ڈرائیوروں کےلئے تازہ ایڈ وائزری جاری
کٹھوعہ میں ٹریفک پولیس کی کاروائی شروع
جموں//ٹریفک قوانین کیخلاف ورزیوں اور ان سے ہونے والے حادثات کو روکنے کےلئے ٹریفک احکام نے ضلع سانبہ،،کٹھوعہ ،جموں راجوری اور پونچھ کے ڈرائیوروں کےلئے تازہ ایڈوائزری جاری کردی ہیں ۔ٹریفک پولیس جموں دیہی کی طرف سے جاری ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صوبہ جموں میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی وحادثات کو روکنے کےلئے مہم شروع کردی گئی ہے جبکہ ڈرائیوروں کو چاہیے کہ وہ گاڑی چلاتے وقت اپنے مکمل کاغذات ساتھ رکھیں جبکہ غلط پارکنگ سے بچتے ہوئے سیٹ بیلٹ کے استعمال کو ضروری قرار دے دیا ہے ۔اسی دوران ٹریفک قوانین کیخلاف ورزیوں کو روکنے کےلئے ضلع کٹھوعہ میں پولیس کی جانب سے کاروائی شروع کر دی گئی ہے ۔ٹریفک احکام کے مطابق ایس ایس پی ٹریفک جموں کی قیادت میں شروع کی گئی مہم کے دوران مسافروں گاڑیوں کے علا وہ سکول بسوں ودیگر مال بردار گاڑیوں کےساتھ ساتھ موٹر سائیکل سواروں کےخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گئی ۔اس سے قبل پولیس احکام کو ضلع سانبہ اور کٹھوعہ میں عوامی حلقوں کی جانب سے ٹریفک مسائل کے سلسلہ میں لگاتار شکایتیں کی گئی تھیں جس کے بعد ٹریفک پولیس کی جانب سے اور لوڈنگ ،تیز رفتاری ،لورزامات کے بغیر گاڑی چلا نے ودیگر قوانین کیخلاف ورزی کرنے پر 590گاڑیوں کو چلانے جبکہ 17گاڑیوں کو ضبط کرلیا گیا ۔اسی دوران قوانین کیخلاف ورزی کرنے والوں سے 50ہزار روپے بطور جرمانہ بھی وصول بھی کیا گیا جبکہ کئی ایک ڈرائیوروں کو گاڑی چلاتے وقت موبائل فون کے استعمال ،ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا وغیرہ کےلئے بھی کیس درج کئے گئے ہیں ۔ٹریفک پولیس نے ڈرائیوروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہاکہ وہ گاڑی چلاتے ہوئے ٹریفک قوانین کا خاص خیال رکھیں جبکہ قانون کیخلاف ورزی کرنے والوں کےخلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔
۔3فیصد ڈی اے کی ادائیگی کو منظوری
جموں //ریاستی انتظامیہ نے ملازمین کےلئے 3فیصد ڈی اے کی اضافی ادائیگی کو منظوری دے دی ہے ۔جنرل ایڈ منسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ایک حکم نامے زیر نمبر 389-Fآف 2018کے تحت ملازمین کو یکم جنوری سے مذکورہ سہولیات فراہم کی جائینگی ۔اس حکم نامے کے مطابق ملازمین کو بنیادی تنخواہ کو ساتویں پے کمیشن کے تحت 3فیصد اضافہ ڈی اے دیا جائے گا جبکہ اس ڈی اے کے سلسلہ میں مذکورہ حکم نامہ جنوری 2019کے بعد سے لاگو ہو گا اور اس کی قسط اپریل 2019سے تنخواہ کا حصہ بنائی جائے گی ۔
نروال اور باہو فورٹ میں بیداری کیمپوں کا اہتمام
جموں //جموں وکشمیر گرامین بینک کی طرف سے عوام کو مختلف اسکیموں کی جانکاری فراہم کرنے کے سلسلہ میں جموں کے نروال اور باہو فورٹ علا قہ میں بیداری کیمپوں کا اہتمام کیا گیا ۔باہو فورٹ میں نبارڈ (NABARD)کے اشتراک سے منعقدہ کیمپ میں گرامین بینک کے برانچ ہیڈ مکیش سگوترہ کی قیادت میں آفیسران نے لوگوں کو مرکزی حکومت کی جانب سے شروع کر دہ اسکیموں کے سلسلہ میں جانکاری فراہم کی ۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے مکیش سگوتراہ نے کہاکہ گرامین بینک کی طرف سے عوام کو کاروبار شروع کر نے کےلئے کئی اسکیموں کے تحت قر ض فراہم کیا جاتا ہے جبکہ اس سلسلہ میں کئی ایک انشورنس اسکیمیں بھی شروع کی ہوئی ہیں جن سے عوام فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔اسی طر ح نروال میں بینک برانچ ہیڈ سہیل شرما نے دیگر ملازمین کے ہمراہ عوام کو مختلف اسکیموں کے سلسلہ میں جانکاری فراہم کی جبکہ ان دونوں بیداری کیمپوں کے دوران کرشی وگیان کیندر ،محکمہ پشو پالن ،محکمہ زراعت ،ایجوکیشن کے آفیسران اور ملازمین بھی موجود تھے ۔
ہفتہ وار عوامی دربار منعقد
کے وِجے کمار نے لوگوں کے مسائل سنے
