تھنہ منڈی // تاریخی مغل شاہراہ پر واقع معروف زیارت پیر گلی میں بنیادی سہولیات کا فقدان جس کی وجہ سے اس مقام پر آنے والے زائرین اور سیلانیوں کو مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے ۔ جمو ں کو وادی کشمیر سے ملانے والی متبادل سڑک پر پیر گلی میں واقع حضرت احمد کریم شاہ ؒ کی معروف زیارت ہے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں زائرین و سیلانی روزانہ جاتے ہیں۔ یہ زیارت ضلع پونچھ اور ضلع شوپیان کے عین درمیان میں واقع ہے جو سطح سمندر سے 9000 ہزار فٹ کی اونچائی پر ہے۔ یہ زیارت تین سے چار ماہ تک برف سے ڈھکی رہتی ہے تاہم بقیہ مہینے لوگوں کا آناجانارہتاہے۔750 سو سال پرانی زیارت 2008 میں مغل شاہراہ تعمیر ہونے کے بعدسے کافی معروف مانی جاتی ہے اور سڑک پر سفر کرنے والے تمام مسافر اس زیارت پر حاضری دیتے ہیں۔ اس زیارت پر لاکھوں روپے چڑھا وا چڑھایاجاتاہے تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ زائرین اور سیلانیوں کیلئے بیٹھنے کا بھی کوئی بندو بست نہیں اور نہ ہی بیت الخلا کی سہولت ہے۔ سطح سمندر سے اونچائی پر ہونے کی وجہ سے بعد دوپہر موسم اکثرخراب ہو جاتا ہے اور اچانک خوشگوار موسم کے بعد دھند اور بارش برسنے لگتی ہے جس سے سردی میں اضافہ ہوتاہے لیکن سیلانیوں اور زائرین کو کسی بھی قسم کی سہولت نہیں جس کی وجہ سے انہیں پریشانی سے دوچار ہوناپڑتاہے۔ پیر گلی زیارت پر نماز کی ادائیگی کے لئے وضو بنانے کے لئے پانی دستیاب نہ ہے۔ اس زیارت پرپونچھ کے پوشانہ اور شوپیان کے ہیر پور علاقوں کے مجاور مشترکہ طور پر خدمات انجام دیتے ہیں ۔ بشیر احمد بٹ سکنہ ہیر پور اور بشیر احمد نائیک سکنہ پوشانہ نے بتایا کہ محکمہ وائلڈ لائف شوپیان کی رکاوٹوں کی وجہ سے زیارت شریف پیر گلی میں نہ بیت الخلاء تعمیر کیاجارہاہے اور نہ ہوئی کوئی شیڈتعمیر کرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیان کو بھی آگاہ کیا گیا ہے جبکہ ریاستی گورنر این این ووہراسے ان کے حالیہ دورے کے دوران زیارت شریف کے زائرین کیلئے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی اپیل کی گئی اور اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ کیا ان مطالبات پر عمل درآمد ہوتاہے یا نہیں۔