وی ایچ پی کو بی جے پی سے اپنے تعلقات منقطع کرنے چاہئیں: پینتھرز پارٹی
جموں //جموں میں وشو ہندو پریشد کی جانب سے آرگنائزیشن کی 50سال کی تواریخ میں پارٹی کے بین الاقوامی جنرل سیکرٹری ملن پرناڈ کی یہاں اپنا پہلا اجلاس منعقد کرنے کی ستائش کرتے ہوئے نیشنل پینتھرز پارٹی کے چیئر مین ہرش دیو سنگھ نے وی ایچ پی کی قیادت سے ریاست میں ہندووں کو مدد کرنے اور انہیں مستحکم بنانے کی اپیل کی نہ کہ موقعہ پرست لیڈروں اور یساسی پارٹیوں کو ،جو اپنے حقیر سیاسی مفاد کے فرغ کیلئے ہندوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وی ایچ پی ایک ہندووں کی ایک غیر۔سیاسی تنظیم ہے اور اسے لوگوں کی خواہشات کے مطابق اپنا کام کرنا چاہیے ،نہ کہ کسی خاص سیاسی پارٹی کیلئے کام کرنا چاہیے، جو ہندووں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرکے فقط اپنا سیاسی مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے بی جے پی پر اپنے ساڑھے تین سال کے دور اقتدار میں اقتدار کی ہوس کیلئے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا مبینہ الزام لگایا ۔انہوںنے کہا کہ بی جے پی کے دور اقتدار میں ہی ماتا ویشنو دیوی کے لئے ہیلی کاپٹر سروسز میں سروس ٹیکس عائد کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دور میں ہی قانون ساز اسمبلی میں پاکستانی نعرے لگائے گئے۔انہوں نے مبینہ الزام لگایا کہ بے جے پی کے اقتدار میں 11,000 سنگ بازوں کو رہا کیا گیا ،جن کے خلاف باضابطہ ایف آئی آر درج کئے گئے تھے۔دفعہ 370کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی پر دوہرے سٹنڈارڈ کا الزام لگایا ۔
بی ایڈ داخلہ امتحان 21جولائی کو
آرئینزکی خواہشمند امیدواروں کیلئے ہیلپ ڈیسک قائم
جموں // آرئنز کالج آف ایجوکشین راجپورہ ،چندیگڑھ میں بی ایڈ سیشن 2019-21 کے داخلہ کیلئے رجسٹریشن عمل 19جون 2019 سے جاری کیا گیا ہے۔کالج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خواہش مند امید واروں کے لئے احاطہ میں ہیلپ ڈیسک قائم کی گئی ہے۔ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر رمن رانی گپتا نے یہ جانکاری دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب سرکار نے بی ایڈ داخلہ کی تمام ذمہ واریاں پنجاب یونیورسٹی، چندی گڑھ کو سونپی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی ایڈ کے داخلہ کیلئے رجسٹریشن عمل 19جون 2019 سے جاری کیا گیا ہے،جس کے لئے فیس جمع کرنے کیلئے 10 جولائی2019 آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے،جبکہ 12 جولائی2019 فوٹواور دستخط اپ لوڈ کرنے کے لئے آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی ایڈ داخلہ امتحان 21جولائی کو منعقد کیا جائے گا اور طلاب کو کالجوں میں داخلہ میرٹ کے بنیادوں پر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں آرئینز گروپ آف کالجز میں مفر فارم پر کئے جا رہے ہیں اور مفت گائیڈنس بھی فراہم کی جائے گی،جس کے لئے کالج کے احاطہ میں ہیلپ ڈیسک قائم کی گئی ہے۔
مغل روڈ سڑک حادثہ میں بچوں کی موت پر پنتھر س پارٹی کا تعزیت کا اظہار
