لیفٹینٹ گورنر سے گجر بکروال ڈیلی گیشن سمیت متعدد وفود ملاقی | دوردرازعلاقوں کے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی:منوج سنہا
سرینگر//لیفٹینٹ گورنرمنوج سنہا نے اتوار کو راج بھون میں گوجربکروال طبقے کے150ممبران پر مشتمل ڈیلی گیشن جس میں بلاک ڈیولپمنٹ کونسل
چیئرمین،ممبراورمختلف اضلاع کے سرپنچ شامل تھے،سے تبادلہ خیال کیا۔طبقے کے ممبران نے اپنی آرائیں پیش کرتے ہوئے ایل جی کو انہیں درپیش مسائل مشکلات کی جانکاری دی اور انہیں حل کرنے کیلئے ان کی مداخلت طلب کی۔جموں میں گجربکروال طبقے کے ممبران سے میٹنگ کو یاد کرتے ہوئے ایل جی نے کہا کسی بھی طبقے کی ترقی کیلئے تعلیم نہایت ضروری ہے اور طبقے کے ممبران پرزوردیا کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے نور سے بہرہ مند کریں۔انہوں نے طبقے کی ترقی کیلئے مکمل سرکاری امداد دینے کایقین دلاتے ہوئے کہا کہ دوردرازاور پسماندہ علاقوں کے طلاب کے مستقبل کو روشن کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ایل جی نے کہا کہ دوردرازعلاقوں کے طلبہ ،جوناموافق موسم اور جغرافیائی حالات کی وجہ سے اسکول جانے سے قاصر ہیں،کیلئے محکمہ تعلیم جامع جائزہ پروگرام تیار کررہا ہے تاکہ ان کی کارکردگی کی جانچ کی جاسکے ۔لیفٹینٹ گورنر نے اعلان کیا کہ حکومت بلند بالامقامات پر رہنے والے طلبہ کو ٹیبلیٹ کمپوٹر فراہم کریں گی جن میں ان کیلئے تعلیمی مواداَپ لوڈ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کستورباودیالیائوں ،اور نو رہائشی اسکولوں کو جموں کشمیر کے مختلف حصوں میں قائم کیا جائے گاجہاں نئی گائیڈ لائنز کے تحت بہترتعلیم ،بہتر طعام،سلامتی اور تفریحی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ گجر بکروال ہوسٹلوں میں وارڈن،نائب وارڈن اور اساتذہ اوردیگر اسٹاف کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔موبائل اسکولوں کے حوالے سے کمیونٹی رہنماؤں کی طرف سے پیش کردہ مسائل اور مطالبات کا جواب دیتے ہوئے ، گورنر نے کہا کہ حکومت نے اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کے معاوضے میں اضافے کے لئے 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر میں موبائل اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے تمام امکانات تلاش کیے جائیں گے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ حکومت حقوق کی حفاظت کے لئے پرعزم ہے ، اس کے علاوہ ، کسی بھی شرائط یا امتیازی سلوک کے بغیرجموں کشمیر کی ہر جماعت کی بنیادی سہولیات اور سماجی و اقتصادی ترقی کو یقینی بنائے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’قبائلی برادری کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے مرکزی زیر انتظام خطے میں مختلف اسکیمیں شروع کی جارہی ہیں ، اس کے علاوہ دور دراز اور دور دراز علاقوں میں سڑکیں ، بجلی ، پانی ، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیمی سہولیات سمیت بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے دیگر اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے ‘‘۔انہوں نے قبائلی برادری کی قومی تعمیر میں ان کی گرانقدر شراکت کی بھی تعریف کی۔اس سے قبل ، اس طبقے کے ممبران کی سربراہی رفیق بلوٹ نے، گجر،بکروال برادری کی فلاح و بہبود اور مفاد کے لئے کام کرنے کے علاوہ ، قبائلی برادری کے مفادات کے لئے جنگل کے حقوق ایکٹ اور سیاسی ریزرویشن کے لئے کام کرنے پر لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر انتظامیہ سے اظہار تشکر کیا۔راج بھون میںجموں کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعددوفود ، افراد اورکھیل شخصیات نے لیفٹینٹ گورنر سے ملاقات کی ۔