ڈوڈہ میں کووڈ 19 سے 1 شخص فوت
منگل کو 4 نئے مثبت معاملات ،14 مریض صحتیاب
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں کورونا وائرس کے 4 نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیں 14 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ 1 شخص گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ میں فوت ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق منگل کے روز ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری ،گندوہ و عسر میں ہوئی کوو¿ڈ جانچ کے دوران چار افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے جنہیں ہوم قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور چودہ مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ اس دوران جی ایم سی میں بھدرواہ سے تعلق رکھنے والے 90 سالہ شخص کی موت ہوئی ہے اور جی ایم سی جموں میں ٹھاٹھری سے تعلق رکھنے والی ایک 70 سالہ خاتون فوت ہوئی ہے اس طرح سے ضلع میں کوو¿ڈ 19 سے اب تک 133 افراد فوت ہوئے ہیں جبکہ ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد سمٹ کر 62 و شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 7529 پہنچ گئی ہے اور 351620 افراد کو ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ضلع میں 18 سال سے زیادہ کے عمر کے 86 فیصد آبادی لوگوں نے ٹیکے لگوائے ہیں۔
مہاجر پنڈتوں کی ماہانہ ریلیف کا مسئلہ
عدالت پنن کشمیر کی عرصی پر سماعت کرے گی
جموں // جموں کی ایک عدالت منگل کو پنون کشمیر کی ایک درخواست پر سماعت کرے گی جس میں جموں و کشمیر انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 21ہزار سے زیادہ مہاجر کشمیری خاندانوں کو 13ہزار روپے کا گزارا الاﺅنس طور پر جاری کرے۔مہاجرکشمیری پنڈت خاندانوں کی تنظیم کی جانب سے درخواست ایڈوکیٹ مونیکا کوہلی نے دائر کی تھی ، جس نے کہا کہ درخواست قبول کر لی گئی ہے اور منگل کو سماعت کے لیے آئے گی۔پنن کشمیر کے چیئرمین اجے چرنگو نے کہا کہ ہمیں عدالت اور عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور یہ ہماری مدد کرے گا۔مہاجر کشمیری پنڈتوں کی جانب سے جاری احتجاج کے درمیان پنن کشمیر نے عرضی دائر کی جومنگل کو تیسرے دن میں داخل ہوا۔ عدالت میں درخواست میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے مہاجر خاندانوں کوماہانہ ریلیف جاری کرنے میں ناکامی نے انہیں شدید گرمی اور کورونا وبائی امراض کے درمیان سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کیا ہے۔درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ کچھ مہاجر خاندانوں کے پاس پیسے نہیں بچا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے گھروالوں اور بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے گھریلو سامان بھی خرید سکتے ہیں کیونکہ یہ ریلیف کی رقم ان کی واحد زندگی ہے۔ 13ہزارروپے سے زیادہ کی امداد 21ہزار372 خاندانوں کو دی جاتی ہے جن کی کل تعداد 70ہزار538 نفوس پر مشتمل ہے۔
کووڈ ایس اوپیز کی خلاف ورزی پر34ہزار کا جرمانہ
۔ 3626 ٹیکے لگائے گئے ، 1579 نمونے جمع کئے گئے