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی نے آج صبح نئی دہلی میںتعزیتی میٹنگ کا اہتمام کرکے اس ہفتہ سورنکوٹ۔مغل روڈ پر ہوئے سڑک حادثہ میں 12سے زیادہ اسکولی بچوں کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا اور سڑک حادثہ کی مرکزی ایجنسی سے تفتیش کرانے کا مطالبہ کیا کیونکہ جموں وکشمیر میں کوئی حکومت نہیں ہے۔پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ کو آج ان کے ایک مقامی دوست مسٹر قریشی نے اس حادثہ کے بارے میں بتایا۔یاد رہے کہ اسی ہفتہ اسکول کے طلبا ایک گاڑی سے اسکول پکنک پر جارہے تھے کہ اسی دوران پونچھ مغل روڈ پر،جو سورنکوٹ کو وادی کشمیر سے جوڑتا ہے، ا ن کی گاڑی پلٹ گئی اور تقریباًً ایک درجن اسکول بچوں کی موقع پر ہی موت ہوگئی جبکہ کئی دیگر زخمی ہوگئے۔پولیس موقع پر کئی گھنٹوں کے بعد پہنچی اگر پولیس وقت پر پہنچ جاتی تو کئی طلبا کو طبی مدد مہیا کراکر بچایا جاسکتا تھا۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہاکہ جموں وکشمیر میں کوئی حکومت نہیں ہے اور ریاست میں صدر راج کے نافذ ہونے کی ایک وجہ سے صرف ایک آدمی جموں وکشمیر کے گورنر ضروری سرگرمیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کا تقریباًً نصف حصہ پاکستان اور چین کے غیرقانونی اور جبری قبضہ میں ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستان کے صدر رامناتھ کووند کو ایک خط لکھ کر اس دردناک حادثہ کی آزاد کمشنر سے تفتیش کرانے کا مطالبہ کیا جو ریاستی حکومت کی ناکامی ثبوت ہے۔ پنتھرس پارٹی نے صدر جمہوریہ پر ان بچوں کے لواحقین کو مالی مدد اور مختلف اسپتالوں میں داخل زخمی طلبا کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرانے پر بھی زوردیا۔تعزیتی میٹنگ میں پنتھرس پارٹی نے بچوں کی موت پر دکھ کااظہار کرتے ہوئے ان کے لواحقین کے ساتھ گہری تعزیت کا اظہارکیا ۔
خورشید گنائی جموں میں یکم جولائی کو عوامی دربار کا انعقاد کریں گے
سرینگر//گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی کنونشن سینٹر کنال روڈ جموں میں یکم جولائی2019 کو صُبح ساڑھے دس بجے کے بعد عوام کے ساتھ ملاقات کے لئے موجود رہیں گے۔جو وفود اور افراد اپنے اپنے مسائل کو اُجاگر کرنا چاہئے ہوں وہ مشیر موصوف کے ساتھ اس روز ملاقات کرسکتے ہیں۔
چائلڈ ویلفیئر کمیٹی اور چائلڈ لائین نے نو عمر لڑکی کی شادی روک دی
جموں//چائلڈ ویلفیئر کمیٹی اور چائلڈ لائین نے چھنی ہمت جموں میں ایک 16 برس کی لڑکی کی شادی ہونے سے رکوا دی۔چائلڈ ویلفیئر کمیٹی جموں اور چائلڈ لائین کو پسماندہ کنبے سے تعقل رکھنے والی16 برس عمر کی ایک لڑکی کی شادی سے متعلق اطلاع موصول ہوئی۔ اس طلاع پر
فوری کاروائی کرتے ہوئے پولیس کو جانکاری دی گئی اورمتعلقین پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم چھنی ہمت پہنچی اور اس شادی کو ہونے سے روک دیا۔ٹیم نے وہاں پہنچ کر والدین اور لوگوں سے لڑکی کی عمر کے بارے میں تحقیقات کی۔تاریخ پیدائش کی جانچ کرنے کے بعد پولیس نے پایا کہ یہ لڑکی ابھی نو عمر ہے اور اس شادی کو روک دیا ۔ یہ پوری کاروائی چیئرپرسن ڈسٹرکٹ چائلڈ ویلفئیر کمیٹی شالنی شرما کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔بعد میں مذکورہ لڑکی اور اس کے والدین کی کونسلنگ کی گئی اور انہیں نابالغ بچوں کی شادی کے مضر اثرات سے روشناس کرایا گیا۔