اعجازاحمدخان ضلع ترقیاتی کونسل تلیل ،بانڈی پورہ اوراوڑی کے پہاڑی یوتھ ایسوسی ایشن وفد نے گورنر سے ملاقات کرکے انہیں درپیش مسائل سے باخبر کیا۔پکھر پورہ کے ایک اور وفد نے ایڈوکیٹ رئیس احمد کی قیادت میں ایل جی سے ملاقات کرکے انہیں ایک یاداشت پیش کی ۔ اس دوران آبی کھیلوں کی کوچ مس بلقیس بھی ایل جی سے ملاقی ہوئی اور وادی میں آبی کھیلوں کے فروغ کیلئے اقدام کرنے کی مانگ کی ۔لیفٹینٹ گورنر نے سبھی وفود کو نغورسنا اور یقین دلایا کہ ان کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیاد پر حل کیا جائے گا۔
پہاڑی یوتھ ایسوسی ایشن وفد نے مسائل سے آگاہ کیا
ظفر اقبال
اوڑی//پہاڑی یوتھ ایسوسی ایشن اوڑی کے وفد نے لیفٹینٹ گورنر سے ملاقات کرکے انہیں اوڑی کے مسائل سے آگاہ کیا۔اتوار کو پہاڑی یوتھ ایسوسی ایشن کا ایک وفدصدر نوید بختیار کی قیادت میں راج بھون سرینگر میں جموں و کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقی ہوا اورانہیں اپنے علاقے کے مسائل سے آگاہ کیا۔وفد نے لیفٹینٹ گورنر کو اوڑی میں پہاڑی بولنے والے بچوں کے لئے حال ہی میں 60 لاکھ روپے تعلیمی وظیفہ حکام کی کوتاہی سے ضائع ہونے کی جانکاری دی۔ اس کے علاوہ وفد نے موصوف کو اوڑی میں پہاڑی سپیکنگ سرٹیفکیٹ اجرا ئی میں خواہشمندوں کودرپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔ وفد نے اوڑی کو سیاحتی نقشے پر لانے کی مانگ کرنے کے علاوہ اوڑی میں کھیل کود کی بہتر سہولیات مہیاکرانے، حد متارکہ پر گولہ باری سے متاثرہ لوگوں کو معقول معاوضہ دینے کے علاوہ اوڑی تحصیل دفتر جہاںگزشتہ قریب آٹھ ماہ سے تحصیلدار کی کرسی خالی پڑی ہے، تحصیلدار کاتقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔وفد کے مطابق لیفٹینٹ گورنر نے یقین دلایا کہ ان کے مسائل کو ترجیح بنیادپر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔
امرناتھ یاترا2021 | بصیرخان کا اننت ناگ کے ٹرانزٹ کیمپوں کا دورہ
اننت ناگ//لیفٹینٹ گورنر کے صلاح کار بصیراحمدخان نے اتوار کو امرناتھ یاترا ٹرانزٹ کیمپوں کا معائنہ کیااورامرناتھ یاتریوں کی سہولیت کیلئے کئے جارہے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ٹرانزٹ کیمپوں،فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے گودام واقع میربازار اور والنٹ فیکٹری قاضی گنڈ کا دورہ کیا۔بصیراحمد خان نے افسروں پرزوردیا کہ وہ پوترامرناتھ یاتراکے دوران یاتریوں کی سہولیات کیلئے تمام انتظامات مکمل کریں ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنراننت ناگ نے مشیر کوٹرانزٹ کیمپوں پریاتریوں کیلئے دستیاب رکھی جارہی سہولیات کے بارے میں روشناس کیااور یاتریوں کے سفر کو سہانا اور آرام دہ بنانے کیلئے کئے جارہے اقدامات کی بھی جانکاری دی۔صلاح کار نے بتایا کہ ٹرانزٹ کیمپوں میںچھ ہزار یاتریوں کے ٹھہرنے کی گنجائش ہے اور یہاں ان کیلئے ہرقسم کی سہولیات دستیاب ہیں.۔انہوں نے یاتراتیاریوں کاجائزہ لیتے ہوئے حکام کو ہدایت دی کہ وہ یاتریوں کے سفر کو آسان اور محفوظ بنانے کیلئے وقت پراقدام کریں ۔لیفٹینٹ گورنر کے مشیر نے یاترالنگروں کے قیام کے مقامات کی پہلے سے ہی نشاندہی کرنے کی ہدایت بھی دیاوریہاں روشنی کیلئے بجلی کی قمقمے نصب کرنے کی تلقین کی۔انہوں نے یاتریوں کیلئے اعلیٰ معیار کے بیت الخلاء مطلوبہ تعداد میں نصب کرنے پر بھی زوردیا جن میں نکاسی آب کا جدید نظام ہو۔انہوں نے بارش کی صورت میں پانی کے نکاس کیلئے نکاسی آب کیلئے پمپ بھی مہیا رکھنے کی تاکیدکی۔انہوں نے گلاب باغ اور قاضی گنڈ ڈگری کالج میں یاتریوں کیلئے بیک اَپ سپیس قائم کرنے کی بھی ہدایت دی۔اس دوران ضلع کے اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔
کپوارہ میں اپنی پارٹی کا کنونشن | ہماری جماعت دوغلے پن میں یقین نہیں رکھتی:الطاف بخاری
سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ اُن کی جماعت نے جموں وکشمیر کے سیاسی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی لائی ہے حالانکہ اس نے اپنا سفر گذشتہ سال انتہائی پیچیدہ سیاسی حالات میں شروع کیاتھا۔ برامری کپواڑہ میں منعقدہ یک روزہ کنونشن جس میں معروف سیاسی کارکنان محمد امین بٹ اور حفیظ اللہ بخشی سینکڑوں ورکروں سمیت اپنی پارٹی میں شامل ہوئے، سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے اپنی پارٹی پر اعتماد اور بھروسہ جتانے کے لئے جموں وکشمیر کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا،’’جموں وکشمیر بالخصوص ضلع کپواڑہ کے لوگوں نے انتہائی مشکل حالات کے دوران بھی اپنی جماعتوں اور متعدد سیاست دانوں پر اندھا اعتماد کیا اور اُن کی مدد کی لیکن ضلع کپواڑہ میں ترقیاتی منظر نامے پر طایرانہ نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لیڈران نے کیسے لوگوں کے اعتماد کے ساتھ کھلواڑ کیا اور وہ انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔ بخاری نے کہاکہ اپنی پارٹی صداقت پر مبنی سیاست کے لئے وعدہ بند ہے اور ہمیشہ جذباتی وکھوکھلے نعرأں سے باز رہے گی۔جموں وکشمیر میں منعقدہ حالیہ ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کو دفعہ 370اور35Aکی بحالی سے جوڑنے والی سیاسی جماعتوں کو ہدف ِ تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا’’ہماری جماعت دوغلے پن میں یقین نہیں رکھتی، روز ِ اول سے ہی ہماری جماعت نے کھرے کو کھرا اور کھوٹے کوکھوٹا کہا ہے، ہم ابہام پر یقین نہیں رکھتے اور غیر واضح سیاست سے باز رہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا’’میں آپ کو ایمانداری سے بتانا چاہتا ہوں کہ جموں وکشمیر میں کوئی بھی انتخابات جموں وکشمیر کے خصوصی درجہ کی بحالی کا ریفرنڈم نہیں ہوگا اور ہم نے ہمیشہ یہ بات کہی ہے کہ دفعہ370اور35Aکی تنسیخ کے فیصلے کو دو اداروں پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ کے ذریعے ہی واپس کیاجاسکتا ہے ۔پارلیمنٹ میں ہمارے پاس مطلوبہ نمبرات نہیں اور عدالت عظمیٰ سے ہم صرف اُمید رکھ سکتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ فیصلہ جموں وکشمیر کے لوگوں کی خواہشات کے عین مطابق ہو‘‘۔ انہوں نے کہاکہ اگر اپنی پارٹی مستقبل میں ایسی پوزیشن میں ہو اور اُس کو اقتدار ملتا ہے تو وہ جموں وکشمیر کے سبھی خطوں اور ذیلی علاقوں کی یکساں ترقی کو یقینی بنائے گی۔ بخاری نے مزید کہاکہ چند سیاسی جماعتوں نے وقتاًفوقتاً جموں وکشمیر کے لوگوں سے چاند اور تارے توڑ لانے کے وعدے کئے، 1953سے قبل کی پوزیشن سے لیکر، اٹانومی، آزادی اور اب پانچ اگست 2019سے قبل کی پوزیشن ، متعدد لیڈران نے انتخابی فائدے کے لئے مختلف نعرے ایجاد کئے ہیں۔لیکن مجھے آپ بتائیں جموں وکشمیر میں انتخابات خالص ترقیاتی مقاصد کے لئے ہیں اور اپنی پارٹی لوگوں کے سامنے کھبی بھی سچ بولنے سے شرمائے گی نہیں ، چاہے یہ سچ کتنا ہی کڑوا ہو‘‘۔ نئے ساتھیوں کا پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے بخاری نے کہاکہ لوگ خلوص اور شفافیت کے متمنی ہیں جبکہ بدقسمتی سے جموں و کشمیر میں مقامی سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی اس طرح کے خصائل کو اختیار نہیں کیا۔جموں وکشمیر کے لوگوں کو لگاتار روایتی سیاسی جماعتوں کے کھوکھلے نعرؤں اور جذباتی تقاریر سے جھکڑ کر رکھا ، اس کی بہترین مثال ضلع کپواڑہ ہے ، جس کو آج تک ترقی اور خوشحالی کے لحاظ سے ایک ماڈل ضلع ہونا چاہئے تھا لیکن افسوس یہاں ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ صرف سیاسی بے حسی اور اندھیرا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اپنی پارٹی بنانے کا فیصلہ دل سے لیا گیا اور یہ 5اگست2019کی وجہ سے پیداشدہ حالات کے بعد ہوا۔ اُس وقت لوگ بے سہارا اور مایوس تھے،دکانیں، اسکول، تجارتی وکاروباری ادارے، ٹرانسپورٹیشن ، حتی کہ ہرچیز جمود کا شکار تھی، چند لیڈران کو قید کر لیاگیاتھا جبکہ دیگر نے چار دیواری میں رہنے کو ہی ترجیح دی۔ یہ وقت تھا جب ہم نے لوگوں کی آواز بلند کر نے کے لئے ایک پلیٹ فارم بنانے کا فیصلہ کیا اور اِس طرح اپنی پارٹی وجود میں آئی ۔‘‘بخاری نے زور دیتے ہوئے کہاکہ اپنی پارٹی نے قیام کے ایک سال کے دوران جو وعدے کئے تھے، اُس میں سے بہت کچھ حاصل کیا ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ کئے ہوئے ہر وعدے کو وفا کرنے کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
افسرشاہی کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ | ریاستی درجہ بحال کرکے اسمبلی انتخابات کرائے جائیں:حکیم
پارنیوہ خانصاحب//افسرشاہی کو جموں کشمیر کے عوام کو درپیش مشکلات کی جڑ قرار دیتے ہوئے پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ چیئرمین حکیم محمدیاسین نے مرکزی حکومت پرزوردیاہے کہ وہ جموں کشمیر کاریاستی درجہ کسی تاخیر کے بغیر بحال کرکے یہاں فوری طور اسمبلی انتخابات منعقد کروائیں تاکہ لوگ اپنے چنے ہوئے نمائندوں کے ذریعے اپنے مسائل حل کراسکیں۔ایک بیان کے مطابق پارنیوہ خانصاحب کے پی ڈی ایف ورکروں کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے حکیم یاسین نے لوگوں کے مسائل حل کروانے میں بری طرح ناکام رہنے پر انتظامیہ کی زبردست نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور لوگوں کے درمیان رابطے کے فقدان کی وجہ سے جموں وکشمیر کے لوگوں کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے اور وہ اپنے مسائل کی داد رسی کروانے سے قاصرہیں۔حکیم یاسین نے کہا کہ لوگوں کے سماجی، سیاسی و ترقیاتی امنگوں کو پورا کرانے کے لئے جموں وکشمیر کے ریاستی تشخص کو کسی دیر کے بغیر بحال کیا جانا چاہیے جس کی یقین دہانی مرکزی رہنماوں نے بار بار ملک کے پارلیمنٹ میں کی۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے اعتماد اور بھروسے کو بحال کرونے کے لئے جموں وکشمیر کا ریاستی کردار بحال کر نا بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور یہ قدم ملک کے اجتماعی مفاد میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں پر حقیر سیاسی اغراض و مقاصد کے لئے قدغن لگانے سے زمینی سطح پر حالات استوار ہونے کے بجائے مزید مخدوش ہوسکتے ہیں اس لئے جموں وکشمیر کے لوگوں کو اعتماد میں لیکر ان کے دلوں کو جیتنا ہی ملک کے اجتماعی مفاد میں ہوگا۔حکیم یاسین نے انتظامیہ پر زور دیا کہ آنے والے مقدس ماہ صیام کے دوران لوگوں کو تمام ضروریات زندگی فراہم کرنے کے موثر انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے موثر اور ٹھوس اقدامات کئے جانے پر زور دیا اور پورے با برکت مہینے کے دوران متواتر بجلی و پانی کی سپلائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بازاروں میں چیکنگ نظام کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے تاکہ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا قلع قمع کیا جاسکے۔
کووِڈ- 19 کی روکتھام | ڈویژنل سطح کی ٹیمیں تشکیل
کمیونٹی ہیلتھ سینٹر چھانہ پورہ سفر سے لوٹنے والوں کیلئے مخصوص
