سرنکوٹ //حکومت ہند نے خطہ پیر پنچال کو وادی کشمیر سے ملانے والی تاریخی مغل روڈ کو قومی شاہراہ کادرجہ دینے سے قبل ڈی پی آر تیار کرنے کو منظوری دی ہے جس پر خطہ پیر پنچال کے لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید کی ہے کہ اس سے ان کی دیرینہ مانگ کی تعبیر ہوگی ۔ایک اہم پیشرفت کے طور پرمرکزی وزارت برائے روڈ ٹرانسپورٹ و ہائی ویز کے تحت کام کرنے والی نیشنل ہائی ویز انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈ کمپنی نے مغل شاہراہ کو قومی درجہ دینے سے قبل جامع پروجیکٹ رپورٹ تیار کرنے کیلئے اہل مشاوروں سے پرپوزل طلب کئے ہیں ۔اس رپورٹ میں یہ دیکھاجائے گاکہ اس روڈ پر کتنی گاڑیاں چلتی ہیں اور اس کے بعد یہ طے ہوگاکہ کیا یہ روڈ قومی شاہراہ کادرجہ پانے کے قابل ہے یا نہیں ۔واضح رہے کہ مرکز نے اس سے قبل اصولی طور پر اس روڈ کو قومی شاہراہ کادرجہ دینے پر اتفاق کیاتھا۔اس پیشرفت پر خطہ پیر پنچال کی سیاسی و سماجی تنظیموں و عام لوگوں نے خوشی کا اظہار کیاہے تاہم ان کاکہناہے کہ ڈی پی آر تیار کرنے کے ہر صورت میں اس روڈ کو قومی شاہراہ کادرجہ دیاجائے اور ایسی رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں تاکہ اس کو یہ درجہ نہ مل سکے ۔ انہوں نے کہاکہ مغل شاہراہ ریاست کے دونوں خطوں کے درمیان ایک بہترین متبادل بن کر سامنے آئی ہے اورچھوٹے چھوٹے پروجیکٹوں کو بھی قومی شاہراہ کا درجہ مل سکتاہے تو پھر مغل شاہراہ کیوں یہ درجہ نہیں پاسکے گی ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ اس عمل کو جلد سے جلد مکمل کرکے روڈ کو قومی شاہراہ کادرجہ دے کر اسے اچھی طرح سے تعمیر کیاجائے اوراسے سا ل بھر چالو رکھنے لئے ٹنل بنایاجائے جو اس خطے کے عوام کی دیرینہ مانگ ہے اورجس کا بارہا حکومتوں نے وعدہ بھی کیاہے۔
مغل شاہراہ پر ٹریفک بحال
بختیار حسین
سرنکوٹ// عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے مقتول کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے موقعہ پر کشمیر میں ہڑتال کے پیش نظر مغل شاہراہ بند رہنے کے بعد دوبارہ سے کھول دی گئی جس دوران دونوں طرف سے گاڑیاں پیر گلی کے آر پار ہوئیں ۔گزشتہ رو ز حکام کی طرف سے شاہراہ کو ٹریفک کیلئے بند رکھاگیاتھا جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مسافر درماندہ ہوکر رہ گئے اور وہ اپنی اپنی منزل کو نہیں پہنچ سکے ۔ برہان وانی کی برسی پر ضلع پونچھ سے کسی بھی گاڑی کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی تاہم پیر کے روز ٹریفک پھر سے بحال ہوگئی ۔