سرنکوٹ// راجوری پونچھ کو کشمیر سے جوڑنے والی سڑک مغل شاہراہ اس قدر خستہ حالی کاشکار ہوچکی ہے کہ کئی مقامات سے اس کا نام و نشان ہی مٹ چکاہے جبکہ بڑے بڑے کھڈوں میں گاڑیاں تباہ ہورہی ہیں ۔اس سڑک کی تعمیر سے دونوں خطوں کے درمیان دوریاں مٹ گئیں اور اقتصادی و سماجی ترقی کی راہ ہموار ہوئی تاہم حکام نے تعمیر کرنے کے بعد اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور اسے ایسے ہی چھوڑ دیاگیا۔ چندی مڑھ کے محمد ریاض کاکہناہے کہ مغل شاہرہ پر سفر کرنا مشکل بنتاجارہاہے اوراس کی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس روڈ کو قومی شاہراہ کا درجہ دینے کے خواب دکھائے گئے تاہم اس کی مرمت کیلئے بھی اقدامات نہیں کئے جارہے اوریہی وجہ ہے کہ اس اہم اور تاریخی روڈ کی حالت دیگر گو ں بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایسا لگتاہے جیسے اس روڈ کا کوئی وارث ہی نہیں۔مقامی شہری محمد شفیع چاڑک کاکہناہے کہ مغل شاہرہ پر اتنے گہرے کھڈے بن گئے ہیں جہاں سے گزرتے ہوئے گاڑیوں کو نقصان پہنچتاہے تاہم حکام غفلت کی نیند سورہے ہیں اور اس شاہراہ پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ان کاکہناہے کہ ان کھڈوں کی وجہ سے کوئی بڑا حادثہ رونماہوسکتاہے جس کی ذمہ داری حکام پر عائد ہوگی ۔روڈ پر نالیاں بھی مٹ گئی ہیں جس کی وجہ سے بارشوں کے دوران پانی کھڈوں میں بھرجاتاہے ۔مقامی لوگوں نے ڈپٹی کمشنر پونچھ سے اپیل کی کہ وہ مغل شاہراہ کی مرمت اوراس کی دیکھ ریکھ کا معاملہ حکام سے اٹھائیں۔