د و میں سے ایک بھی سڑک نہ بن پائی ،دیگر سہولیات بھی نہ دارد
منڈی //منڈی سے دس کلو میٹر دور پہاڑی پر آباد مارکوٹ علاقے کا شمار ضلع پونچھ کے پسماندہ ترین گائوں میںہوتاہے۔اس علاقے تک جانے کیلئے سڑک سے پیدل چل کر پہاڑ ی راستہ طے کرنے میںچار گھنٹوں سے زائد عرصہ کا وقت لگتاہے۔ یہ علاقہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔گائوںمیں سرکاری ا سکول کی بری حالت ہے جبکہ طبی مرکز بھی عدم توجہی کاشکار ہے ۔مقامی عوام کے مطابق کافی عرصہ قبل اس علاقہ کیلئے دو سڑکوں کاسنگ بنیاد رکھاگیاتاہم اس پر سیاسی لیڈروں نے تختیاں لگادیں اور کام نہیں ہوسکا۔انہوں نے کہاکہ ایک سڑک براچھڑ سے مارکوٹ اور دوسری سڑک منڈی راجپورہ سے مارکوٹ کو جانی تھی لیکن ان دونوں سڑکوں پر کام نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں سکول تو قائم ہیں لیکن ان میں اساتذہ باری باری آتے ہیں۔ان کاکہناہے کہ مقامی طلباء کولورن، پلیرہ اور لوہل بیلہ کے اسکولوں میں تعلیم کیلئے بھیجاگیاہے لیکن سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ان طلبا کو مشکلات کاسامناہے اور کئی طالب علم اپنے تعلیم ترک کرکے مزدوری کا پیشہ اختیار کرنے پر مجبورہوتے ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ علاقہ میں ایک طبی مرکز ہے لیکن اس میں کوئی ملازم مستقل بنیاد پر حاضر نہیں رہتا اورزیادہ تر عملے کو اٹیچ منٹوں پر دوسری جگہ رکھاگیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ طبی عملہ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں موجود ادویات کی مدت بھی ختم ہوجاتی ہے اور لوگوں کو کوئی فائدہ حاصل نہیںہورہا۔ان کاکہناہے کہ مقامی مسائل کے حل کیلئے ہر ایک سے اپیل کی گئی لیکن کسی نے کوئی توجہ نہیں دی ۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ پر زور دیاکہ ان کے گائوں تک سڑک کی تعمیر کو یقینی بنایاجائے اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں ۔مقامی شخص محمد رفیع کاکہناہے کہ سیاسی لیڈران ان کا دہائیوں سے استحصال کرتے آئے ہیں اور ان سے جھوٹے وعدوں کی بناپر ووٹ لئے جاتے رہے ۔انہوں نے کہاکہ وہ باربار کے وعدوں اور طفل تسلیوں سے تنگ آچکے ہیں اور اگر مسائل حل نہ ہوئے تو وہ آئندہ انتخابات میں بائیکاٹ کریں گے کیونکہ ایسے جمہوری عمل کا انہیں کیا فائدہ جس سے کامیابی حاصل کرنے والوں نے انہیں تمام تر سہولیات سے محروم رکھاہواہے۔