رام بن//ضلع رام بن میں کووڈ پروٹوکول کو نافذ کرنے کے لیے نافذ کرنے کی مہم کو جاری رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے چہرے کے ماسک نہ پہننے اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر متعدد خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا۔نفاذ کرنے والی ٹیموں نے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں معائنہ کے دوران 33ہزار800 روپے جرمانہ وصول کیا ۔انفورسمنٹ افسران نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ چہرے کے ماسک پہنیں اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں اس کے علاوہ اپنے قریبی سی وی سی پر کوویڈ ویکسی نیشن کی خوراکیں لیں۔ڈسٹرکٹ امیونائزیشن آفیسرڈاکٹر سریش نے بتایا کہ ضلع رام بن میں آج 3626 افراد کو پہلی اور دوسری کوویڈ ویکسین کی خوراک دی گئی۔چیف میڈیکل آفیسر رام بن کے جاری کردہ روزانہ بلیٹن کے مطابق محکمہ صحت نے 1579 نمونے جمع کیے ہیں جن میں 376، RT-PCR اور 1203، RAT نمونے شامل ہیں جبکہ اس کے علاوہ ضلع کے مخصوص ویکسی نیشن مراکز میں 3626 افراد کو کوویڈ ویکسین دی گئی ہے۔
امتحانی مراکز کے آس پاس دفعہ144نافذ
رام بن//جموں و کشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن کی طرف سے 23 ستمبر 2021 سے شروع ہونے والے ہائر سیکنڈری امتحانات (کلاس -11 ") سرمائی زون (جموں ڈویژن) کے سیشن سالانہ پرائیویٹ / بائی انیول 2021 امتحانات کے پیش نظر ضلع مجسٹریٹ رام بن مسرت الاسلام نے دفعہ 144 سی آر سی کے تحت اپنے اختیارات کو استعمال میںلاتے ہوئے ضلع کے تمام امتحانی مراکز کے 100 میٹر کے اندر عوامی نقل و حرکت ، مداخلت / عوامی اجتماع پر پابندی عائد کردی ہے۔ امتحانی مرکز اور اس کے اردگرد لاو¿ڈ اسپیکر / پبلک ایڈریس سسٹم کے کسی بھی دوسرے قسم کے استعمال پر بھی پابندی ہے۔ امتحانات منعقد ہونے والے احاطے میں سگریٹ نوشی سختی سے منع ہے۔یہ حکم مذکورہ امتحانات کے اختتام تک نافذ العمل رہے گا۔
شادی امدادی سکیم کے تحت 50 مستحقین کے حق میں 20 لاکھ روپے منظور
ریاسی//ضلعی سطح کی کمیٹی کی منظوری کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر ریاسی چرندیپ سنگھ نے جموں و کشمیر حکومت کی میرج اسسٹنس سکیم (ایم اے ایس) کے تحت 50 اہل مستحقین کے حق میں 20 لاکھ روپے منظور کیے۔یو ٹی ایم اے ایس ایک سماجی امدادی سکیم ہے جس کا مقصد بی پی ایل خاندانوں کی لڑکیوں کو شادی کی مدد فراہم کرنا ہے جو شاید مالی تنگی کی وجہ سے خود کو شادی کی پوزیشن میں نہ پائیں۔معاشرے کے غریب طبقے تک رسائی حاصل کرنے کی اپنی کوشش کو وسیع کرتے ہوئے ، حکومت اس اسکیم کے تحت ان غریب خاندانوں کی مدد کر رہی ہے جو اپنی بیٹیوں کی شادی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اس اسکیم کے تحت بی پی ایل خاندان سے تعلق رکھنے والی 18 سال سے زیادہ عمر کی غیر شادی شدہ لڑکی کو شادی کے وقت 25 ہزار روپے نقد امداد اور 5 گرام سونا ملے گا۔امداد کی رقم ڈائریکٹر فنانس سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ ، سول سیکرٹریٹ ، جموں کے ذریعہ انفرادی فائدہ اٹھانے والوں کے بینک کھاتوں میں براہ راست بھیج دی جائے گی۔
موبائل ٹاور شروع لیکن وسیع آبادی مواصلاتی نظام سے ہنوز محروم
مڑواہ کی عوام کو مشکلات کا سامنا،نواپاچی ٹاور کو جلد شروع کرنے کی مانگ
عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے سب ڈویژن مڑواہ میںجہاں گزشتہ ماہ نجی مواصلاتی کمپنی جیو نے موبائل ٹاور لگائے لیکن اسکے باوجود علاقہ کی بیشتر آبادی ہنوزمواصلاتی سہولت سے محروم ہے اور عوام کو فون کرنے کیلئے کئی گھنٹوں کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ہنزل و تیلر میں لگائے گئے ٹاور محض چینجر تک ہی محدود ہیں جبکہ دیگر علاقہ جات نواپچی، افتی، بسمینہ،دھرنہ ، دھرائی، نوگام ، پیڑھگام، قدرنہ ،یورد، آستانگام ،رنئی کی بڑی آبادی ابھی بھی مواصلاتی نظام کا فائیدہ نہیں اٹھاسکی ہے ۔مڑواہ میں کمپنی چھ کے قریب ٹاور نصب کررہی ہے جن میں ابھی تک ہنزل و تیلر ٹاور کو شروع کیا گیا ہے لیکن نواپچی میں بنایا گیا ٹاور ہنوز شروع نہیں ہوسکا ہے جسکے سبب تحصیل ہیڈکوارٹر کی بڑی آبادی ہنوز رابطے کرنے سے محروم ہے۔مقامی لوگوں نے کہا کہ کمپنی کے ورکر کبھی ایک تاریخ توکبھی دوسری تاریخ مقرر کرتے ہیں لیکن ابھی تک نواپچی کے ٹاور کو شروع نہیں کیا گیا۔ انھوں نے بتایاکہ ٹاور مکمل ہے، صرف کیمرے لگانے باقی ہیں لیکن نامعلوم وجوہاتکی بناءپر کام کو مکمل نہیںکیا جارہا جبکہ اگلے ماہ ہی برفباری کے بعد علاقہ سڑک رابطہ سے منقطع ہوجائے گا اور ضلع ہیڈکوارٹر سے کٹ کررہ جائے گا۔ایک مقامی نوجوان نے کہا کہ انھیں امید تھی کہ وہ بھی گھر میں ہی آن لاین تعلیم حاصل کریں گے لیکن انھیں لگتا ہے کہ علاقہ کی عوام کیلئے مواصلاتی نظام خواب ہی رہےگا۔ اگر انتظامیہ کمپنی کو جلد کام مکمل کرنے کی ہدایت دیتی تو سردیوں سے قبل ہی نواپچی میں مواصلاتی نظام کام کرنا شروع ہوجاتا جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی کام کاج متاثر ہے اور اگر مواصلاتی نظام شروع ہوتا تو تحصیل ہیڈکوارٹر کے کام آسانی سے ہوپاتے۔علاقہ کے نوجوانوں نے پہلے ہی کمپنی کے سم کارڈ نکال رکھے ہیں اور بے صبری سے مواصلاتی نظام کے شروع ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ انھوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر کشتواڑ سے جلد ازجلد مواصلاتی نظام کو شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
منگت آتشزدگان کو عمارتی لکڑی فراہم
رام بن//محکمہ جنگلات رام بن نے بانہال کے منگت گاو¿ں کے آ تشزدگی متاثرین کوعمارتی لکڑی کی منظوری کے خطوط حوالے کیے۔ڈپٹی کمشنر اور محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام کی ہدایات پر متعلقہ دفاتر کی جانب سے منگت گاو¿ں میں 5 ستمبر 2021 کو آتشزدگی کے واقعے کے متاثرین کو لکڑیاں فراہم کرنے کے لیے مقدمات کو فاسٹ ٹریک کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔منظوری کے احکامات ڈویڑنل فاریسٹ آفیسر رام بن ڈاکٹر راجن سنگھ نے بشیر احمد وانی ، محمد رمضان ، ظریفہ بیگم ، محمد خالق وانی کے حق میں جاری کیے ۔ڈی ایف او نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران رام بن فاریسٹ ڈویژن نے تباہ شدہ گھروں کی تعمیر نو کے لیے 21 آگ سے متاثرہ خاندانوں کو لکڑیاں جاری کی ہیں۔
ایڈیشنل ایس پی کشتواڑ کا واڑون دیہات کا دورہ کیا
عاصف بٹ
کشتواڑ//ایڈیشنل ایس پی کشتواڑ راجندر سنگھ نے واڑون کا دورہ کیا اور علاقہ میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس دوران انھوں نے دیہات بشمول بسمینہ ، چویدرمن ، گمری ، ا فتی ، انشن اور برائین کا بھی دورہ۔ ایڈیشنل ایس پی کشتواڑ راجندر سنگھ نے ڈاک بنگلو انشن میں پولیس کمیونٹی پارٹنرشپ گروپ (پی سی پی جی) کا اجلاس منعقد کیا۔اجلاس میں علاقہ کے معزز افراد ، سرپنچوں ، پنچوں و بزرگ شہریوں اور علاقے کے نوجوانوں نے شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران شرکاءنے مختلف مسائل اٹھائے اور ایڈیشنل ایس پی راجندر سنگھ نے معاملات کی سماعت کی اور شرکاءکو یقین دلایا کہ پولیس سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا اور سول انتظامیہ سے متعلقہ مسائل کو ضلعی انتظامیہ کے ذریعے متعلقہ محکمہ کے ساتھ ان کے جلد ازالے کے لیے اٹھایا جائے گا۔