جموں//ہفتہ وار عوامی دربار کے ایک حصے کے طور پر کئی وفود اور افراد آج یہاں گورنر کے مشیر کے وِجے کمار سے ملاقی ہوئے اور انہیں اپنے مسائل اور شکایات سے مطلع کیا۔ریاست کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 10وفود اور21افراد مشیر موصوف سے ملاقی ہوئے ۔انہوں نے صحت ، تعلیم ،سڑک رابطوں ، بجلی و پینے کے پانی کے مسائل ، سکولوں اور ہسپتالوں میں عملے کی تعیناتی جیسے مسائل اُبھارے ۔اُن میں سے کئی سرکاری ملازمین بھی شامل تھے جنہوںنے اپنے ذاتی مسائل سے متعلق معاملات مشیر موصوف کے گوش گزار کئے۔وفو د میں کنٹریکچول لیکچرر ، ضلع کٹھوعہ کی کسان کلیان سمیتی ، محکمہ جنگلات کے کیجول لیبرو دیگر وفود نے عوامی اہمیت کے حامل کئی مسائل اُجاگر کئے۔دریں اثنا¿ کئی افراد نے مشیر موصوف کے ساتھ کنونشن سینٹر میںان سے ملاقات کی اور اپنے مسائل سے انہیں آگاہ کیا۔ تمام وفود اور افراد کے مسائل کو بغور سننے کے بعد مشیر موصوف نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے جائز مطالبات و شکایات پر غور کیا جائے گااور انہیں حل کرنے کے لئے متعلقہ محکموں کو سپرد کیا جائے گا۔
جہلم توی سیلاب بحالی پروجیکٹ کا جائزہ
جموں//چیف سیکرٹری وی بی آر سبھرامنیم نے پروجیکٹ سیٹرینگ کمیٹی کی چوتھی میٹنگ کی صدارت کی اور ورلڈ بینک کے تعاون سے یوایس ڈی 250 ملین جہلم اینڈ توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ ( جے ٹی ایف آر پی ) کی عمل آوری کا جائزہ لیا۔خزانہ کے پرنسپل سیکرٹری ، مکانات و شہری ترقی کے پرنسپل سیکرٹری ، صنعت و حرفت کے پرنسپل سیکرٹری ، منصوبہ بندی ، ترقی و نگرانی کے پرنسپل سیکرٹری، کمشنر سیکرٹری تعمیرات عامہ/ڈی ایم آر آر اینڈ آر ،سی ای او ،جے ٹی ایف آر پی و دیگر اعلیٰ افسران نے میٹنگ میں شرکت کی۔سی ای او جے ٹی ایف آر پی نے پروجیکٹ کی عمل آوری کی تفاصیل پیش کیں۔اُنہوںنے کہا کہ 340کروڑ روپے کی رقم کے کام پہلے ہی ایوارڈ کئے گئے ہیں جبکہ 256کروڑ روپے کے کام ٹینڈر نگ کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔پروجیکٹ سٹیر ینگ کمیٹی نے اس موقعہ پر پروجیکٹ کی عمل آوری میں مزید سرعت لانے کی ہدایت دی۔کمیٹی نے پروجیکٹ کی آخری تاریخ جون 2020ءسے دسمبر 2021ءتک بڑھانے کی تجویز کی توسیع کی۔کمپونٹ دو اور تین کے تحت جن میں سڑکوں پلوں اور شہری فلڈ منیجمنٹ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل ہے میں تیزی لانے کے لئے سٹیرینگ کمیٹی نے جے اینڈ کے ای آر اے کو 580کروڑ روپے مالیت کے کام منتقل کرنے کو منظوری دی۔
۔523 مسافروں کو کرگل اور لیہہ ہوائی پروازوں کے ذریعے پہنچایا گیا
جموں//کرگل کے 523 مسافروں کو انڈین ائیر فورس جہازوں کے ذریعے جموں اور سر ی نگر سے کرگل / لیہہ پہنچایا گیا۔305مسافروں کو IL-76 جہاز میں سری نگر سے لیہہ جبکہ 22مسافروں کو کرگل سے سری نگر ، 5مسافروں کو کرگل سے جموں اور 191مسافروں کو جموںسے کرگل AN-32 کرگل کوریر کی تین اڑانوں کے ذریعے جموں سے کرگل پہنچایا گیا۔اِن باتوں کا اِظہار سٹیٹ کاڈی نیٹر کرگل کوریر سروس عامر علی نے آج یہاں کیا۔مسافروں نے سی ای سی ایل اے ایچ ڈی سی کرگل فیروز خان، چیئرمین قانون ساز کونسل حاجی عنایت علی ، ڈپٹی کمشنر کرگل بصیر الحق اور انڈین ائیر فورس کے حکام کااِن اڑانوںکا بندوبست کرنے کے لئے شکریہ ادا کیا۔مسافروں نے جموں کے لیزان آفیسر محمدیوسف ، سری نگر کے اسد علی ، کرگل کے انور حسین اور اسسٹنٹ لیزان افسروں کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا۔
پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض
جموں //گورنمنٹ وومن کالج گاندھی نگر کے شعبہ ماحولیاتی سائنس میں بطور ایچ او ڈی اپنے خدمات انجام دینے والی پروفیسر نازیہ رسول لطیف کو جموں یونیورسٹی کی جانب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی گئی ہے ۔ڈاکٹر نازیہ جموں یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کے ایچ او ڈی ڈاکٹر راج کمار رام پال کے زیر تحت اپنی تحقیق کر رہی تھیں ۔