بیک ٹو ولیج کو کثیر دیہی مدعوں کو حل کرنے کی صلاحیت ہے ؛ ڈاکٹر نریندر
جموں //بیک ٹو ولیج کو دیہی آبادی کے کثیر مسائل حل کرنے کی صلاحیت ہے کیونکہ انتظامیہ نے لوگوں میں مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کی ہے۔اس سے دیہات بااختیار بن جائیں گے اور دیہی آبادی کی ہجرت پر روک لگانے میں بھی مدد ملے گی۔ان باتوں کا اظہا ربی جے پی کے ریاستی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر نریندر سنگھ نے بیک ٹو ولئیج پروگرام کا مشاہدہ کرنے کے دوران کیا گیا ۔بیک ٹو ولئیج پروگرام کا مشاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے اں دیہات میں امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے جو برسوں سے اپنے دیہاتوں کی ترقی اور نبنیادی سہولیات کے لئے جد و جہد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام نے ان پروگراموں کے تئیں گرم جوشی دکھائی ہے اور ان پروگراموں سے اپنی امیدیں وابسطہ رکھی ہیں۔انہوںنے کہا کہ ان پروگراموں کے تحت دیہی آبادی میں سرکاری خدما ت میسر کی جا رہی ہیں۔انہوں نے انتظامیہ کو یہ پروگرام منعقد کرنے کیلئے ستائش کی۔انہوں نے کہا کہ ان پروگراموں سے لوگوں اور سرکار کے درمیان ایک تال میل پیدا ہوا جس کی رو سے دیہی علاقوں کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ان پرگراموں سے لوگوں کی خواہشات پورا کرنے میں مدد ملے گی ،جس سے دیہاتوں میں طرز زندگی بہتر بنے گا۔انہوں نے کہا کہ پالسیاں بنیادی سطح پر لاگو کرنے سے دیہاتوں سے ہجرت پر روک لگے گی ۔انہوں نے ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک سے ایسے پروگراموں کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے کی اپیل کی، تاکہ دیہی علاقوں کا طرز زندگی بہتر بن سکے۔
منشیات پر کون پابندی عائد کرے۔۔۔ ؟ : اے بی ایس
جموں //آدرش بھارتیہ سماج بہور کیمپ کے گرد و نواح میں منشیات کی بدعت پر کافی تشویش کا اظہار کیا ہے۔،جس کی وجہ سے علاقہ کے متعدد نوجوان منشیات کی لت میں مبتلا ہوئے ہیں۔اے بی ایس نے نشہ مکت راشٹر درشن کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نشہ سے نوجوان آبادی اپنی صحت، کئیرئیر کو تباہ کرکے آخر کار موت کے گلے لگ جاتے ہیں۔اس سلسلہ میں تنظیم نے لوگوں کو منشیات کے مضر اثرات سے باخبر بنانے کیلئے بیداری کیمپ منعقد کرنے کی مہم چلائی ہے،تاکہ نوجوانوں کو منشیات کی بدعت سے بچایا جا سکے۔تنظیم نے کہا ہے کہ منشیات کی بدعت سے مہلک بیماریاں پھیل جاتی ہیں ،جس سے لوگ جسمانی اور ملای طور سے کمزور ہو جاتے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ منشیات جیسے کہ شراب ، تمباکو، چٹہ، فکی، افیم اور دیگر ذرائع منشیات فروشوں سے آسانی سے دستیاب ہیں۔اس سلسلہ میں متعلقہ حکام کی جانب سے قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے مجرموں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ این جی او کے کرنل شرما نے سماج کے مذہبی لیڈروں اور دانشور طبقہ سے اس سلسلہ میں آگے آنے کو کہا ہے،تاکہ نوجوانوں ک ومنشیات کی بدعت سے دور رکھا جا سکے۔