بیتاڑ نالہ اور شیر کشمیر پل عدم توجہی کاشکار
مرمت ہوتی ہے نہ مناسب دیکھ ریکھ
حسین محتشم
پونچھ// شیر کشمیر پل اور بیتاڑ نالہ پل پونچھ قصبہ کو دوسرے علاقوں سے جوڑنے والے دو اہم پل دیکھ ریکھ نہ ہونے کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہوگئے ہیں۔بیتاڑ نالہ پل جسے مادر مہربان پل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ،کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں کی آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔اس پل کے اوپر پیدل چلنے کے لئے الگ سے راستہ تیار کیا گیا تھا جو اب بالکل خستہ ہو گیا جبکہ پل کے درمیان میں بھی بڑے بڑے کھڈے بن گئے ہیں جو کسی حادثے کاموجب بن سکتے ہیں۔وہیںشیر کشمیر پل جس کا ایک حصہ 2014کے سیلاب کی نذر ہوگیا تھا،اگرچہ طویل انتظار کے بعد دوبارہ مرمت ہونے پربحال تو ہوگیاہے مگر اس پر بھی جگہ جگہ کھڈے بنے ہوئے ہیں ۔ان دونوں پلوں کی مرمت نہ ہونے پر مقامی لوگوں میں تشویش پائی جارہی ہے ۔نیشو گپتا نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعمیرات عامہ ان دونوں پلوں پر کوئی توجہ نہیں دے رہا جو کسی بھی وقت کوئی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی طرف سے کئی بار حکام کو آگا ہ کرنے کے باوجود محکمہ کے ذمہ داران خاموش ہیں اور پلوں کی حالت خستہ بنتی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی وقت کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے لیکن افسروں کو کوئی فکر نہیں۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ ا ن دونوں اہم پلوں کی مرمت کی جائے اور مناسب دیکھ ریکھ کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بیتاڑ نالہ کی خستہ حالی کی وجہ سے ایک ٹریکٹر اور ٹرالی اور موٹر سائیکل کی ٹکر میں ایک نوجوان کی موت واقع ہوئی۔
پی ڈی پی کا اجلاس منعقد
ممبراسمبلی مینڈھر پر سستی شہرت بٹورنیکا الزام
حسین محتشم
پونچھ//پی ڈی پی اکائی پونچھ کی ماہانہ میٹنگ ڈاک بنگلہ پونچھ میں منعقدہوئی جس میں ضلع صدر شمیم ڈار کے علاوہ ممبر قانون ساز اسمبلی پونچھ شاہ محمد تانترے،ممبر قانون ساز کونسل یشپال شرما، معروف خان و دیگر کارکنان نے شرکت کی ۔اس موقعہ پر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے پونچھ میں عوامی دربار کے بعد پونچھ ضلع کیلئے ان کی طرف سے کئے گئے اقدامات کی سراہنا کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔کارکنان نے پونچھ کو ایک کلسٹریونیورسٹی، ایک یونیورسٹی کیمپس، منڈی میں ڈگری کالج، پالی ٹیکنیک کالج، ہائر سیکنڈری سکول اور پونچھ کیلئے دیگر پروجیکٹوں پر حکومت کا شکریہ اد اکیا۔ ضلع صدر شمیم ڈار نے کہا کہ این سی کے کچھ لیڈران کلسٹر یونیورسٹی ڈنہ شاہستار کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں کہ یہ انہوںنے لائی مگر انہیں گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ انہوں نے اپنی حکومت کے دوران کیا کیا؟ ۔رکن اسمبلی مینڈھر کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا وہ مینڈھر کا کالج اور کلسٹر یونیورسٹی اور کئی دیگر اداروںکو لانے کا دعویٰ کررہے ہیں اور سستی شہرت بٹوررہے ہیںلیکن لوگ جانتے ہیں کہ کس نے اس خطے کے ساتھ کیا سلوک کیاگیا۔
مائن بلاسٹ سے زخمی ہوئے نوجوان کو امدا دفراہم
جاوید اقبال
