پروفیسرخیرات محمد ابن ِ رساؔ کاانتقال
علمی ،ادبی اورسیاسی حلقوں کااظہارتعزیت
جموں//ریاست جموں وکشمیرکے مایہ نازسپوت پروفیسرخیرات محمد ابن ِ رساگزشتہ روز لاہورپاکستان میں رحلت فرماگئے۔ پروفیسرخیرت کوملتان یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلراورپنجاب یونیورسٹی لاہوراورالخیریونیورسٹی پی اوکے ،کے وائس چانسلرکے طورپرخدمات انجام دینے کاشرف حاصل رہاہے۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد رپروفیسرموصوف کوپاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں بہتری لانے کاکام سونپاگیا۔ ریاست جموں وکشمیرکے عالمی شہرت یافتہ اُردواورکشمیری شاعر رساؔجاودانی کے فرزندپروفیسرخیرات کاجنم 5اکتوبر 1926کوبھدرواہ میں ہوا۔ بارہویں جماعت تک تعلیم گورنمنٹ ہائرسکینڈری سکول بوائزبھدرواہ اوربی ایس سی کی تعلیم جی جی ایم سائنس کالج جموں اورایم ایس سی ۔کیمسٹری کی ڈگری علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔ملک کی تقسیم کے بعد پروفیسرخیرات پاکستان چلے گئے اورپھر اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں برائون یونیورسٹی امریکہ پہنچے جہاں سے انہوں نے 1959 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔پروفیسرخیرات کونمایاں خدمات کیلئے پاکستانی حکومت کی جانب سے سب سے اعلیٰ سویلین ایوارڈ’’ستارۂ امتیاز‘‘اوراقبال سنٹینری میڈل کے علاوہ برائون یونیورسٹی یوایس ا ے (امریکہ) نے پوٹرپرائزسے بھی نوازہ ہے۔موصوف سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقارعلی بھٹواورسابق صدرِ پاکستان ضیاء الحق کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹونے پروفیسرخیرات محمدابن رساکوامریکہ سے واپس لاکرملتان یونیورسٹی پاکستان کاپہلاوائس چانسلرنامزدکیا اوراس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے انہیں پنجاب یونیورسٹی لاہورکاوائس چانسلربنایا۔پروفیسرخیرات نے جنرل اسلامک ایجوکیشنل ،سائٹنفک اینڈکلچرل آرگنائزیشن (ISESCO)میں ڈپٹی ڈائریکٹرکی حیثیت سے1984تا1991 خدمات انجام دیں اوراس کے علاوہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف جنیٹکس کے سرپرست اعلیٰ کے طورپربھی کام کیا۔ موصوف نے آرگینک کیمسٹری میں تین درجن سے زائد کتابیں لکھیں جنہیں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھایاجارہاہے ۔ پروفیسرخیرات محمدابن رساکی وفات پر پاکستان کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیرکے تعلیمی، ادبی اورسیاسی حلقوں سے بڑے پیمانے پرتعزیت کااظہارکرتے ہوئے اسے برصغیرکیلئے ناتلافی نقصان قراردیاجارہاہے۔پروفیسرخیرات محمدابن رساکی نمازجنازہ آج شام لاہوریونیورسٹی کی جامع مسجد میں ادا کی جائے گی ۔اس کے بعدریاست کے اس عظیم سپوت کوسپردِ خاک کیاجائے گا۔
سی آر پی ایف کا ایثار
زخمی کو بروقت امداد مہیا کرکے خون کا عطیہ دیا