سرینگر //نیوز ڈیسک//کورونا وائرس متاثرین میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر مشتاق احمد راتھر نے وائرس کی روکتھام کیلئے صوبائی سطح کی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ڈویژنل لیول افسران کو جنوبی ، شمالی اور وسطی کشمیر کیلئے تعینات کیا جائے گا۔ ڈویژنل لیول کی ٹیمیں ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال سے آگاہ کریں گی۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ زونوں کی سطح کے افسران کے ساتھ متواتر طور پر رابطے میں رہیں تاکہ ایمرجنسی صورتحال کے دوران متاثرین کو بغیر کسی خلل کے تمام خدمات فراہم کی جاسکیں۔ ٹیمیں کورونا وائرس کے پھیلائو پر نظر گزر رکھنے کے علاوہ موجودہ بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے کیمونٹی ہیلتھ سینٹر چھانہ پورہ میں سفر کرکے واپس لوٹنے والے افراد کیلئے سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ لیا ہے جبکہ سرینگر ، بڈگام، اور دیگر مریضوں کو سی ایچ سی چھانہ پورہ کے بجائے جواہر لال نہرو میموریل اسپتال رعناواری منتقل کیا جائے گا۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے چیف میڈیکل آفیسر سرینگر کو ہدایت دی کہ وہ صنعت نگر میں قائم چھوٹی زچگی اسپتال کو پھر سے شروع کریں اور وہاں مقررہ وقت پر کورونا متاثرین کیلئے سینٹر قائم کیا جاسکے۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے جیک لائی کووڈ کیئر سینٹر اور جواہر لال نہرو میموریل اسپتال رعناواری کا بھی دورہ کیا ۔انہوں نے پورے کشمیر صوبے میں آکسیجن کی دستیابی کے بارے میں بھی تفاصیل جمع کرنے کی ہدایت دی ۔ ڈائریکٹر ہیلتھ نے آکسیجن کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی ہے۔
کووِڈ- 19ٹیکہ کاری ہدف ، نوجوانوں کو بھی شامل کیا جائے:ڈاک
سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے حکام پرزوردیا ہے کہ وہ ٹیکہ کاری پروگرام کو وسیع کرکے اس میں جوانوں کو بھی شامل کریں اور18برس سے زیادہ عمر کے سبھی لوگوں کو کووِڈ- 19مخالف ٹیکہ لگائیں۔ ایک بیان میں ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا جبکہ45برس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ٹیکہ لگایا جاتا ہے ،یہ وقت ہے کہ عمر کی حد میں نرمی کی جائے کیوں کہ جوان لوگ تیزی کے ساتھ اس وائرس کا شکار ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کووِڈ- 19کی دوسری لہر کی لپیٹ میں ہے اور کیسوں میں ایسے اضافہ ہورہا ہے جس کی کوئی مثال ہی نہیں ہے ۔اس نئی لہر مین زیادہ جوان متاثر ہورہے ہیں۔انہوں نے کہایہ اس لئے ہیں کہ لوگ کام پر جارہے ہیں،سماجی طور ایک دوسرے سے مل رہے ہیں ،سفر پر جاتے ہیں ،جس کی وجہ سے ان کے کوروناسے متاثر ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان میں سے بہت سے لوگ کورونا سے بچائو کے رہنما خطوط پر عمل ہی نہیں کرتے ہیںجس سے کہ وائرس کے پھیلائو میں اضافہ ہورہا ہے۔ ڈاکٹر نثار نے کہاکہ اگرچہ شدید بیمار معاملوں میں زیادہ تر بزرگ افراد مبتلاء ہوتے ہیں لیکن جوان بھی نمونیا کا شکارہوکر اسپتالوں میں داخل ہورہے ہیں اورانہیں انتہائی نگہداشت اور وینٹی لیٹر کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکہ کاری سے نہ صرف جوان لوگ کووِڈ سے محفوظ رہیں گے بلکہ اس سے سماج میں اس کے خلاف مدافعت پیدا ہوگی جسے ڈاکٹری اصطلاح میں ’’ہرڈایمینٹی‘‘کہاجاتا ہے اس طرح وائرس آسانی کے ساتھ ایک سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ اگر جوانوں کو جو آبادی کاکثیرحصہ ہیں،کواس ٹیکہ کاری مہم میں شامل نہیں کیا گیا تو یہ مقصد حاصل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم آبادی کے کثیر حصہ کوٹیکہ نہیں لگائیں گے تو ہم اس انفیکشن کی زنجیرکوتوڑنے میں کامیاب نہیں ہوں گے اور یہ موجودہ لہر جاری رہے گی۔