یو این آئی
نئی دہلی//اسمبلی انتخابات کی ووٹوں کی گنتی کے رجحانات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مغربی بنگال میں بھاری اکثریت کے ساتھ جیت کی خوشی یہاں بی جے پی کارکنوں میں کل صبح سے ہی صاف نظر آ ئی ۔پورا بی جے پی ہیڈ کوارٹرجشن مناتا رہا ۔ ہر طرف بی جے پی کارکن بنگال میں ملی تاریخی جیت کا تذکرہ کرتے نظر آئے۔ پارٹی ہیڈ کوارٹر میں بنگلہ گیت بجائے گئے۔ خاص طور پر انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کی جانب سے ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے تیار کیے گئے گیت گونجتے رہے۔ بنگال میں ملنے والی جیت کی خوشی کا اظہار کرنے کے لیے بی جے پی کارکنوں نے یہاںجھال موڑی کے اسٹال لگا رکھے تھے۔ جھال موڑی کا اسٹال لگانے والے کارکنوں کا کہنا تھا کہ پہلی بار شیاما پرساد مکھرجی کی سرزمین بھگوا رنگ میں رنگی ہے۔ پہلی بار مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ ممتا بنرجی کے دورِ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ ترنمول کانگریس کا جنگل راج ختم ہو گیا ہے۔ اب بنگال میں ترقی ہوگی۔ ہم اس پر خوش ہیں اور اسی خوشی میں لوگوں کو جھال موڑی کھلا رہے ہیں۔بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں پارٹی کارکنوں نے گلال لگا کر ایک دوسرے کو جیت کی مبارکباد دی۔ پورا بی جے پی ہیڈ کوارٹر جے شری رام کے نعروں سے گونج رہا تھا۔آسام، کیرالم، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی پیر کی صبح شروع ہوئی۔ ساتھ ہی، نئی دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہیڈکوارٹر میں تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، جہاں پارٹی کارکنوں اور حامیوں کے لیے روایتی ‘پوریاں اور مٹھائیاں تیار کرنے میں مصروف تھے۔ایک شیف نے تیار کی جانے والی مختلف ڈشوں کے بارے میں تفصیلات شیئر کیں۔ انہوں نے کہا، “ہم صبح 4 بجے سے تیاری کر رہے ہیں۔ تقریباً 400 سے 500 لوگوں کے لیے کھانا تیار کیا جا رہا ہے۔ ناشتے کے مینو میں سینڈوچ، آلو پوری، پوہا، اور جلیبی سمیت متعدد اشیاء شامل ہیں۔”باورچی نے مزید کہا کہ کھانے کے ساتھ ساتھ تازہ پھل، لسی، ربڑی اور روایتی مشتی دوئی بھی تیار کی گئی ہے۔ دوپہر کے کھانے کے انتظامات کے بارے میں، شیف نے کہا، “دوپہر کے کھانے کے لیے ہمارے پاس دال تڑکا، کڑھی پکوڑا، پروال آلو، چاول اور پاپڑ ہیں۔” اس موقع کو مزید پروقار بنانے کے لیے، میٹھے کے مینو میں خاص طور پر بنگالی رس گلے اور جلیبیاں شامل ہیں۔مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے پیر کو مغربی بنگال کی صورتحال پر ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنانے کی دیرینہ خواہش وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پوری ہو گئی ہے۔ریاست میں سیاسی تبدیلی کو ایک بڑا سنگ میل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ صرف بنگال کی جیت نہیں ہے، یہ پورے ہندوستان کی جیت ہے۔ بنگال میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ ووٹ بینک کی سیاست کا نتیجہ تھا۔ غیر قانونی دراندازی نے بنگال کو تباہ کر دیا تھا۔ وہاں بدامنی تھی اور اس کے لیے ٹی ایم سی حکومت ذمہ دار تھی۔
مغربی بنگال میں آزادی کے بعد سب سے زیادہ ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جہاں دوسرے مرحلے میں 91.66 فیصد پولنگ ہوئی، جبکہ پہلے مرحلے میں 93.19 فیصد ووٹنگ ہوئی، اس طرح مجموعی ووٹنگ 92.47 فیصد رہی۔سال 2021 کے اسمبلی انتخابات میں ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس نے 294 میں سے 213 نشستیں جیت کر واضح کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ بی جے پی 77 نشستوں کے ساتھ بڑی اپوزیشن کے طور پر ابھری تھی۔ بائیں بازو اور کانگریس اتحاد کوئی نشست حاصل نہیں کر سکا تھا۔