جموں//راجوری میں گذشتہ روز ایک سڑک حادثہ میں محمد ریاض ساکن فتح پور ،راجوری زخمی ہوا تھاجس کی سی آر پی ایف نے بروقت مدد کی ہے ۔ سی آر پی ایف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ زخمی شخص کے سر میں چوٹ آئی تھی ،جسے فوری طور سے جی ایم سی ایچ جموں بہتر محالجہ کیلئے منتقل کیا گیا تھا ۔اسکے رشتہ داروں نے سی آر پی ایف کے ساتھ رابطہ کیااور انہیں خون کے دو پوائنٹ عطیہ دینے کی درخواست کی۔اس گُذارش پر سی آر پی ایف 166 ویں بٹالین کے ہیڈ کانسٹیبل جگدیش چندر اور کانسٹیبل روہت کوشل آگے آئے اور بر وقت خون کا عطیہ دیکر زخمی شخض کی معاونت کی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سی آرپی ایف جہاں پر کئی محاذوں پر متعدد مشالی آپریشن انجام دئے وہیں سی آر پی ایف کا انسانی جذبہ بھی ایسی کاروائیوں سے عیاں ہے۔
مولاناآزادنیشنل اُردویونیورسٹی کے فاصلاتی کورسزمیں داخلے جاری
آخری تاریخ یکم اگست 2019، داخلہ لینے والے طلبامتوجہ ہوں
جموں//مانوسب ریجنل سنٹرجموں کے انچارج ڈاکٹرثناء اللہ کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہاگیاہے کہ مولاناآزادنیشنل اُردویونیورسٹی حیدرآباد کے فاصلاتی طرزتعلیم کے تحت جولائی 2019 کے اکیڈمک سیشن میں بی اے، بی ایس سی ، بی کام اورایم اے کے چھ مضامین (انگریزی، اُردو،تاریخ ،اسلامیات ،عربی اورہندی ) کے علاوہ ڈپلوما اِن ٹیچ انگلش اورڈپلوما اِن جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن میں بھی آن لائن داخلہ جاری ہے اورآخری تاریخ یکم اگست ہے۔جاری پریس ریلیزکے مطابق داخلہ لینے والے امیدواراپنی رجسٹریشن 200 روپے فیس کے ساتھ آن لائن کرواسکتے ہیں اس کے بعدامیدوارکی دستاویزات آن لائن جمع کروائی جاسکتی ہیں اوربعدازاں امیدوارکے دستاویزات کی جانچ ہوگی اورامیدوارکواطلاع (Message) کے ذریعے مل جائے گی ۔جب امیدوارکودستاویزات کی جانچ کامیسج مل جائے گا پھرامیدوار اپنی کورس فیس آن لائن جمع کرواسکیں گے۔ داخلہ فیس جمع کرنے کے ساتھ ہی داخلہ کی کاروائی مکمل ہوجاتی ہے ۔مانوسب ریجنل سنٹرجموں کے انچارج ڈاکٹرثناء اللہ نے کہاہے کہ رجسٹریشن کرتے وقت صرف اپناہی موبائل نمبر اورای میل آئی ڈی دیں تاکہ امیدوارکوایس ایم ایس بروقت مل سکے۔ صوبہ جموں کے طلباء جن اسٹڈی سنٹروں کیلئے اپنی اپنی سہولت کے مطابق انتخاب کریں گے ان کی تفصیل اس طرح ہے۔(۱)نیوماڈرن ڈگری کالج سینک کالونی جموں (۲)ڈگری کالج راجوری(۳)ڈگری کالج ڈوڈہ (۴)ڈگری کالج رام بن (۵) ڈگری کالج کشتواڑ(۶)ڈگری کالج بدھل (۷)ڈگری کالج پونچھ (۸) ڈگری کالج مینڈھر(۹)ڈگری کالج سرنکوٹ (۱۰)ڈگری کالج بانہال (۱۱)ڈگری کالج کلہوتران ڈوڈہ ،اور(۱۲)گورنمنٹ کالج فار وومن کٹھوعہ ،بی ایس سی طلبا کیلئے پریکٹیکل کی سہولت گورنمنٹ ڈگری کالج راجوری میں دستیاب ہے۔ مزید اطلاع کیلئے طلبامندرجہ ذیل نمبرات ۔حیدرآباد040-23008463یا 040-23120600 اورویب سائٹ www.manuu.ac.in پررابطہ کرسکتے ہیں۔مانوسب ریجنل سنٹر جموں سے رابطہ 0191-2460150۔موبائل ۔9419962810 سے کرسکتے ہیں اوردرخواست فارم ویب سائٹ http.manuuac/ddeonlineadmission19/پردستیاب ہیں۔
پلس 2 لیکچررفورم کا اجلاس منعقد
جائزمطالبات کی اندیکھی پراظہارتشویش
