مدثر حسن مرچال
دنیا بھر میں موجودہ دور میں جو فتنے برپا ہیں، ان میں سائبر کرائم، عورتوں کے ساتھ زیادتی کے ساتھ ساتھ شراب نوشی اور منشیات کا استعمال بھی شامل ہے۔جدیدیت کے پیروکار اور ترقی یافتہ ملک امریکہ سے لے کر شرعی قانون پہ منحصر نظام کے پابند ملک سعودی عرب تک کم و بیش دنیا کے ہر خطے میں منشیات مخالف قوانین کو گزرتے وقت کے ساتھ سخت کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں ۔ جہاں ایک طرف منشیات کا کاروبار کرنے والے اور ان خطرناک دوائیوں کا استعمال کرنے والے نِت نئے طریقے تلاش کر اس بدعت کو پھیلانے کی طاق میں لگے رہتے ہیں وہیں حکومتیں اس بدعت کا قلع قمع کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کا پھیلاو ایسے ممالک میں اگرچہ مکمل طور ختم نہیں ہوا ہے لیکن اس میں اضافہ بھی تشویشناک حد تک نہیں ہوا ہے۔ہندوستان میں بھی پچھلے چند ہفتوں سے منشیات کے خلاف جلسوں، سمیناروں اور ریلیوں کے ساتھ ساتھ گھر گھر مہم جوئی کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن تقابلی اعتبار سے دیکھا جائے تو ہندوستان میں منشیات کے خلاف منظم لائحہ عمل ابھی تک نہیں دیکھا جارہا۔ اگر چہ کالجوں اور اسکولوں میں منشیات مخالف مہم کے نام پہ پروگراموں اور سمیناروں کا انعقاد کیا بھی جاتا ہے تاہم ابھی تک ایسے پروگرام زیادہ سود مند ثابت نہ ہو سکے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ لاکھوں کی لاگت پر منعقد کئے جانے والے پروگراموں، سمیناروں، ریلیوں اور جلسوں کے باوجود نشہ آور ادویات کا استعمال دن بہ دن سرعت کے ساتھ بڑھ رہا ہے؟ کیا اس منشیات مخالف مہم میں اخلاص ہے یا پھر یہ زبانی جمع خرچ کے سوا کُچھ نہیں؟ کیا واقعی حاکمِ وقت چاہتا ہے کہ نوجواں نسل اس زہر سے دُور رہے؟ مضمون ھٰذا میں ان ہی سوالوں کا جواب ٹٹولنے کی کوشش کی جائے گی۔
مندرجہ بالا سوالوں کے جواب میں دو اور سوال جنم لیتے ہیں ۔ اول یہ کہ منشیات مخالف مہم جوئی کے دوران کس طرح کا لائحہ عمل عملایا جاتا ہے؟ اور شراب اور منشیات کے متعلق حکومت کی پالیسی کس طرح کی ہے؟
مہم میں مستعمل لائحہ عمل : اول الذکر ڈرامہ، سکِٹ ، روف ، ناچ و نغمے اور تقاریر سے کسی بھی بدعت کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ تایخ گواہ ہے کہ جب جب بھی کسی بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا ، اس کا سامنا دلیری اور عقل مندی سے کیا گیا۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے بقول:؎
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیرِ اُمم کیا ہے
شمشیر و سنا اول طاوس و رباب آخر
ڈرامہ بازی یا ناچ گانا خالص منورنجن کا سامان ہوسکتا ہے نہ کہ کوئی فیصلہ کُن مہم۔ راقم اس بات سے بھی منکر نہیں کہ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے تقاریر یا پروگرام کئے جاسکتے ہیں لیکن خالص تقاریر اور سمیناروں کو ہی مہم کا نام دینا بھی عقل مندی نہیں۔ بات تقریر کی کریں تو تقریر سے تقدیر بدلے گی، ایسا ضروری نہیں ۔ اگر تقدیر بدل سکتی ہے تو صرف کردار سے، اور ٹھوس اقدام سے۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ تقریر سے بدلاو آسکتا ہے تو پھر تقریر میں وہ تاثیر اور وہ مادہ ہو، جو مُردوں میں جان ڈال دے ، سامعین کو سوچنے پر مجبور کرے اور مثبت اقدام اُٹھانے پر آمادہ کرے۔ لیکن ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ فی الحال جو سمیناروں اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے، ان میں سٹیج پہ بولنے والے افراد بے تُکی باتوں اور الزام تراشیوں سے سامعین کو مزید گمراہ کر دیتے ہیں ۔ مثال کے طور پہ حال ہی میں شمالی کشمیر کے ایک تعلیمی ادارے میں ایک صاحب، جسے منشیات مخالف پروگرام میں مہمانِ خصوصی کے طور مدعو کیا گیا تھا، نے شعلہ بیاں تقریر فرمائی جس میں انہوں نے منشیات کے پھیلاو کا سارا الزام ایک خاص طبقے پر لگایا اور جنابِ مقرر نے مسئلے کا رُخ ہی مذہب کی طرف موڈ دیا۔ مذکورہ مقرر نے مولویوں اور ائماء حضرات تک کو نہیں چھوڑا ۔ اپنی تقریر میں مزید آگے بڑھتے ہوئے مقرر کا کہنا تھا کہ سماج کو محض ڈاکٹر،انجینئر اور سائنسدانوں کی ضرورت ہے نہ کہ مولویوں کی، جنہوں نے سماج کو کُچھ نہیں دیا۔ اُن کی باتوں کا صاف مطلب یہ نکلتا تھا کہ انجینئر، ڈاکٹر اور سائنسدان یا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان منشیات سے دور ہے جبکہ مولوی صاحبان ہی منشیات کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اپنی بات کو وزن بخشتے ہوئے جناب کا کہنا تھا کہ مسلمان ممالک میں بھی جو ٹیکنالوجی پائی جاتی ہے، وہ بھی کسی انگریزکی دین ہے نہ کہ مذہبی راہنماؤں کی ۔ حالانکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ منشیات کے چنگل میں ہر طبقے اور ہر فکر سے منسلک افراد تاحال پھنسے ہوئے ہیں ۔ بہر کیف اس طرح کی تقریر ہو تو مدعے کا رُخ بدل سکتا ہے لیکن کوئی حل نکلنا بعید از امکان ہے۔ نیز ایسی تقاریر پہ مبنی پروگرام سوُد مند ثابت ہو ،یہ قطعی ممکن نہیں۔
منشیات کے تئیں حکومت کی پالیسی: جہاں ایک طرف سمینار اور ریلیاں کرکے منشیات پراور اس کا کاروبار کرنے والوں پہ لعن طعن کیا جارہا ہے وہیں سرکاری سطح پہ پچھلے چند سالوں میں کئی شراب کی دُکانیں کھولی گئیں۔ قارئین کو یادہی ہوگا کہ ۲۰۲۰ء میں کشمیر میں 67ایسی جگہوں کا انتخاب کیا گیا تھا ،جہاں پر شراب کی دوکانیں کھولنے کا سرکار نے فیصلہ لیا تھا۔اتنا ہی نہیں بلکہ چند رو ز قبل مشتہر ہوئے ایک حکمانے کے مطابق وادی کے ڈپاٹمنٹل سٹورز میں بھی اب شراب کو دستیاب رکھا جائے گا۔ کتھنی اور کرنی میں اس قدر تضاد ہو تو منشیات مخالف جنگ میں جیت ممکن کیسے ہوسکتی ہے؟ حکومتی اداروں کی شراب کے تئیں پالیسی خود ہی حکومت کی منشیات کے خلاف جنگ کی ناکامی کا ثبوت دے رہی ہے۔ منشیات کو ختم ہی کرنا ہے تواس میں شراب کو عام کرنے کے بجائے نایاب کرنے کی کوششیں تیز ہونی چاہئے۔ خطۂ کشمیر جب تک کُلی طور پر شراب سے پاک نہیں ہوتا تب تک نشے کے خلاف بات کرنا اور تقاریر کرنا زبانی جمع خرچ سے زیادہ کُچھ نہیں ۔
عام کشمیری کا رول:
جیسا کہ راقم الحروف پہلے ہی عرض کر چُکا کہ حکومت منشیات کے خلاف ایک ایسی جنگ لڑ رہی ہے، جس کی کامیابی کے امکانات نہ کے برابر ہیں۔اب ایسے میں عام کشمیری نوجوان اور بزرگوں پر مزید ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں ۔
۱۔ منشیات کا کاروبار کرنے والے افراد کے ساتھ لین دین کو ترک کرنا لازمی ہے۔
۲۔ نشہ کرنے والوں کے بارے میں فوراً متعلقہ محکمے سے رابطے کیا جانا چاہئے۔
۳۔ اپنے بچوں کے کمرے، اسکولی بیگ، یا الماری وغیرہ کا وقت وقت پہ اچانک جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاکہ کسی بھی خطرے کے بارے میں وقت سے پہلے معلوم ہو سکے۔
۴۔ بچوں کے مزاج میں ذرا ذرا سی تبدیلی کو جانچ کر فوراً اس کی وجہ دریافت کرنا ہوشمند والدین کی نشانی ہے، اس حق کا استعمال کیا جائے۔
۵۔بچے کے موبائل کا وقت وقت پہ جائزہ لیا جانا چاہئے اور بچہ کس کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا ہے، اس کا خاص خیال رکھا جانا چاہئے۔
۶۔ محلہ سطح پہ جو کمیٹیاں اور انجمنیں پہلے سے ہی قائم ہیں، ان پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ خاص اوقات میں، جس میں شام سے عشاء کے بیچ کا وقت ہے، ندی نالوں کے کناروں پر، سنسان گلیوں پر اور ایسی ہی باقی مشکوک جگہوں پر گشت لگایا کریں تاکہ کسی بھی نشہ کرنے والے نوجوان کو وقت پر روکا جا سکے، گرفتار کرایا جا سکے یااسے قابو کیا جاسکے۔ محلہ کمیٹیوں کے لئے اس بڑی کوئی اور ذمہ داری نہیں ہو سکتی۔
(ہردوشیوا ،زینہ گیر)
[email protected]