جوان لوگ اس وائرس سے متاثرہوکر گھر میں بزرگوں میں اس کو منتقل کریں گے جوپہلے ہی مختلف عارضوں میں مبتلاء ہوتے ہیں اور اس وجہ سے ان کی موت بھی ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹرنثار نے کہا کہ جوانوں کو ٹیکہ لگانے سے بزرگ محفوظ رہیں گے اور اس سے سماج میں اموات کی تعداد کم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس کے پھیلائوکو مدنظر رکھتے ہوئے لگتا ہے کہ نئی ہیت کا وائرس آبادی میں گردش کررہاہے جو پہلے سے زیادہ متعدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں کو ٹیکہ لگانے سے نئی ہیت کے وائرس کو جڑپکڑنے سے روکا جاسکتا ہے۔
کولگام میں اراضی پر تنازعہ | بھائیوں میں ہاتھا پائی ایک ہلاک،6گرفتار
کولگام//خالدجاوید//دمحال ہانجی پورہ کولگام میں دوبھائیوں کے درمیان زمین کے تنازعہ پرجھڑپ میں مبینہ طور ایک ہلاک ہو۔پولیس نے اس سلسلے مین چھ افراد کو گرفتارکیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق 55برس کے عبدالرشید چوپان ولدجان چوپان اپنے بھائی غلام حسن چوپان کے ساتھ ہاتھاپائی کے دوران بیہوش ہوکر گرپڑا۔احمدآباد دمحال ہانجی پورہ کے یہ دونوں بھائی زمین کے تنازعہ پرآپس میں گتھم گتھا ہوئے تھے۔رشید کوفوری طور اسپتال پہنچایا گیا جہاں اُسے ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیا۔ایس ایچ او دمحاہال ہانجی پورہ تنویزجہانگیرنے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ اس سلسلے میں پولیس نے چھ افرادکوگرفتار کرکے تعزیرات ہند کی دفعہ147،323اور302کے تحت کیس زیرایف آئی آرنمبر31/2021درج کرکے مزیدتحقیقات شروع کردی۔
حقوق واپس نہیں کئے گئے توحالات بہتر ہونے کی ضمانت نہیں:کمال
سرینگر// نیشنل کانفرنس نے کہا کہ جب تک جموں کشمیر کے لوگوں کو اپنے حقوق واپس نہیں کئے جاتے،حالات میں سدھار کی کوئی صورت پیش نہیں آسکتی۔ پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال نے کہا کہ جموں کشمیر میں مسلسل غیر یقینیت اور ناگفتہ بہہ حالات اور بدترین اقتصادی و مالی بد حالی تشویش کن ہے۔ انہوں نے کہا’’ یہ سب کچھ5 اگست2019کے غیر آئینی و غیر جمہوری اقدامات کا نتیجہ ہے‘‘۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن لوگوں کو35اے اور دفعہ370 کے تحت آئین ہند میں دی گئی تھی اور اس کے ختم کرنے سے جموں کشمیر کو مرکزی زیر انتظام خطے میں تبدیل کرنے سے الحاق بھی انہیں دفعات کے تحت ہوا تھا اور یہی دفعات مرکز اور ریاست کے درمیان رشتوں کی بنیاد تھے۔ نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری نے سوالیہ انداز میں کہا،’’ اگر یہ دفعات موجودہ حکمرانوں نے طاقت کے بل پر کئے ہیں تو الحاق کی کیا جواز یت رہتی ہے‘‘۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جب تک نہ جموں کشمیر کے لوگوں کو آئینی و جمہوری حقوق جو5 اگست2019سے پہلے تھے،واپس نہیں کئے جائیں گے تب تک جموں کشمیر میں امن و اماں کی کوئی بھی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے لوگ ’’ اس وقت ایک نو آبادیاتی کالونی میں دھکیل دیئے گئے ہیں اور نا انصافی کی چکی میں پستے جا رہ ہیں‘‘۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جموں کشمیر کے مسلم کردار،مسلم سٹیٹ کی ہیت تبدیل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے لیکن جموں کشمیر کی انفرادیت،شناخت اور وحدت،نیز صدیوں کا بھائی چارہ قائم رکھنے کیلئے نیشنل کانفرنس عوام کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے اور نا انصافی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جموں کشمیرمیں ’’ پے در پے کالے قوانین نافذ کرنے سے کشمیری،لداخی اور ڈوگری عوام مرعوب نہیں ہوسکتے اور نیشنل کانفرنس مسئلہ کشمیر کے حل تک جدوجہد جاری رکھے گی۔