جموں//آل جے اینڈکے پلس 2 لیکچررفورم کاایک اجلاس تنظیم کے صدردیپک شرماکی صدارت میں منعقدہوا۔اس دوران اجلاس میں پلس ٹو۔کیڈرسے متعلق مسائل پرتفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقعہ پردیپک شرمانے خیالات کااظہارکرتے ہوئے سابقہ حکومتوںپر پلس ٹو کیڈرلیکچراروں کے مسائل ومطالبات کی اندیکھی کاالزام عائد کیا ۔انہوں نے کہاکہ پلس ٹولیکچراروں کوریاستی گورنرانتظامیہ سے امیدتھی کہ وہ قوم کے معماروں کے جائزمطالبات کوپوراکرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے گی لیکن ابھی تک ریاستی گورنرانتظامیہ نے کوئی بھی مثبت قدم نہیں اٹھایاہے جس کی وجہ سے پلس ٹوکیڈرلیکچرارمایوس ہیں۔انہوں نے کہاکہ پلس ٹولیکچراروں کے مطالبات پرغوروخوض کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے قائم کی گئی انتظامیہ کمیٹی کی جانب سے ابھی تک رپورٹ حکومت کوپیش نہیں کی گئی ہے جوکہ افسوسناک بات ہے۔مقررین نے کہاکہ ریاستی گورنرکے مشیرخورشیداحمدگنائی کی طرف سے کرائی گئی یقین دہانیاں ابھی تک ثمرآورثابت نہیں ہوئی ہیں ۔فورم نے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے آل انچارج جن میں سے متعددسبکدوش بھی ہوچکے ہیں کے ریگولرائزیشن کے ایکسپڈیٹنگ عمل کوپورانہیں کیاہے۔مقررین نے ریاستی انتظامیہ کی نئے ترقیاب پرنسپلوں اورسینئرلیکچراروں کی 1/3rd کے حساب سے ایڈجسٹ منٹ نہ کرنے پربھی تشویش کااظہارکیا اورمانگ کی کہ محکمہ کے بہترکام کاج کویقینی بنانے کیلئے ایڈہاک ازم کاخاتمہ کیاجائے گا۔فورم کے ممبران نے ایس آراو202 کوتمام کیڈروں کے لیکچراروں سے ہٹانے اورصا ف وشفاف ٹرانسفرپالیسی یقینی بنانے کی مانگ کی۔پلس ٹولیکچراروں یا جوائنٹ ڈائریکٹروں کی ریپارٹیریشن نہ کرنے اورانہیں کے اے ایس کیڈرنہ دینے پربھی برہمی کااظہارکیا۔اس دوران میٹنگ میں انورخان ،این ایس جموال ،آرایس سلاتھیہ، سنجے بھگت،پردیپ سنگھ ،ترسیم سنگھ ،رینولنگہے ، جیوتی پرکاش ،ڈاکٹراشوک ،ڈی سی کنڈل اورراجیش شرمانے شرکت کی۔
صاف ستھرامومنٹ کے صدرکادورہ ٔ راجوری پونچھ
سڑکوں کی خستہ حالی وبنیادی سہولیات کے فقدان پراظہارتشویش
جموں//جموں وکشمیر صاف ستھرامومنٹ کے ریاستی صدرشوکت علی چوہدری نے راجوری اورپونچھ اضلاع کاتفصیلی دورہ کیا۔اس دورے کے دوران شوکت علی چوہدری نے راجوری وپونچھ ضلعوں کی مختلف پنچایتوں کے سرپنچوں وپنچوں کے ساتھ ملاقات کی اوران کے ساتھ تعمیروترقی کی مناسبت سے امورات زیربحث لائے۔اس دوران پوٹھہ سرنکوٹ پنچایت کے لوگوں نے ایک میٹنگ کے دوران کہاکہ یہاں بنیادی سہولیات کافقدان ہے جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔انہوں نے مانگ کی کہ پانی کی قلت دورکرنے کیلئے انتظامیہ کوٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔اس کے علاوہ شوکت چوہدری زیارت سائیں میراں صاحب ؒ پربھی حاضری دی اوربعدازاں گرودوارہ ننگالی صاحب کابھی دور ہ کیا۔شوکت چوہدری نے کہاکہ راجوری پونچھ اضلاع میں سڑکوں کی حالت نہایت خستہ ہے اوربنیادی سہولیات کی کمی ہے۔انہوں نے انتظامیہ سے مانگ کی کہ دوردرازعلاقوں وپنچایتوں کے لوگوں کوبنیادی سہولیات مہیاکرواکرکے ان کی پریشانیاں دور کی جائیں۔