مشاہداتی کائنات ( universe Observeable)ایک ایسی اصطلاح ہے جس کے معنی اپنی آنکھوں اور اعلیٰ سائنسی آلات کے ذریعے دیکھے جانے کے قابل گوشہ کائنات اور یہ حصہ پوری کائنات کا صرف پانچ فی صد ہے۔جدید تحقیق کے مطابق یہ کائنات مشاہداتی کائنات سے تقریبا 250گنا بڑی ہے اور یہ کائنات اپنے ظاہر وباطن کی وجہ سے سائنسدانوں کے لئے مسلسل حیرانگی کا باعث بنی ہوئی ہے۔مشاہداتی کائنات کی حیرت انگیز وسعتوں نے انسان کے علم اور صلاحیتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ، دانش و بینش کی بلند پرواز کو محدود کر دیا ،فن و ہنر کے شاہکار کو شکست سے دوچار کردیا اور انسان کہہ پڑا :
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے ’کْن فَیَکْوں
انسان کی فطرت میں چونکہ کمند ڈالنا ہے اس لئے انسان اپنی بساط بھر اس کائنات کی پیمائش میں لگا ہوا ہے کبھی اس کی ابتداء پہ بات کرتا ہے اور کبھی انتہاء پہ،کبھی اس کے قطر کی بات کرتا ہے اور کبھی اس کے نصف ِ قطرکی ،کبھی اس میں پوشیدہ طاقتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی کائنات میں موجود مادہ کی ہیئت کو جاننے کی ۔اسطرح سے مسلسل کائنات پہ اپنی مشاہداتی اور تحقیقی نگاہ دوڑا رہا ہے لیکن ہر بار اس کی بصارت و عقل تھک کر زمین پہ موجود ایک ایسی کتاب کو تھامنے کی انسان کو اشارہ کرتی ہیں جس میں کائنات کو سمجھنے کا اصلی راز موجود ہے۔یہ کتاب ایسی ہے جس کی ایک ایک آیت میں جہانوں کے جہان پوشیدہ ہیں جس کے متعلق علامہ اقبال فرماتے ہیں
صد جہانِ تازہ در آیات اوست
عصرِ ہا پیچیدہ در آناتِ اوست
ایک ایسی کتاب جو جملہ مشکلات کا حل پیش کرتی ہے۔ایک ایسی کتاب جو انسان کو فلسفوں کے بارِ گراں سے آزاد کرتی ہے۔ایک ایسی کتاب جو سائنس کی سرپرستی کرکے اسے صراط مستقیم پہ چلانے کا ملکہ رکھتی ہے اور ایک ایسی کتاب جو ہزارہا سال سے درپیش مسائل کا حل چٹکیوں میں حاصل کرنے کا ہنر سکھاتی ہے۔ کائنات پہ تحقیق کرنے والے ماہرین و محققین کائنات کی سائنسی تعبیر بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی فلسفیانہ تعبیرات اس کی پراسرار ساخت،ہیبت ناک مناظر اور حیرت انگیز وسعت کی بنیاد پر بیان کرنے پر مجبور ہوتے ہیںکیونکہ جہاں پر سائنسی توجیہ بیان کرنا مشکل ہوتا ہے وہاں لامحالہ فلسفے کا سہارا لے کر کوئی نہ کوئی تعبیر بیان کرنی پڑتی ہے۔کائنات کی ناقابل ِ تسخیر وسعتوں کو دیکھ کر انسان بعض اوقات کائنات کو محض اپنے تخیل کا نتیجہ مانتا ہے یا اپنے دماغ کے خاکی مادے کا کمال سمجھتا ہے۔ایسا اس لئے ہے کیونکہ انسانی دماغ کی تفہیمِ کائنات کے حوالے سے جو حد ہے یہ کائنات اس سے کروڑوں گنا بڑی ہے۔اس وسعت کے پیش نظر جہاں سائنس پریشان ہے وہیں فلسفہ بھی اپنی بساط لپیٹنے پر مجبور ہے۔سائنس اور فلسفے کی راہ سے کائنات کو سمجھنے میں جو الجھن پیش آتی ہے اس کا تدارک مذہب کے راستے سے کہیں نہ کہیں قابل ِ تسکین ہے اور مذہب کا کامل اور اکمل نمونہ اسلام جس کی بنیاد قرآن پر ہے وہ اس حوالے سے انسان کی صحیح راہنمائی کرتا ہے۔