ٹیگور ہال میں منعقدہ فیشن شو کیخلاف اظہار برہمی | زبرون پارک سے ایس کے آئی سی سی تک احتجاجی مارچ
سرینگر// ٹیگور ہال سرینگر میں منعقدہ حالیہ فیشن شو کے خلاف برقع پوش لڑکیوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے شو وادی کی تہذیب و تمدن کے خلاف ہے۔اتوار کو سرینگر میں زبرون پارک سے ایس کے آئی سی سی تک متعدد برقع پوش لڑکیوں نے حال ہی میں منعقد ہوئے فیشن شو کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاجی لڑکیوں نے چہرے پر ماسک لگا کر شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کنارے کنارے خاموش مارچ کیا۔ انہوں نے ہاتھوں میں کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ’’ ہمیں اپنے حجاب پر فخر ہے، ہمیں حضرت فاطمہ الازہرہؓ کے حجاب سے محبت ہے‘‘۔ مظاہرین نے حال ہی میں منعقدہ فیشن شو کے بارے میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے معاشرے میں اس طرح کے فیشن شوئوں کیلئے کوئی بھی جگہ موجود نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ ’’ ہمیں کسی نے بھی اس احتجاج کیلئے جبر نہیں کیا تاہم جو کچھ غلط ہے ہم اس پر خاموشی اختیار نہیں کرسکتے‘‘۔بعد میں احتجاجی لڑکیاںپرامن طور پر منتشر ہوئیں۔ احتجاج میں شامل ایک لڑکی نے کہا’’ آئے دن گھریلو تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور اگر اس طرح کے شو جاری رہے تو خواتین محفوظ نہیں رہ سکتیں‘۔مذکورہ لڑکی نے مزید کہا کہ اس طرح کی بے راہ روی کو اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے اور مسلم خواتین اس لئے حجاب پہنتی ہیں کیونکہ حجاب ان کیلئے ایک دفاعی و حفاظتی ڈھال کے طور پر کام کرتی ہے۔
تفریحی باغات کھلا رکھنا کورونا کے پھیلائو کا مؤجب: قیوم وانی
سرینگر//سول سوسائٹی فورم نے کہا ہے کہ مہلک وائرس کے پھیلاو میں اضافے اور دوسری لہر کی خطر ناک نہج کے باوجود نہ توتفریحی باغات بند کردئیے جاتے ہیں اور نہ ہی موجبِ کشش بننے والی رنگ رلیوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کی جاتی ہے جو تشویشناک امر ہے۔ ایک بیان میں سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبد القیوم وانی نے باغات خصوصا باغ گْلِ لالہ میں سیاحوں کے بڑھتے ہوئے رش کے مدِ نظر احتیاطی اقدامات نہ کرنے پر حکومت کے عجیب و غریب رویہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ متعدد مقامات سے آرہے سیاح روزانہ اس بیماری کی رو سے صحت کی حفاظت کیلئے خطرہ بنتے ہیں جبکہ اسپتالوں میں بستروں کی عدم دستیابی اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی جان لینے والے مرض کی وجہ سے ڈاکٹروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور جہاں جموں و کشمیر بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔قیوم وانی نے حکام کو اس کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اگر حفاظتی اقدامات جیسے سیاحوں کے باغات خصوصا ٹیولپ گارڈن کو بند کرنا اور پْر کشش اجتماعات جیسے فیشن شوز پر پابندی عائد کرنا جیسے مناسب وقت پر نہیں کئے گئے تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہر کے وقت بنیادی ڈھانچے اور مشکلات کا تجربہ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی کے مِصداق کے طور پر کام کرنا چاہئے جہاں مریض اسپتالوں میں وینٹی لیٹر اور دیگر ضروری سامان کے بغیر پڑے تھے۔ٹیگور ہال سرینگر میں فیشن شو کے منتظمین کی مذمت کرتے ہوئے وانی نے کہا کہ سول سوسائٹی فورم اس طرح کی حرکتوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ اسلام کے آفاقی اصول کے تحت زندگی گزارنے کا قائل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی فورم ہنر ، روزی کمانے کی مہارت کے خلاف نہیں لیکن کشمیری معاشرے میں ثقافت اور فیشن کے نام پر بے راہ روی اور بے حیائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
