نعیم الحق
کسی بھی قوم یا معاشرے کے زوال کی وجوہات کا اندازہ مختلف پہلوئوں سے لگایا جا سکتا ہے لیکن مسلم معاشروںمیں جس چیز نے سب سے زیادہ بگاڑپیدا کیا ہے ،اُس میں اخلاقی پستی ،ذہنی غلامی ،ایک دوسرے پر عدم اعتماد اور حق وانصاف کی عدم فراہمی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاں کہیں بھی ذہنی غلامی اور اخلاقی پسماندگی کا بول بالا ہوا، وہاں مادیت کا دور دورہ ہوگیااورجہاں مادیت غلبہ پاگئی ،وہاںہر سطح پر اور ہر معاملے میں حق و انصاف کی فراہمی ناپید ہو گئی، جہاںانصاف کا نظام بکھر گیا ،وہاں نچلی سطح پر پہنچ کر دو نظام میںتقسیم ہوکر رہ گیا ۔ایک امیر اور طاقتور طبقہ کیلئے اور دوسرا غریب عوام کیلئے۔ جس کے نتیجے میں قوم یا معاشرے میں انتہائی بُرے اورمنفی تاثرات قائم ہوگئےاورپھر زوال پزیری اُس قوم اور معاشرےکی مقدر بن گئی۔ظاہر ہے کہ معاشروں کا زوال ایک ایسا منفی رحجان ہے جس میں معاشرتی بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر تو اپنے کئے پر شادیانے بجا رہے ہوتے ہیں لیکن جو طبقات اس رحجان سے متاثر ہوجاتے ہیں،اُن کے لئے نہ تو اس کی وسعت کو سمجھنا آسان ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی مزاحمت کے لئے کسی تدبیر کا سامان مہیا رہتا ہے۔حال ہی میں عید الضحیٰ کے موقعے پر ہمارے یہاں بھی سنت ِ ابراہیمیؑ کے تحت بے شمار حلال جانورقربانی کے لئے ذبح کئے گئے،حالانکہ ہر مسلمان جانتا ہےکہ قربانی کا مطلب محض حلال جانور کا خون بہانا نہیںاور نہ اللہ تعالیٰ کو جانوروں کے خون اور گوشت کی ضرورت ہے،بلکہ قربانی کا مفہوم کچھ اور بھی ہے۔ظاہر ہے کہ قربانی کا لفظ ’قرب‘ سے بنا ہے اور قُرب کا معنیٰ نزدیک ہونا ہے۔گویا قربانی کے ذریعے اللہ کا قُرب حاصل کرنا ہےاور اِس قربت کو پانے کے لئے حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسمٰعیل ؑ کو جن امتحانات سے گذرنا پڑا ،اور جس محبت و حلیمی ،سخی و نرم دلی ،شرافت و عاجزی اور شرم و حیا کے پیکربن کردین و دنیا کے تمام معاملات میںمصروفِ عمل رہیں، ہر مسلمان کے لئے اُن کو جاننے اور سمجھنے کے ساتھ ساتھ اُن پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ورنہ ہماری یہ قربانیاںقبول ہونگی،کہنا بہت مشکل ہے۔
آج ہم جس مادیت کےدور سے گزر رہے ہیں،اُس کے منفی اثرات ہم سب پر پڑچکے ہیں،اور ہمارے یہاں بھی وہی کچھ ہورہا ہے جو ہمارے لئےزوال پذیری کا پیشِ خیمہ بن رہا ہے۔جن باتوں کی ہمیں فکر ہونی چاہئے تھی، اُن کا ہمیں کوئی احساس تک نہیں۔مادیت پرستی اور نفس پرستی کے بے لگام رَو نےتو ہمیں فکر ِ آخرت سے کوسوں دور کردیا ہےاور دُنیاوی چنگل میں اس طرح جھکڑگئےہیں کہ جس سے نکلنا اب مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔
ہم یہاں اگر صرف اپنی سرزمین وادی کشمیر کی ہی بات کریںتویہ وادی نہ صرف’’ جنت ِبے نظیر‘‘ بلکہ ’’پیروار‘ ‘بھی کہلاتی ہےاور اس’ نام‘ سے مشہور بھی ہے ۔کیونکہ یہ سر زمین ریشیوں،منیوں اورولیوں سے شادو آبادرہی ہے،لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس شاداب وادی کے لوگوں میں مادیت کا کیڑا پڑگیا،جس نے انہیںکُرید کُرید کر مختلف ظاہری اور باطنی بیماریوں میں مبتلا کردیا اور نتیجتاً وادیٔ کشمیر کے بیشتر لوگ اپنے اسلاف سے منہ موڑتے گئے،جس کا بھرپورفائدہ وقت وقت کے حکمرانوں نے اُٹھایا اور اُنہیں فکری طور پر غلام بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ پھر صورت حال یہاں تک آپہنچی کہ جس وادی ٔ کشمیر کو جنت ِ بے نظیر کے نام سے جانا جاتا تھا ،وہ جہنم کا نظارہ بن گئی ہے ۔