سائنسی تحقیق کے مطابق جو بھی کچھ خارجی دنیا کا ادراک انسان کو حاصل ہوتا ہے وہ صرف ہمارے دماغ کا برقی سنگلس کی وجہ سے متحرک ہونے کا نتیجہ ہے۔اسطرح سے جدید سائنس انسان کو کائنات کے حوالے سے بے شمار اشکلات کے دلدل میں پھنساتی ہے لیکن قرآن انسان کو تصور روح ،تصورِ آزمائش اور تصور آخرت سے روشناس کرکے زندگی کا معنی سکھاتا ہے۔
سائنسی تحقیق کے مطابق کائنات کا صرف 5فی صد حصہ مادہ پر مشتمل ہے ،25فیصد ڈارک میٹر(matter Dark ) پر اور بقیہ 70فی صد ڈارک اینرجی (energy Dark )پر مشتمل ہے۔ ڈارک میٹر اور اینرجی کی اصلی حقیقت تک انسان کی تاہنوز رسائی ممکن نہ ہو سکی،اس لئے انسان نے متعدد تھیوریز پیش کرکے اس گتھتی کو سلجھانے کی کوشش کی ہے لیکن کسی صحیح اور واضح نقطہ نظر پر قیام کا فی الحال امکان نظر نہیں آتا ۔تاہم تاریک مادہ کی رسمی تعریف یوں بیان کی جاتی ہے "کہکشاؤں میں موجود ایسا مادہ جو نہ روشنی منعکس کرتا ہے، نہ کسی اور قسم کی توانائی، مگر یہ کہکشاؤں میں موجود ہے تبھی کہکشائیں اپنی موجودہ شکل میں موجود ہیں"۔ڈارک اینرجی توانائی کی وہ پراسرار قسم بتائی جاتی ہے جو کہکشاؤں کو تیزی سے بڑھتی ہوئی کشش سے ایک دوسرے سے دور کر رہی ہے۔ڈارک میٹراور اینرجی کی دریافت نے پوری دنیا کو چونکا دیا کہ یہ کیا چیزیںہیں جو موجود ہونے کے علی الرغم وجود کا کوئی حسی ثبوت فراہم نہیں کرتیں لیکن پھر بھی سائنس غیر مرئی اثر کی وجہ سے موئثر کے وجود کو قبول کررہی ہے۔ ڈارک میٹر،بلیک ہول ،انسانی کانشئس وغیرہ ایسے تصورات ہیں جن پر انسان پورے وثوق کے ساتھ کلام کرنے کے قابل تو نہیں لیکن اپنی فطرت سے مجبور ان میدانوں میں اپنی طالع آزمائی کر رہا ہے۔کائنات کے متعلق جتنا علم انسان مِّن عِلمِہ اِلَّا بِمَا شَائَ کے تحت حاصل کرتا ہے اس کی ایک ایک تہہ خدا کی کبریائی کی تفسیر بیان کرتی ہے ،ایک ایک نقطہ اس کے خالق ہونے پر دلالت کرتا ہے اور ایک ایک لفظ اس کے موجود ہونے کی گواہی پیش کرتا ہے۔قرآن اس تاریک مادہ اور تاریک قوت کے متعلق بھی انسان کو اشارہ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ ان پراسرار اور محیر العقول چیزوں کو دریافت کرنے کے بعد پھر کہیں خدا کے وجود کا انکاری نہ بن جائے بلکہ ان چیزوں میں بے شمار آیات پہچان کر خدا کی معرفت حاصل کرنے کا مستحق بن جائے۔قرآن انسان کو آفاق میں گم ہونے کے بدلے آفاق کو اپنے میں سمانے کے اصول بیان کرتا ہے،عالمِ مایوسی میں امید کے چراغ جلاتا ہے اور بے بسی میں قابو پانے کا جذبہ فراہم کرتا ہے۔جو بھی کوئی خاص چیز دریافت ہوتی ہے اس کا کسی نہ کسی انداز سے قرآن ضرور راہنما تعبیر پیش کرتا ہے تاکہ انسان کو اس ناپید بے کنار خزانہ سے نئی نئی دریافتوں کے متعلق بھی روحانی راہبری حاصل رہے۔