مینڈھر//منکو ٹ تحصیل کی پنچائت گا ئنی میں پینے کے صاف پانی کی ہا ہا کا ر مچی ہو ئی ہے اور لو گ پانی ایک بو ند بو ند کے لئے ترس رہے ہیں کیو نکہ متعلقہ پنچائت پہا ڑی علا قہ میں واقع ہے۔ اس سلسلے میںسابقہ سرپنچ نظیر حسین چوہد ری کا کہنا ہے کہ ہما ری پنچائت ایک پہا ڑی علا قہ میں واقع ہے اور اپر گا نئی علا قہ میں پانی نہا ئت ہی قلت ہے۔ اس سلسلہ میں ہم نے کی بار افسر ان کے دفا تر کے چکر کا ٹے ہیں لیکن ہما رے بات کو ئی بھی سننے والا نہیں ہے ، انہو ں نے کہا کہ دور دراز علا قہ ہونے کی وہ سے جو کام سڑ ک پر وقع ہیں ا ن کو فو ج پانی سپلا ئی کر تی ہے اور متعلقہ افسر ان اور ملا زمین غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ ہم نے با ر با ر ملا زمین سے درخو است کی کہ پینے کے صاف پانی کی معقول بند وبست کیا جا ئے لیکن ان کا ہمیشہ یہی کہنا ہے کہ ہما رے پاس گا ڑیو ں کو کو ئی بھی بند بست نہیں ہے اور ایک ہی گا ڑی ہے وہ کہا ں تک پانی سپلا ئی کر ئے۔ سرپنچ کا مز ید کہنا تھا کہ جو ایک گا ڑی ہے وہ صرف لو گو ں کو لینٹرڈالنے کیلئے یا کسی اور کام کیلئے پانی کی سپلائی کرتی ہے ۔ لیکن لو گو ں کو پینے کیلئے پانی نہیں سپلائی کیا جاتا ہے اور اس پہا ڑی علا قہ پر بسنے والے لوگ پانی بو ند بو ند کیلئے ترس رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ با ر بار اپیل کر نے کے با وجو د بھی علا قہ میں پانی سپلا ئی نہیں کیا جا رہا ہے اور متعلقہ افسر ان کا کہنا ہے کہ پیسے دے کر پانی کی گا ڑی منگوا لو۔ اس سلسلہ میں جب اے ای ای مینڈھر سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہما رے پا س ایک ہی گا ڑی ہے اور ہر جگہ ہم پانی سپلا ئی کر کر سکتے ہیں۔ جبکہ ایکسن پونچھ کا کہنا ہے کہ ہم نے گا ڑیو ں کے لئے اعلی افسران کو خط لکھا ہو اہے کہ ہمیں گا ڑیو ں کی کمی ہے ، مز ید اور گا ڑیا ں دی جائیں تا کہ ہم لو گو ں کو پانی سپلا ئی کر سکیں۔