بغور دیکھا جائے اس شادا ب وادی کو لوٹنے اور تباہ و بُرباد کرنے میں غیروں کا اُتنا ہاتھ نہیں رہا جتنا کہ اپنوں کا رہا ہے۔مادیت ،ہوس ،بے حسی اور ذہنی غلامی کے تحت یہاں کے لوگوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اس جنت کشمیر تہس نہس کرکے رکھ دیا ۔جبکہ آج بھی ہمیں اپنی بے حسی و ذہنی غلامی کے روایتی عالم میں نہ اپنے دین کی خبر ہے اور نہ دُنیا کی،شایداسی لئے اللہ بھی ہم سے ناراض ہے۔جس کے نتیجے میں اب ہماری معاشی حالت بھی دن بہ دن خستہ ہوتی جارہی ہے۔آج سے چار پانچ سال قبل تک یہاںنامساعد صورت حال کے دوران کئی کئی مہینوں تک ہڑتالیں رہنے کے باوجودہماری معاشی حالت اتنی خستہ نہیں تھی جتنی کہ آج ہے۔دفعہ370کوہٹانے جانے اور جموں وکشمیر کو یو ٹی بنانے کے بعدبھی صورت حال میں ذرہ بھر بہتری نہیں آئی بلکہ پہلے سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ایک طر ف میڈیا سےروزانہ یہ خبریں سُننے میں آرہی ہیں کہ جموںو کشمیر ترقی کی طرف رواں دواں ہےلیکن جب زمینی سطح کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ سوال اُبھر کر سامنے آرہا ہے ۔کیا واقعی ترقی ہورہی ہے؟کیا یہی ترقی ہے کہ جموں کشمیرمیں پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 46.3فیصد تک ریکارڈ ہوئی ہےاور خواتین میں بے روزگاری کی شرح67.3فیصد تک پہنچ گئی ہےجبکہ پورے مُلک میں جموں کشمیر بے روزگاری کے معاملے میں دوسرے نمبر پر ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اصل وجہ کیا ہے ۔کہیں ہم اِس ساری صورت حال کے خود ذمہ دارتو نہیں!کیونکہ ہم بھی تو ایک ہی ڈگر پر نہیں رہتے ہیں۔ہم وہ بھی تو ہیں جو کہ آزادی بھی،سرکاری نوکری بھی،اورمفت میں راشن ،پانی اور بجلی بھی چاہتے ہیںاور ہر کسی کام میں اپنا بڑانام بھی چاہتے ہیں۔کیا ایسے ہی یہ سب چیزیں مل جاتی ہیں۔ہرگز نہیں! ہمیں اپنے اعمال پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے،اپنے آپ میں سُدھار لانے کی ضرورت ہےاور پھر یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں کیا چاہے اور ہم کیا چاہتے ہیں۔ ہماری معاشی حالت خستہ ہے،بے روزگاری بڑھ رہی ہے،انصاف نہیں ملتا ،حقوق کی پامالی ہورہی ہے۔ یہ سب گلے شکوےشایداب ہمیں زیب نہیں دیتے۔کیونکہ علم و عمل،احساسِ ذمہ داری،اخلاص،شائستگی،حلیمی ،شرم و حیا،نرم روی ، ہمت ،محبت و جذبۂ قربانی کے بغیر کوئی چیز حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔نجی مفادات ،خود غرضی ،لالچ اور شکم پرستی جہاں انسان کو انسانیت سے دور کردیتی ہے وہیں دین ِ ایمان سے بھی کوسوں دورلے جاتی ہےاور پھر حریص بناکر ایک دوسرے کا دشمن بنا ڈالتی ہے۔انہی عوامل سے معاشرہ زوال پذیر ہوتا ہے جہاں ہر شخص ایسے طریقے اور ذرائع استعمال کرتا ہے جو ذاتی سطح پر مناسب سمجھے جاتے ہیں۔ بنیادی طورپر عوام کو انصاف سے محروم رکھنے والا معاشرے کو اسی استحصالی طبقے نے ہائی جیک کیاہوتا ہےاور یہ طبقہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے جو اپنے آپ کو نہ جواب دہ سمجھتے ہیںاور نہ ہی قانون اور قاعدے کے مطابق زندگی گزارنے کے عادی ہوتے ہیں۔ جبکہ حق بات بھی یہی ہے کہ مادیت اوراس نفس پرستی،ذاتی مفادات کے حصول کی اس جنگ کی باعث ہی آج اُمت ِ مسلمہ کو افتراق و انتشار کے انبار دیکھنے کو ملتے ہیںاورزوال پذیری کا یہ صورت حال تیزی کے ساتھ مسلم معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
(رابطہ۔9797970528)