تاریک مادہ اور اینرجی کے متعلق قرآن کی اس آیت پہ اگر نظر دوڑائی جائے تو کائنات کے ان پراسرار چیزوں کی تفہیم کا سرا ہاتھ میں لگتا ہوا محسوس ہوتا ہے "اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں ،پھر وہ اپنے عرش پر متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ان میں سے ہر ایک ، ایک وقت معین کیلئے ، گردش کرتا ہے۔ وہی کائنات کا انتظام فرماتا ہے اور اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے ، تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو"۔ستون کاکام قوت کشش کے برعکس چھت کو سہارا دینے کا ہوتا ہے تاکہ چھت ٹوٹ نہ جائے۔یہ کہیں وہی ستون تو نہیں ہے جس کی بات قرآن کر رہا ہے اور جسے انسان آج ڈارک اینرجی (Energy Dark )کا نام دے رہا ہے۔ قرآن مزید کہتا ہے"اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں اور اگر وہ ٹل جائیں تو اس کے بعد کوئی ان کو تھامنے والا نہیں بن سکتا۔ بیشک وہ نہایت بردبار اور بخشنے والا ہے "۔آج سائنس کہتی ہے کہ ڈارک اینرجی کے بغیر یہ کائنات سکڑ گئی ہوتی لیکن قرآن نے اس حقیقت کی طرف اشارہ 1442سال کرکے انسان کو تحقیق و تدقیق کی تحریک فراہم کی تھی۔تاریک مادہ انسانی حواس کی گرفت سے باہر ایک عجیب اور پر اسرار شئے ہے جس کے موجود ہونے پر سائنس کا یقین ایمان کے درجہ پر ہے۔ اگرچہ یہ مادہ انسانی مشاہدات و محسوسات کی بنا پر اپنا وجود ثابت نہیں کرتا لیکن اس کا موجود ہونا سائنسی طور مسلم تسلیم کیا جارہا ہے۔ہاورڈ یونیورسٹی کی پرفیسر لیزا رنڈال معروف سائنسی جریدہ "دی نیچر "میں لکھتی ہے "کسی نے اس مادہ کو آنکھوں یا نہایت اعلیٰ آپٹیکل آلہ سے نہیں دیکھا ہے۔لیکن پھر بھی اس کی گریویٹیشنل اثرات کی بنیاد پر اس کا موجود ہونا یقینی ہے"۔انسان کی نگاہوں سے یکسر اوجھل اس مادہ کا وجود انسانی علم میں ایک مقام پیدا کر رہا ہے جس کی طرف قرآن کی آیت ومالا تبصرون اشارہ تو نہیں کرتی ؛’’پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو! اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے! "واللہ اعلم۔
کائنات کی بعید ترین پیچیدہ و دھندلی تصاویر لے کر انسان اپنے علم و تجربہ،مہارت و دانائی اور عقل و فہم کی تمام کامیابیوں کے ساتھ اس کائنات میں گم ہو جاتا ہے جہاں سے اسے خود سے نکلنے کا کوئی بھی امکان نظر نہیں آتا اور وہ نتیجتاً ایک اضطراب اور ہیجانی کیفیت سے دوچار رہتا ہے۔وہ بعض اوقات اپنے اضطرب کے علاج کے لئے مذہب کی طرف بڑھنے لگتا ہے لیکن تحریف شدہ کتب کی موشگافیاں اسے مزید حقیقت سے دور کرتی ہیں۔اس کے برعکس اگروہ اس کائنات کے راز افشا کرنے والی کتاب قرآن مجید کے سامنے بیٹھ جائے اسے اپنے اضطراب و ہیجان کا حل مل جاتا ہے وہ اپنی تمام مشکلات کا حل اس قرآن میں پاتا ہے۔اعلیٰ سے اعلیٰ دوربین ایجاد کرکے جہازِ بصارت سے دور دراز گوشوں میں سفر کرنے والا انسان اس کائنات کے ایج(edge) کو دریافت کرنے سے یکسر قاصر ہے۔حالیہ سائنسی تخمینہ کے مطابق کل کائنات قابلِ مشاہدہ کائنات کے مقابلے میں 250گنا بڑی ہے یا سات ٹریلین نوری سال اس کائنات کا قطر ہے۔کائنات کی اس وسعت عظمیٰ پر غور کرتے ہوئے انسان کے ذہن میں بے شمار سوال پیدا ہوتے ہیں۔