کولمبس گولڈ کلکشن کی نقاب کشائی | ڈیلرس میٹ میں450نئی مصنوعات کی نمائش ہوگی
سرینگر//کولمبس سپورٹس جو چار دہائیوں سے بہترین جوتے بنارہی ہے ،سرینگرمیں کولمبس گولڈ کلکشن کی نقاب کشائی ڈیلروں کی میٹ2021میں ہوٹل ایشین پارک میںکررہی ہے جس کیلئے اس کے سرینگر کے تجارتی شراکت دار نے اشتراک کیا ہے ۔کولمبس میک ان انڈیا پر تندہی سے کام کررہا ہے اور میڈ ان انڈیا کے نظریہ کے تحت بھارتی اور بین الاقوامی بازار میں اپنی اعتباریت کو برقراررکھنے کیلئے وعدہ بند ہے۔کولمبس سپورٹس کے ایم ڈی سندیپ منوچااوران کی ٹیم جس میں جے ڈی تیاگی ،اومیش جوشی وغیرہ شامل ہیں،اپنے450نئے مصنوعات کی نمائش کریں گے ۔نئے قسم کے جوتوں میں جدیدترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ جوتے آرام دہ اورپائیدارہوں۔
ظریف احمد ظریف سے اظہار تعزیت
سرینگر//وادی کے نامور ادیب اور شاعر ظریف احمد ظریف کی اہلیہ کے انتقال پر آثار شریف پنجورہ شوپیاں کے متولی میر بشیر احمداور انجمن حمایت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو نے تعزیت کااظہار کیا ہے۔ میر بشیر احمد اور مولانا خورشید احمد قانونگو نے لواحقین خاص کر ظریف احمد ظریف کو یہ صدمہ برداشت کرنے اور مرحومہ کی جنت نشینی کیلئے دعا کی۔
ہینڈی کرافٹس محکمہ کے ملازمین کا اظہار تعزیت
سرینگر// ہینڈی کرافٹس اور ہینڈلوم محکمہ کے ڈائریکٹوریٹ میں تعینات ملازمین نے اپنے ایک ملازم ساتھی عابد علی ملک ولد غلام محمد ملک ساکن ہمدانیہ کالونی بمنہ حال فیئر ویو اپارٹمنٹس کھانڈے کالونی نوگام کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ بیان کے مطابق موصوف انتہائی محنتی ،شریف النفس اور دیانتدار انسان تھا ۔ڈائریکٹوریٹ کے سبھی ملازمین نے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔
اپنی پارٹی کی بڈگام حملے کی مذمت | سوگوار کنبہ کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی
سرینگر//اپنی پارٹی میڈیا ایڈوائزر فاروق اندرابی نے اتوار کو بڈگام حملہ میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں ہوئی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور اس کارروائی کی مذمت کی ۔ ایک بیان میں اندرابی نے حملہ کو بہیمانہ اور سفاکانہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہاکہ انتہائی بدقسمت اور دل سوز ہے کہ کشمیر میں وحشیانہ تشدد کی وجہ سے لگاتار قیمتی جانوں کا زیاں ہورہا ہے جس سے پچھلے کئی سالوں سے لگاتار لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ اندرابی نے زور دیتے ہوئے کہا ’’ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، ایسے واقعات سماج کے امن اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ حائل کرتے ہیں، بڈگام میں شہری پر خوفناک حملہ انتہائی قابل ِ مذمت ہے‘‘۔ انہوں نے مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے دعا کرتے ہوئے غمزدہ کنبہ کے ساتھ دلی ہمدری اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قصور واروں کو فوری طور کیفر کردار تک پہنچایاجائے تاکہ متوفی کے اہل خانہ کو انصاف مل سکے۔
الطاف ٹھاکر کا اونتی پورہ حادثہ پر اظہار رنج
سرینگر// اونتی پورہ میں اتوار کوپیش آئے حادثے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان الطاف ٹھاکر اور ڈی ڈی سی ممبر آری پل منظور احمد گنائی نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ۔ دونوں لیڈران نے مہلوک کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی فوری شفایاب کیلئے دعا کی ہے ۔