیادی ضرورتوں کا حصہ ہیں۔ابھی ماضی قریب میں عدالت عظمیٰ نے بھی انٹرنیٹ کو بنیادی حقوق کا حصہ قرار دیا لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ سرینگر سے نئی دلی تک ارباب اختیار کشمیر کو دفاعی پس منظر میں ہی دیکھنے کے عادی ہیں، اسی لئے وہ انٹر نیٹ یا فون سروس کی بار بارمعطلی کو’’ قانون کے دائرے‘‘ میں قرار دیتے ہوئے اس کو ’’ ملکی سالمیت‘‘ و ’’قومی مفاد‘‘ کے کھاتے میں ڈالکر عدالت کے سامنے بھی صاف بچ نکلتے ہیں۔
ماہ مئی کی چھ تاریخ کو جب جنوبی کشمیر میں عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو کو فورسز نے جاں بحق کیا تو اہل وادی پوری دنیا کی طرح کورونا مخالف لاک ڈائون میں تھے۔ تب انٹر نیٹ و فون سروس کی معطلی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی لیکن سب کچھ اُن کے اندازوں کے بر عکس ہوگیا ۔لاک ڈائون کے ایام میں جب کہیں کوئی مسلح تصادم ہوتا تھا تو مخصوص علاقے میں ہی مواصلاتی نظام معطل کیا جاتا تھا ،لیکن ریاض نائیکو کی ہلاکت کے پس منظر میںحکام نے پوری وادی کو ایک بار پھر ’’بلیک ہول‘‘ کی نذر کردیا۔
بیشتر مبصرین کا ماننا ہے کہ مرکزی و مقامی سرکاریں کورونا لاک ڈائون کے دوران کشمیر کی ملی ٹینسی کیخلاف سخت اقدامات کرکے ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتی ہیں۔ جاری لاک ڈائون کے نتیجے میں فورسز کو کہیں بھی عوام کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے اور اُنہیں بندشیں عائد کرنے میں بھی زیادہ دقت نہیں ہوتی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ طبی بحران کے دوران ابھی تک30 سے زیادہ جنگجوئوں کو جاں بحق کیا گیا ہے ۔بقول ایک اعلیٰ پولیس آفیسر ’’ جنگجو مخالف آپریشن جاری رہیں گے کیونکہ ایسا لوگوں کے مفاد میں ہے‘‘۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سال 25مارچ سے7مئی تک مجموعی طور پر22تشدد کے واقعات پیش آئے۔ ان واقعات میں کل ملاکر61افراد کی ہلاکتیں ہوئیں جن میں 31جنگجو،2اُو جی ڈبلیو،18فورسز اہلکار اور10عام شہری شامل ہیں۔ان میں وہ تین عام شہری بھی شامل ہیں جو خط انتظام پر بھارت اور پاکستانی افواج کے مابین ہوئی گولہ بھاری کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے۔صرف ماہ جنواری کے دوران 26ہلاکتیں پیش آئیں جبکہ فروری میں13 اور مارچ میں بھی 13افراد ہلاک ہوگئے۔ماہ اپریل میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر44تک پہنچ گئی جبکہ ماہ مئی کے پہلے ہفتے میں15افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان میں حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور انصارغزوۃ الہند جیسی جنگجو تنظیموں کے سرکردہ کمانڈر شامل ہیں۔مذکورہ ذرائع کے مطابق فورسز نے پہلے لشکر کمانڈر حیدر، غزوۃ الہند کے کمانڈر برہان کوکا اور آخر پر حزب کے آپریشنل چیف ریاض نائیکو کو جاں بحق کرکے’’جنگجوئوں کو قیادت سے محروم کردیا‘‘۔ انسپکٹر جنرل پولیس، کشمیر رینج، وجے کمار کے مطابق’’یہ فورسز کیلئے بڑی کامیابیا ں ہیں اور ان سے یہاں ملی ٹنسی میں کمی واقع ہوگی‘‘۔آئی جی کشمیر نے رواں برس کے دوران اب تک 64جنگجوئوں کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا۔
دوسری طرف ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جنگجوئوں نے بھی فورسز کیخلاف حملوں میں شدت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ کچھ ہفتوں سے جنگجوئوں کی طرف سے گرینیڈ اور ایسے ہی حملوں میں تیزی آئی ہے۔جنگجوئوں کے حالیہ ہی دو حملوں کے نتیجے میں شمالی کشمیر کے ہندوارہ میں فوج کے ایک کرنل اور میجر سمیت آٹھ اہلکار ہلاک ہوگئے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ نئی دلی موجودہ صورتحال کو نہ صرف جنگجوئوں کیخلاف استعمال کررہی ہے بلکہ سیاسی سطح پر بھی ایسے قدامات کئے جارہے ہیں جن کے بارے میں عام حالات کے دوران رد عمل کی توقع تھی۔ان معاملات میں اقامتی قانون کا اعلان اور سالانہ دربار مو سے متعلق فیصلے بھی شامل ہیں۔ حکومت نے اقامتی قانون کا اعلان کورونا لاک ڈائون کے دوران ہی کرکے عام لوگوں کے رد عمل کو ناممکن بنایا اور اب دربار موکے سلسلے میں فیصلے کا انتظار ہے۔اس سلسلے میںعدالت عالیہ نے پہلے ہی حکومت کیلئے راہ ہموار کررکھی ہے ، اب اس ضمن میں آخری فیصلہ آنا ہی باقی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں سال رواں کے آخر تک حتمی فیصلہ متوقع ہے اور عین ممکن ہے کہ کم و بیش ڈیڑھ صدی پرانے اس عمل کا ختم کیا جائے گا۔
ایک طرف کورونا مہا ماری اور دوسری طرف ملی ٹنسی و اس کے مخالف آپریشن، کشمیری عوام کو جن حالات کا سامنا ہے اُس کیلئے لفظ’’بحران‘‘ بہت ہی ہلکا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اہل کشمیر کوایک ایسی جنگی صورتحال کا سامنا ہے جس میں اُن کی جان ومال کے ساتھ ساتھ اُن کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کو بھی خدشات لاحق ہیں۔ اُنہیں سیاسی قیادت کی کمی کا بھی سامنا ہے اور سیاسی عمل کی عدم موجودگی کا بھی۔ لوگ سمجھ نہیں پاتے ہیں کہ اُنہیں کس طرح حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے اور مبصرین و تجزیہ نگار آنے والے حالات کو لیکر فکر مند ہیں ۔اُن کا کہناہے کہ کورونا لاک ڈائون کے نتیجے میں پیدا صورتحال نے پہلے ہی یہاں کے بڑے مالی شعبوں کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے ،اور اب پیدا واری شعبہ بھی اس کی لپیٹ میں آنے والا ہے۔پرائیویٹ سیکٹر میں بے روزگار ہونے والوں کی تعداد ہوشربا ء ہے اور باہری دنیا میں کام کرنے وانے کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد بھی اپنا سب کچھ لٹاکر لوٹ رہی ہے!ایسے میں حصول روزگار کتنا مشکل ہونے والا ہے؟یہ سوال ہی ماہرین کے رونگٹے کھڑا کردیتا ہے!۔