شہاب حمزہ
موجودہ دور میں مسلم معاشرہ تقریبا ًپستی کے آخری حد تک کا سفر طے کر چکا ہے ۔ زوال پذیر معاشرے میں کوئی ایسا ایک شعبہ بھی نہیں جس پر تاریخ رقم کی جائے اور مورخ شرمندگی کا احساس نہ کرے ۔اقتصادی طور پر ہمارا معاشرہ ملک بدترین معاشرے کی ایک مثال ہے۔ مفلسی اور غریبی معاشرے کا مقدر بن چکا ہے ۔سیاسی طور پر بھی ہمارا کہیں نام و نشان نہیں ۔یہ واضح حقیقت ہے کہ ملک کی سیاست میں ہماری کوئی شراکت نہیں، ہمارا کوئی کردار نہیں ۔ اگر علاقائی نمائندگی کی بھی بات کی جائے تو ملک کے کسی بھی حصے میں ہماری کوئی قابل قدر نمائندگی بھی نہیں۔ اگر محض ووٹ کی سیاست کی بات ہو تو جہاں تعداد کے اعتبار سے ہمارا شمار مضبوط ہے لیکن وہاں بھی ہم اس قدر انتشار کے شکار ہیں کہ اچھی خاصی تعداد کے باوجود ایک فیصلہ کن اثر ڈالنے میں ناکام رہتے ہیں ۔ اگر علم و تعلیم کی بات کی جائے تو یہاں بھی ہماری اکثریت جہالت کی اندھی گہرائی میں دبی گڑی معلوم پڑتی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ہر گلی محلے اور قصبے میں تعلیم یافتہ لوگوں کا شمار انگلیوں میں کیا جا سکتا ہے ۔ اَن پڑھ جاہل اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں سے پورا معاشرہ بھرا پڑا ہے ،جہالت کی اسیری میں معاشرہ اس قدر جکڑا ہوا ہے کہ اس قید سے آزادی پانے میں طویل عرصے درکار ہوں گے۔ دینی ماحول عام طور پر معاشرے میں نہیں کے برابر دکھائی دیتا ہے ۔ ہر خطے اور علاقے میں دینی تعلیم کا فقدان ہے ۔معاشرے کا حال یہ ہے کہ مدرسوں کی تعلیم عیب شمار کی جانے لگی ہے۔ دینی تعلیم کی جانب گارجین کا بالکل رجحان نہیں ۔ دینی تعلیم کی کمی جہالت، لاعلمی اور غریبی کے معاشرے میں بے شمار برائیوں میں نے سر اٹھا لیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں اکثر برائی اس قدر داخل ہوگئ ہے کہ لوگ بُرائی کو برائی سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ اکثر علاقوں میں جوئے اور شراب کے اڈے مسلمان نوجوانوں کے بل بوتے پر چلتے ہیں ۔ ہم نے معاشرے میں شادی کو اس قدر مشکل بنا دیا ہے کہ عمر ڈھل جانےکے باوجود بھی بے شمار لڑکے اور لڑکیوں کی شادی نہیں ہوپاتی اور یہ معاملہ بھی معاشرے میں بُرائی کا اہم سبب بن گیا ہے ۔ نوجوان بے راہ روی کے شکار ہیں، زنا جیسا بڑا گناہ بھی فیشن میں شمار ہونے لگا ہے ۔گویازنا اور شراب جیسےگناہوں کو گناہ نہیں سمجھا جاتا ہے ۔
آج اس گناہ کے تعلق سے یہ بات اس لئے تحریر کر رہا ہوں کہ ایک واقعہ نے مجھے لکھنے پر مجبور کر دیا۔ میرا تعلق جہارکھنڈ کی راجدھانی رانچی کے ایک قصبہ اٹکی سے ہے ،جس کی آبادی تقریبا 70 سے 80 ہزار کے آس پاس ہے ۔ ہمارے یہاں ایک ہی قبرستان ہے، جہاں پورے قصبے کے جنازے دفن کیے جاتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل محلے کےایک شخص کے جنازے میں شرکت کے لیے قبرستان جانا پڑا۔قبرستان کی ایک جانب جہاں ہمارے اجداد دفن ہیں، اُسی جانب دعائے مغفرت کی غرض سے میں تنہا گیا تھا کہ اچانک میری نظر ایک قبر پر پڑی اور قبر کے اوپر جو چیز میں نے دیکھا ،میرے ہوش اڑ گئے ۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا کہ کیا یہ ممکن ہے ۔کیا قبروں کے بیچ قبرستان میں ایسا ہو سکتا ہے ۔ جس چیز پر میری نظر پڑی وہ مستعمل کنڈوم تھے ۔ جنازے میں شامل اس بھیڑ سے میں ایک فعال سماجی کارکن اور لائق نوجوان کو یہ منظر دکھایا ۔ ہم دونوں کے ساتھ وہاں ایک اور نوجوان شامل ہوگیا ،ادھر اُدھر نظریں دوڑائیں ،تو کہیں کہیں شراب کی خالی بوتلیں بھی پڑی تھیں۔ ہم اس بات پر حیران تھے کہ آخر قبرستان میں یہ کیا ہورہا ہے۔ پھر ہم نے ان غلیظ چیزوں کو اٹھاکر قبرستان کی باونڈری کے باہر پھینک دیا۔ اس واقعہ کا ذکر میں نے قصبے کی کئی لوگوں سے اس التجا کے ساتھ کیا ،اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ زنا جیسے گناہ کاعمل یا شراب نوشی قبرستان میں ہرگز نہ ہوں ۔ کئی مہینے گزر گئے،کسی بھی سمت سےاس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔یہ ہماری بے حسی کی علامت ہے ۔ میری اس تحریر کا مقصد فقط اپنے قصبہ کے گارجین کو بیدار کرنا نہیں بلکہ مسلم معاشرے کی ان تمام گارجین، لیڈران علماء اور ذمہ داروں کو بیدار کرنا ہے جو ہمارے معاشرے میں پھیلی ایسی بُرائیوں کو روکنے کی جانب قدم اٹھا سکیں، تاکہ ہمارے قبرستان صاف و پاک رہ سکیں۔افسوس ناک امر ہے کہ معاشرے کے لوگ اتنے بدذات اور بے غیرت ہوچکے ہیں کہ اب بڑے بڑے گناہوں کو انجام دینے کے لئے قبرستانوں کو اپنا ٹھکانہ بنا بیٹھے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم معاشرے میں پھیلے ایسی بُرائیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ معاشرے کے سبھی ذمہ دار حضرات سے گزارش ہے کہ خدارا، اپنے معاشرے میں پھیلی ہوئی بُرائیوں اور خرابیوں کو دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں، ورنہ مسلم معاشرے میںمزید تباہی کے مناظر سامنے آسکتے ہیں۔ اگر زنا جیسا عمل قبرستان میں ہونے لگے تو یہ ہمارے معاشرے کے لیے ان تہائی شرمندگی کا مقام ہے۔
<[email protected]>