مینڈھر //ڈپٹی کمشنر پونچھ محمد اعجاز اسد نے گزشتہ دنوں سرحدی علاقہ ڈیری ڈبسی میں مائن بلاسٹ کی وجہ سے زخمی ہوئے نوجوان کو 25 ہزار روپے کا چیک بطور امداد دیا۔واضح رہے کہ پرویز احمد ولد منظور احمد ساکن ڈیری ڈبسی مائن بلاسٹ کی وجہ سے زخمی ہوگیاتھاجسے گزشتہ روز ہی امرتسر ہسپتال سے واپس لایاگیا ۔اس نوجوان کے رشتہ داروںنے دوران علاج انتظامیہ و حکومت سے امداد کی اپیل کی تھی ۔ ڈپٹی کمشنر نے اس نوجوان کی عیادت کرتے ہوئے کہاکہ وہ مزید امداد فراہم کریںگے ۔ڈپٹی کمشنر مینڈھر کے دورے پر تھے جس دوران انہوںنے اس زخمی نوجوان سے ملاقات کرکے اس کا حال احوال جانا اور ساتھ ہی امداد فراہم کی ۔
خواتین نے ڈپٹی کمشنر کا راستہ روک کر احتجاج کیا
جاوید اقبال
مینڈھر// ضلع ترقیاتی کمشنرپونچھ محمد اعجاز اسد مینڈھرکے علاقہ دھرانہ میں عوامی دربار لگانے کے بعد جب واپس لوٹ رہے تھے تو ان کے آبائی گائوںکی خواتین نے ہاتھوں میں برتن لے کر ان کا راستہ روک کر محکمہ پی ایچ ای کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی ۔مظاہرہ کررہی خواتین کا کہنا تھا کہ وہ پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہی ہیں لیکن محکمہ پی ایچ ای کے ملازمین کو ٹس سے مس نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کے ملازمین ڈیوٹی پر نہیں آتے جس کی وجہ سے لوگوں کو پانی سپلائی نہیں ہو رہا۔اس دوران محمد اعجاز اسد نے احتجاج کرنے والی خواتین کو یقین دلایا کہ ان کو پانی کی سپلائی فراہم ہوگی ۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی سپلائی کا بھی بندو بست کیا جائے گا ۔انہوں نے موقعہ پر ہی محکمہ پی ایچ ای کے ایگزیکٹو انجینئرسے کہا کہ فوری طور ان لوگوں کے لئے پانی کا بندو بست کیا جائے ۔ڈپٹی کمشنر کی یقین دہانی پر مقامی خواتین نے احتجاج ختم کردیا ۔
فاسٹ ٹریک بھرتی کے دعوے سراب
نئے ڈاکٹر 5ماہ سے جوائن ہونے کے انتظار میں
جاوید اقبال
مینڈھر//حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ تو کیاجاتاہے کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے بھرتی عمل فاسٹ ٹریک بنیاد پر انجام دیاجارہاہے تاہم ان دعوئوں کی حقیقت وہی نوجوان جانتے ہیں جو پہلے تو فہرستیں مشتہر ہونے اور پھر جوائن ہونے کے انتظار میں رہتے ہیں۔محکمہ صحت میں سلیکٹ ہوئے ڈاکٹروں نے بتایا کہ تین ماہ قبل ان کی لسٹ جاری ہوئی جس کی ابھی تک جانچ چل رہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ سیکریٹریٹ کے چکر لگالگاکر تھک چکے ہیں لیکن متعلقہ محکمہ آج اور کل کر رہا ہے ۔ڈاکٹروں نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر کہا کہ وہ کئی پرائیویٹ اداروں میں کام کر رہے تھے جہاں ایک لاکھ کے قریب انہیںتنخواہ دی جارہی تھی لیکن پبلک سروس کمیشن کی طرف سے جاری ہوئی فہرست میں اپنانا م دیکھ کر انہوںنے اپنی نجی ملازمتیں چھوڑ دیںاورتب سے گھر بیٹھے بیٹھے جوائن ہونے کا انتظار کررہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اس چکر میں انہیںلاکھوں روپے کا نقصان ہوگیاہے ۔اسی طرح سے دیگر کئی نوجوانوں کاکہناہے کہ بیروزگاری عروج پر ہے اور حکومت ایک ایک فہرست کو جاری کرنے میں کئی کئی سال لگادیتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سرکار کے فاسٹ ٹریک بھرتی دعوئوں کا مذاق بن کر رہ گیاہے اور وہ دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔
ہائی سکول پٹھانہ تیر کا درجہ بڑھانے کی مانگ
