مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کا 23نومبر کو دورہ جموں و کشمیر متوقع
جموں// مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے 23 نومبر کو جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے پر پہنچنے کا امکان ہے ۔یہ ان کا پانچ اگست 2019 کو مرکزی حکومت کے جموں وکشمیر کے خصوصی درجے کے خاتمے اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے بعد پہلا دورہ جموں و کشمیر ہوگا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ موصوف مرکزی وزیر خزانہ اپنے دو روزہ دورہ کے لئے 23 نومبر کو جموں پہنچے گی۔انہوں نے بتایا کہ نرملا سیتا رمن دفعہ 370 کی تنسیخ اور کورونا وبا کے بعد متاثرہ معیشت کی صورتحال کا جائزہ لیں گی۔مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ اپنے دورے کے پہلے روز جموں ہاٹ میں تجارت و صنعت سے وابستہ وفود کے ساتھ بات چیت کریں گی۔انہوں نے کہا کہ نرملا سیتا رمن یونین ٹریٹری میں سرمایہ کاری، ترقی اور مینو فکچرنگ سرگرمیوں سے متعلق معاملات کے بارے میں جانکاری حاصل کرے گی۔
جی ڈی سی پرمنڈل میں سائبر کرائم اور اس سے بچاو کے اقدامات کے عنوان پر آن لائن ویبنار
سائبر کرائم کے ماہر محمد یاسین کچلو، ایس ایس پی سیکورٹی سول سیکریٹریٹ کی بطور ریسورس پرسن شرکت
جموں// جی ڈی سی پرمنڈل نے سائبر کرائم اور اس سے بچاو کے اقدامات کے عنوان پر آن لائن ویبنار کا انعقاد کیا۔وہیںانٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ممکنہ سائبر جرائم پر اس کے اثرات پر ویبنار میں جانکاری فراہم کی گئی ۔ ویبنار کے ریسورس پرسن سائبر کرائم کے ماہر محمد یاسین کچلو، ایس ایس پی سیکورٹی سول سیکریٹریٹ جموں وکشمیرتھے۔اس موقع پر کالج کی پرنسپل پروفیسر سیما میر نے ریسورس پرسن کا باقاعدہ استقبال کیا۔ وہیں ریسورس پرسن محمد یاسین کچلو نے آئی ٹی ایکٹ کے بارے میں تفصیل سے بات کی جو 2000 میں ای کامرس کو قانونی شکل دینے اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی دنیا سے ہم آہنگ ہونے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے لیکچر کا آغاز طلبہ کو انٹرنیٹ کے بارے میں آگاہی دے کر کیا جس میں فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، جی میل وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم لیکچرکا طریقہ جامع تھا تاکہ طلبہ کو سائبر کرائم کے بارے میں سمجھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی غیر قانونی عمل جس میں انٹرنیٹ کے ذریعے منسلک کمپیوٹر یا تو ایک ٹول ہو یا ہدف یا دونوں ہی سائبر کرائم ہیں۔ موصوف نے کہاکہ کمپیوٹر کا مطلب صرف ڈیسک ٹاپ نہیں ہے بلکہ اس میں کیلکولیٹر کے علاوہ کوئی بھی ڈیجیٹل ڈیوائس شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان جرائم میں دھوکہ دہی، جنسی استحصال، فشنگ، بدنامی اور ذاتی انتقام کا باعث بننے والے بھتہ شامل ہیں۔ موصوف نے کہاکہ لوگوں کی اکثریت خواہ وہ اساتذہ ہوں یا طالب علم یا بہت پڑھے لکھے افراد جن کے پاس ٹیکنالوجی کے بارے میں بہت زیادہ علم ہے وہ یہ غلط تصور کر رہے تھے کہ وہ بہت ٹیک سیوی ہیں لیکن محمد یاسین کچلو جیسی متحرک اور خوشنما شخصیت کو سن کر اس طرح کے معلوماتی اور روشن خیال لیکچر سے بہت سے شکوک و شبہات دور ہو گئے۔اس دوران طلباءنے ریسورس پرسن کو غور سے سنا اور آخر میں ماہر کے ساتھ بات چیت کی اور ان کے سوالات کے جوابات دئے کیا۔