مڑواہ اور وڈون کے عوام کی حالت قابل رحم
کانگریس کی لیفٹیننٹ گورنر سے عوامی مشکلات کا ازالہ کرنے کی مانگ
کشتواڑ//پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا ہے کہ آزادی کے75برس بعد بھی مڑواہ اور وڈون کی آبادی دورِ جدید میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے جو تشویشناک ہے ۔ کانگریس نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کئے جائیں۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر کی سربراہی میں پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے مڑواہ اور وڈون کا19سے 21ستمبر تک 3روزہ دورہ مکمل کیا جس کے دوران انہوںنے مشکلات کو جاننے کیلئے متعدد دورافتادہ علاقوں کے لوگوں سے ملاقات کی ۔ غلام احمد میر نے کہاکہ ضلع کشتواڑ کے دورافتادہ مڑواہ اور وڈون کے لوگ آزادی کے 75سال گزرنے کے باوجود خوشحال زندگی جینے کیلئے بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب مشکل زندگی گزار رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ مذکورہ علاقوں میں کئی مواصلاتی سہولیات، سڑکوں کے رابطہ کا فقدان اور دیگر بنیادی سہولیات ناپید ہیں۔ میر نے کہاکہ پسماندہ علاقے خاص کر انجر، ششلان، گرنٹریڈ، گوجر بستی انجر، زبن، سُدر، ڈنگ، مٹھون، گنچل میں رہائش پذیر آبادی بہتر سڑکوں، صحت اور دیگر لازمی سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب سخت مشکل بھری زندگی بسر کررہے ہیں۔ انہوںنے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پر زور دیا کہ وہ ذاتی مداخلت کرکے ان مشکلات کا ازالہ کریں۔ انہوںنے کہاکہ متی گاورن سے انشن، انشن سے مڑواہ، مڑواہ سے گرم چشمہ تک سڑک پر بیت الخلائ، صحت، غذائی اجناس اور دیگر بنیادی سہولیات نہیں ہیں اور یہ 12گھنٹوں کا طویل سفر ہے جو گھنے جنگلات اور سرکاری اراضی سے ہوکر گزرتا ہے ۔ انہوںنے حکومت پر زور دیا کہ وہ آنے والے سیاحوں و افراد کیلئے سہولیات کو یقینی بنانے کے اقدام کریں۔ کانگریس لیڈران نے عوامی وفود کو یقین دلایاکہ ترقیاتی ضروریات اور مطالبات پورا کرانے کیلئے انہیں اجاگر کیا جائے گا۔
مقامی بی ڈی او بانہال کے اعزاز میں الوداعی تقریب منعقد
محمد تسکین
بانہال// مقامی بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر بانہال بشیر الحسن کے تبادلہ پر ان کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں محکمہ کے ملازمین ، پنچائتی نمائندوں اور مقامی رضاکاروں نے شرکت کی اور انہیں بانہال سے قاضی گنڈ کیلئے الوداع کیا گیا۔ بشیر الحسن بانہال کے مقامی کے اے ایس آفسر ہیں اور بچپن سے ہی سماجی کاموں میں رضاکارانہ سروسز کیلئے اپنا لوہا منوا چکے ہیں ۔ وہ پہلے ٹیچر کے طور تعینات ہوئے اور بعد میں انہوں نے کشمیر ایڈمنسٹریٹیو سروسز کو کوالیفائی کیا ۔ حال ہی میں بانہال سے قاضی گنڈ بلاک میں تبدیلی کے احکامات کے بعد پیر کے روز ان کے اعزاز میں بی ڈی او دفتر بانہال میں ایک الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔تقریب کے دوران مقررین نے بانہال میں ان کی بحثیت بی ڈی او تعیناتی کے عرصے کے دوران ان کی کارکردگی کو سراہتے ہو ئے اسے بہترین دور سے تعبیر کیا-بانہال میں تعیناتی کے دوران کچھ عرصے تک ان کے پاس بلاک ڈیولپمنٹ افیسر کھڑی اور اکھڑال کا بھی چارچ رہا اور تینوں بلاکوں کی تمام60پنچایتوں میں بھی ان کا کوئی ثانی نہ رہا اور لوگوں میں اپنی ایمانداری اور غریب پروری کی دھاک جمادی ۔