مینڈھر//آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ممبر و ریاستی سکریٹری پروین سرور خان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر سکولوں کادرجہ بڑھاگیاہے جس کے نتیجہ میں مستحق علاقے نظرانداز ہوگئے ہیں ۔اپنے ایک پریس بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مینڈھر اسمبلی حلقہ میں دو سکول ہائی سکول سے ہائر سکنڈری بنائے گئے جن میں سے ایک بالاکوٹ کے سرحدی علاقہ میں تار بندی کے اندر بنایا گیا جبکہ دوسرا سکول سلواہ کاہے تاہم گورنمنٹ ہائی سکول پٹھانہ تیر کو ہائر سکنڈری سکول کا درجہ نہ دے کربہت بڑی ناانصافی کی گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ سکول ایک پہاڑی علاقہ میں واقع ہے جہاں سے بچے دور دراز سکولوں میں جا کر تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ا ن کہنا تھا کہ جس سکول کو ہائر سکنڈری سکول کا درجہ دیا گیا ،وہاں کے بچے چھترال اور مینڈھر میں آ کر بھی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں لیکن پٹھانہ تیر ،گلی کالابن،ڈنہ شاہستار اور کالابن کے علاقوں سے بچے دور دراز سکولوں میں جا کر تعلیم حاصل نہیں کر سکتے جن کے ساتھ سیاسی لیڈران نے نا انصافی کی ہے اور اپنے ہی ووٹران کے علاقہ میں سکول کا درجہ بڑھایا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور ہائی سکول پٹھانہ تیر کو ہائر سکنڈری کا درجہ دے نہیںتو عوامی احتجاج ہوگا جس کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی ۔
پٹوار ایسوسی ایشن راجوری کی کام چھوڑ ہڑتال جاری
منیر خان
راجوری //پٹوار ایسوسی ایشن راجوری نے دوسرے روز بھی کام چھوڑ ہڑتال جاری رکھی ۔پٹوارایسوسی ایشن نے تحصیل دفتر کے باہر دوسر ے روز بھی دھرنا جاری رکھا ۔دھرنے پر بیٹھے پٹواریوںکا مطالبہ ہے کہ ان کاگریڈ 24سو سے 28سو کیاجائے اور پٹواریوں کو ترقی دی جائے جبکہ نائب تحصیلدار کی براہ راست بھرتی پر پابندی عائد کی جائے ۔ تنظیم کے ضلع صدر افتخار مرزا نے کہا کہ کئی سال سے پٹوارخانہ میں پٹواری اپنی ذاتی تنخواہ سے کرایہ اداکررہے ہیں لیکن ریاستی سرکار انہیں پٹوارخانہ کا کرایہ مہیا نہیں کررہی جو بہت بڑی بدقسمتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی مانگوں کوپوراکیاجائے گالیکن عرصہ درازگزرنے کے باوجود حکومت نے مانگوں کوپورانہیں کیااور وہ مجبوہوکر ہڑتال کررہے ہیں۔مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹواریوں اورگرداوروں کے مسائل حل کئے جائیںاوران کے ساتھ کئے گئے وعدے ایفا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پٹواری اپنے جائز مطالبات کے لئے احتجاجی دھرناجاری رکھیں گے ۔اس موقعہ پر فیصلہ لیاگیاکہ آج ضلع بھر سے پٹواری راجوری میں جمع ہوکراحتجاجی ریلی کی شکل میں ڈی سی دفتر کی طرف جائیں گے۔پٹواریوں کی کام چھوڑ ہڑتال کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کاسامناہے ۔دریں اثناء منجاکوٹ اور دیگر علاقوں میں بھی پٹواریوں کی ہڑتال جاری رہے ۔
مارکیٹ چیکنگ کے دوران85سوروپے جرمانہ وصول
منیر خان