ان میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ کائنات محدود ہے یا لا محدود؟ اس سوال پہ سائنس پچھلے پچاس سال سے مسلسل نئے نئے مباحث پیش کرتی آئی ہے لیکن کسی ایک خیال پر اطمینان کرنا محال نظر آتا ہے یہ سوال انسان کی تخیلاتی دنیا میں اپنا ایک مقام ضرور رکھتا ہو لیکن عملی دنیا میں اس کا استقلال نہایت کمزور ہے۔سائنسی تخمینہ کے مطابق یہ کائنات 13.8بلین سال پہلے بگ بینگ کے ذریعے وجود میں آئی اور تب سے مسلسل پھیل رہی ہے۔انسان کے لئے یہ انتہائی مشکل ہے کہ وہ اس کائنات کو متفقہ طور محدود مان لے کیونکہ یہ اتنی وسیع و عریض ہے کہ اگر انسان تا قیام قیامت بھی روشنی کی رفتار سے چلے تب بھی اس کائنات کی حدود کو نہیں پا سکتا ہے۔اس لئے یہ زیادہ بہتر ہے اگر اس میدان میں تحقیق و تدقیق کائنات کو لامحدود مان کے کیا جائے تاکہ کہیں نا کہیں اسے اپنی خدا سے نافرمانی کی باغیانہ روش کے نقصانات نظر آئیں۔تکبر کے نشے میں انسان نے جن جن کوتاہیوں کا ارتکاب کیا ہے اس سے چھٹکارا پانے کے لئے انسان کو قرآن نے آفاق و انفس سے دلائل دے کر اسے اس کائنات میں اپنی صحیح حیثیت سے واقف کیا ہے۔اس تقرر سے سائنس حد بندی کے مفروضے سے آزاد ہو کر انسان کے لئے اس کی حیثیت کو کائنات کے مقابلے میں واضح کرنے میں آسانی پیدا کرے گی جس سے کہیں نہ کہیں انسان ضرور خالقِ کائنات کی طرف متوجہ ہونے لگتا ہے۔انسان سائنسی آلات کا استعمال ہوا، پانی، مٹی اور روشنی کو قابو میں لانے کے لئے کر سکتا ہے لیکن یہ ناممکن ہے کہ وہ اس سے اپنی خواہشات اور تمناؤں کو قابو کر سکتا ہے۔
انسان کی زندگی بھی لا محدود ہے، ابدیت کے اصول کے تحت اس دنیا میں چلی جارہی ہے جس کے مطابق اس دنیا میں مر جانے کے بعد ابدً ابدا والی زندگی کا سفر شروع ہوگا۔قرآن کی رو سے انسان کی زندگی کی ابتدا ضرور ہے لیکن منشائے الہی کے تحت اس کی انتہا یعنی حقیقی طور پر معدوم ہونا نوشتہ تقدیر میں نہیں لکھا گیا ہے۔دنیا میں الحاد کے علمبردار اپنی عیاشیوں کو حق بجانب ٹھہرانے کے لئے انسانی زندگی کو محدود مان کر اس کا کامل خاتمہ اس کی موت پر کر کے بظاہر اپنے آپ کو خدائے ذوالجلال کے حساب وکتاب سے فرار ہونے کی معنوی کوشش کر جاتے ہیں لیکن عملی طور جو کچھ پیش آنا ہے اسے ان کی حماقت اور پاگل پن ٹال نہیں سکتا۔اگر انسان عملی طور اس کائنات کی حد کو کبھی نہ پا سکتا ہے اور نہ سمجھ سکتا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنی زندگی کا آخری سرا موت مان کر دس ہزار سال سے اپنی زندگی پر غور کرتے آنا اور تا ہنوز اسے سمجھنے سے قاصر ہو کر حیات بعد الموت کا انکار کرے۔……(جاری)
ای میل۔[email protected]ۜ