چند ماہ قبل انہیں ایگزیکٹو آفیسر میونسپل کمیٹی بانہال کا بھی چارچ دیا گیا تھا ۔اس دوران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ان کا بلاک مختلف کاموں میں اول نمبر پر آیا اور اس کیلئے انہیں اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ اس موقع پر بشیر الحسن نے وہاں موجود تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش رہی ہے کہ وہ ہر کسی کے ساتھ انصاف کریں اور اس، دوران اس کوشش کے باوجود بھی اگر ان کی طرف سے کسی کو کوئی دکھ پہنچا ہوں تو وہ اسے معاف کریں گے ۔
بانہال میں فوج کا والی بال ٹورنامنٹ شروع
بانہال//فوج کی طرف سے نوجوانوں کیلئے کھیل سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے اور بانہال میں فوج کی طرف سے منگل کی صبح سے ہیلی پیڈ بانہال میں شہید لانس نائیک رنجیت سنگھ میموریل والی بال ٹورنامنٹ کا آغاز کیا گیا جس میں 32 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ اس والی بال ٹورنامنٹ کا ابتدا نامور سماجی کارکن اور بانہال والنٹیرز کے صدر محمد ادریس وانی کیا جبکہ مقامی راشٹریہ رائفلز کے کمانڈنگ آفیسر اور ڈی ایس پی ٹریفک نیشنل ہائے وے بانہال شمشیر سنگھ ، معزز شہری اور رضاکار موجود تھے ۔پہلے روز ناک آﺅٹ بنیادوں پر چار میچ کھیلے گئے جبکہ موسم بہتر رہنے کی صورت میں 26ستمبر کو فائنل میچ کھیلا جائے گا۔ شہید لانس نائیک رنجیت سنگھ کی یاد میں منعقد اس ٹورنامنٹ کا مقصد شہید لانس نائیک رنجیت سنگھ کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا ۔ رنجیت سنگھ ضلع رامبن کے رہنے والے تھے اورسرحدی اضلاع پونچھ راجوری میں دوران ڈیوٹی انہوں نے اپنی جان کو ملک پر قربان کیا تھا ۔
پینتھرس پارٹی کا پائلٹوں کی موت پر دکھ کا اظہار
جموں//پینتھرس سیکریٹریٹ کی ایک ہنگامی میٹنگ پینتھرس پارٹی آفس جموں میں منعقد ہوئی جس میں پارٹی کے کئی سینئر لےڈروں اور ایگزیکٹو اراکےن نے پٹنی ٹاپ، ضلع ادھم پور میں ہیلی کاپٹر حادثے میں دو آرمی پائلٹ میجر روہت کمار اور میجر انوج راجپوت کی افسوسناک موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ۔ پینتھرس پارٹی نے اےک قرارداد مےں گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متوفےوں کے کنبوں کے ساتھ گہری تعزےت کی اور بھگوان سے پرارتھنا کی کہ دونوں آنجہانےوں کی روح کو سورگ میں سکون ملے۔
مرکزی وزیر مملکت بجلی کا راجوری میں اَپنا دو روزہ دورہ مکمل
مرکزی حکومت مقامی سطح پر روزگار بڑھانے کیلئے متعدد اِقدامات کررہی ہے۔مرکزی وزیر مملکت بجلی
راجوری//جموں وکشمیر کے لئے خصوصی عوامی رَسائی اقدام کے ایک حصے کے طور پر مرکزی وزیر مملکت بجلی و صنعت کرشن پال گرجر کا دو روزہ دورہ راجوری میں اِختتام پذیر ہوا۔دورے کے دوران وزیر موصوف نے بالخصوص جسمانی طورمخصوص اَفراد میں موٹر ٹرائی سائیکل تقسیم کئے اور چھوٹی کمرشل گاڑیوں کی چابیاں ” ایم یو ایم کے آئی این“ کے تحت چھ مستحقین کے حوالے کئے اور چار ایس ایم اے ایس فائدہ اُٹھانے والوں کے خط منظور کئے ۔ اُنہوں نے پنچایت سنگ پور نارین ویسٹ میں سیلف ہیلپ گروپ یعنی کٹنگ اینڈ ٹیلرنگ سینٹر کی رجسٹریشن میں بھی سہولیت فراہم کی۔ اِس موقعہ پرضلع ترقیاتی کمشنر راجوری راجیش کے شاون،ڈی آئی جی راجوری۔پونچھ رینج وِویک پوری،ایس ایس پی ، شیما کسبہ نبی،ایڈیشنل پرائیویٹ سیکرٹری وِکاس شکلا،ایم ڈی جے پی ڈی سی ایل گرمیت سنگھ،ایم ڈی ج جے کے پی ٹی سی ایل نصیب سنگھ، اے ڈی سی راجوری سچن دیو سنگھ،سی پی او محمد خورشید، ایس اِی پی ڈبلیو ڈی جاوید مقبول،ایس ای جل شکتی جے پی سنگھ،ایس اِی پی ڈی ڈی سندیپ سیٹھ،اے سی ڈی سشیل کھجوریہ،ڈی ایس اِی او بلال رشیدمیر کے علاوہ دیگر افسران موجود تھے۔اُنہوں نے مستحقین کے ساتھ اپنی بات چیت میںجسمانی طور خاص افراد کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے مرکزی حکومت کے مضبوط یقین کا اظہار کیا تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں اور کہا کہ اس سمت میں متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا،” بے روزگار نوجوانوں کو ضروری پلیٹ فارم مہیا کرنے میں مدد کے لئے ایم یو ایم کے آئی این(ممکن) اور دیگر خود روزگار پیدا کرنے کے اِقدامات شروع کئے جارہے ہیں تاکہ وہ خود کما سکیں اور بااِختیار بن سکیں۔“اُنہوں نے آئی ٹی آئی راجوری کا بھی دورہ کیا اوروہاں پائن سوئیوں کے ذریعے مقامی معیشت کو فروغ دینے کے لئے ایس ایچ جی کی دس دِن کی تربیت جاری ہے ۔ اُنہوں نے آئی ٹی آئی میں ہینڈی کرافٹس / ہینڈ لوم ، کھادی وِلیج اور اِنڈسٹریز بورڈ مع مختلف شعبوں کے لگائے گئے سٹالوں کا بھی معائینہ کیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری نے وزیر مو صوف کو جانکاری دی کہ تربیتی پروگرام کا اِنعقاد ضلعی اِنتظامیہ نے آئی ٹی آئی ، سوشل ویلفیئر اور این آر ایل ایم ( اُمید ) اور ہِمپائن اِنسٹی چیوٹ ہماچل پردیش کے تعاون سے کیا ہے اور پائن سوئیاں کھلونے اور گھریلو مصنوعات بنانے کے لئے اِستعمال کی جاسکتی ہےں۔وزیر مملکت نے تربیت پانے والوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا،” مرکزی حکومت مقامی سطح پر روزگار کو بڑھانے کے لئے متعدد اِقدامات کر رہی ہے او ربے روز گار نوجوانوں کو ہنر مندی کی سکیموں کے تحت ضروری تربیت دی جارہی ہے تاکہ وہ روزگار کمانے کے قابل ہوسکیں۔“اُنہوں نے کہا،” روزگارمواقعوں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن نوجوانوں میں ہنر کی کمی ہے اور اِس کے لئے سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو فعال بنایا گیا ہے۔“وزیر موصوف نے کہا کہ خواتین مردوں سے کم نہیں ہیں اوراُنہوں نے مختلف شعبوں میں اَپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے اور اُنہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور حکومت کی جانب سے شروع کی گئی متعدد فلاحی سکیموں اور پروگراموں سے اِستفادہ حاصل کریں۔وزیرمملکت برائے بجلی گرجر نے گورنمنٹ ماڈل ہائیر سکینڈری سکول راجوری اور گورنمنٹ ماڈل بوائزہائیر سکینڈری سکول راجوری کا بھی دورہ کیا۔ سکینڈری سکول راجوری میں وزیر کو جانکاری دی گئی کہ ضلع میں دسویں او ربارہویں جماعت کے سکولوں کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے جب کہ مذکورہ کلاسوں کے تمام طلباءکو کووِڈ کے لئے انفیکشن کے خطرے سے بچنے کے لئے ہر دس دن کے بعد طلاب کی بے ترتیب جانچ کی خاطر خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔اُنہوں نے طلباءپر زور دیا کہ وہ تعلیم کو ترجیح دیں اور اَپنی زندگی کے مطلوبہ اہداف کے حصول کے لئے لگن اور عزم کے ساتھ سخت محنت کریں۔