راجوری//ماہ صیا م سے قبل محکمہ امورصارفین اور لیگل میٹرولوجی نے راجوری میں مارکیٹ چیکنگ کرتے ہوئے پچاسی سوروپے جرمانہ وصول کیا ۔محکمہ جات کی ایک ٹیم نے مختلف مقامات پر چیکنگ کرتے ہوئے دوکانداروں سے جرمانہ وصول کیا اور انہیں سختی سے تنبیہ کی کہ وہ ناجائز منافع خوری نہ کرتے ہوئے لوگوںکو تازہ اور صاف وشفاف اشیاء فراہم کریں ۔ اس معائنہ پر کچھ دوکانداروںنے اعتراض جتاتے ہوئے الزام عائد کیاہے کہ اثرورسوخ رکھنے والے دکانداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔انہوںنے کہا کہ ہر سال یہی رسم اداکی جاتی ہے اور محکمہ صرف چند چھوٹے چھوٹے دوکانداروں کے پاس جاکر جرمانہ وصول لیتا ہے ۔تاہم ان الزامات کو مستر دکرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ سپلائی جاوید احمد نے بتایا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ چیکنگ سب جگہوں پر کی جائے گی ۔
سکول کادرجہ بڑھانے کے مطالبہ پر پلمہ میں احتجاج
سمت بھارگو
راجوری //پلمہ و گردونواح کے لوگوںنے مقامی سکول کا درجہ بڑھاکر اسے ہائرسکینڈری سکول بنانے کے مطالبے پر احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران راجوری جانے والی سڑک بند رہی ۔سابق سرپنچ کی قیادت میں مقامی لوگ راجوری بدھل سڑک پر جمع ہوئے اور انہوںنے اسے ٹریفک کی نقل و حرکت کیلئے بند کردیا ۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے سکول کادرجہ بڑھانے کامطالبہ کیا ۔انہوںنے کہاکہ ہائی سکول پلمہ کا درجہ بڑھایاجائے جہاں پلمہ اور دیگر آٹھ گائوں کے طلباء تعلیم حاصل کرتے ہیں جنہیں دسویں کے بعد کی تعلیم کے حصول میں مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے کئی دیگر سکولوں کادرجہ بڑھایاہے اور اس سکول کادرجہ بھی بڑھاناچاہئے ۔احتجاج کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کی ایک ٹیم موقعہ پر پہنچی جس نے یقین دلاکر مظاہرین کو پرامن طور پر منتشر کیا ۔
ماہ صیام سے قبل منڈی بازار کی چیکنگ
عشرت حسین بٹ
منڈی // ماہ رمضان کے پیش نظر تحصیل انتظامیہ نے حرکت میں آکر منڈی بازار کا معائنہ کیا ۔ اس دوران انہوں نے دوکانوں ،ہوٹلوں، سبزی فروشوں کی دوکانوں اور مٹھائی دوکانوں کی چیکنگ کی اورزائد المعیاد اشیاء خوردنی وسبزیوں کو ضائع کیا گیا ۔فوڈ انسپکٹر جاوید چوہدری نے دکانداروں کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک میں تمام اشیاء خوردنی مناسب ریٹ پر عوام کیلئے دستیاب رکھیں اور اپنی دکانوں پرصاف صفائی کا حاص خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔تحصیلدار منڈی ظہیر احمد رانا ،بلاک ڈیولپمنٹ افسر منڈی ،تحصیل سپلائی آفیسر منڈی، نائب تحصیلدار لورن وپولیس نے تمام دوکانداروں سے کہا کہ وہ ریٹ لسٹ دکانوں پر آویزاں رکھیں ۔اس دوران دکانداروںسے1000 روپے جرمانہ وصول کیاگیا ۔
بالاکوٹ بازار کا معائنہ کیاگیا
مینڈھر//تحصیلدار بالاکوٹ خادم حسین شاہ ،ٹی ایس او بالاکوٹ کبیر خان اورڈاکٹر محمد لطیف چوہدری پر مشتمل ٹیم نے بالاکوٹ بازار کا معائنہ کیا ۔اس دوران 23سوروپے جرمانہ عائد کیاگیا اور دکانداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ماہ صیام کے دوران اشیائے خوردنی مناسب قیمت پر فروخت کریں اور ناجائز منافع خوری نہ کریں ۔
آنگن واڑی ورکروں کا احتجاجی دھرنا
راجوری //آنگن واڑی ورکروںنے منگل کے روز احتجاج کرتے ہوئے گوجر منڈی چوک پر روڈکو بند کردیا۔ان ورکروں کی طرف سے چلڈرن پارک سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو گوجر منڈی پہنچی جہاں انہوںنے دھرنادے کر روڈبند کردی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ان کاکہناتھاکہ وہ 103روز سے سراپا احتجا ج ہیں لیکن حکومت ان کے مطالبات کو سن ہی نہیں رہی ۔بعد ازآں پولیس نے وہاں پہنچ کرانہیں منتشر کیا اور گاڑیوں کی آمدورفت بحال کی ۔