لداخ کو کانگریس ،علاقائی پارٹیوں نے فراموش کیا
رمن سوری کا خطہ کو انفراسٹریکچر،تکنیکی کالج فراہم کرنے پر زور
جموں//کانگریس اور جموں و کشمیر کی تمام دیگر علاقائی پارٹیوں پر لداخ خطہ کو فراموش کرنے کا مبینہ الزام لگاتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی ایگزیکٹو ممبر رمن سوری نے کہا ہے کہ آزادی کے بعد ہی ان پارٹیوں نے اسے کشمیر ڈویژن کا ایک توسیعی خطہ مان لیا اور اسے یکسر نظر اندز کر دیا ۔یہی وجہ ہے کہ اس سرد ریگستان میں کبھی بھی ہیلتھ کئیر ،تعلیمی اداروں،انفراسٹریکچر یا شفاف سرکار نہیں رہی ہے،جسکی وجہ سے طلاب اور لوگوں کو مجبور ہو کر اپنے منزل و مقصود کیلئے اس خطہ سے بھاگنے پر مجبورہوناپڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیاں جیسے کہ کانگریس، نیشنل کانفرنس یا پیوپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے اس خطہ کو ہمیشہ سے ہی فراموش کیااور فوجی لحاظ سے اہم اس خطہ کو نظر انداز کیا اور اسے یونیورسٹیوں ،تکنیکی کالجوں ،انڈور اسٹیڈیم ،ہر موسم میں چلنے والی سڑک و دیگر انفراسٹریکچر سے محروم کرکے رکھا ہے لیکن مرکز میں (این ڈی اے) نیشنل ڈیموکریٹک ایلائنس سرکار کی وجہ سے اس فراموش کئے ہوئے خطہ کے بارے میں صوبائی درجہ کا صیح فیصلے لیا گیا۔ اور اب اس درجہ کیلئے اسامیاں پیدا کرکے اس کومستحکم کیا جا رہا ہے۔ریاستی انتظامیہ کونسل (SAC) کی جانب سے صوبہ کیلئے 470۔اسامیاں بشمول ڈائریکٹر چار چیف انجینئر، چار جوائنٹ ڈائریکٹر ،چار فارسٹ کنزریوٹرس، و دیگر سینئر پوزیشن کی اسامیاں پیدا کیں۔رمن صوری نے کہا کہ یہ فقط این ڈی اے۔I اور این ڈی اے ۔II میں ہی ممکن ہوا ہے۔انہوں نے کہا جب یہ نیا انتظامی یونٹ فعال بنایا جائے گا تو لوگوں کو گھروں کی دہلیز پر ہی تمام خدمات مہیا ہونگی اور انہیں ادھر اُدھر بھاگنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔رمن صوری نے ان سہولیات کے علاوہ ایک انڈور اسٹیڈیم ،مکمل یونیورسٹی، تکنیکی کالج، و متعلقہ ادارے قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ لداخ ہمیزہ سے ہی گھریلو اور بدیشی سیاحوں کا ایک مقام رہا ہے لیکن جب ترقیاتی کاموں کی باری آتی ہے، تو اس خطہ کو نظر انداز کیا جا تاہے۔ انہوں نے اس خطہ کو تمام بنیادی سہولیات مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نہرو گاندھی خاندان کو بد نام کرنا بی جے پی کی سیاسی انتقام گیری :: کانگریس
جموں // نہرو،گاندھی خاندان کو کانگریس پارٹی کے طاقت کا ایک بڑا وسیلہ قرار دیتے ہوئے پردیش کانگریس نے بے جے پی پر مجاہدین آزادی اور شہیدوں کی بے حرمتی کرنے سے بڑا سکون آتا ہے۔پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان اعلیٰ آنند شرما نے ان باتوں کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور اسکی حمایتی تنظیمیں س ابت سے مطمئن ہیں کہ نہرو، گاندھی خاندان شاندار پرانی پارٹی کی طاقت ہے اور اسکے اعلیٰ لیڈروں کی شبہیہ کو داغدار بنا کر وہ اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو سے لیکر اندرا گنادھی تک ،راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی ،راہل گاندھی اور یہاں تک کہ پرینکا گاندھی انکے سیاسی انتقام گیری کا ایک حصہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی لیڈر شپ خصوصاً کانگریس پارٹی اور اس میں خامیاں ڈھونڈنا بی جے پی کی سیاست کا طریقہ اور طرز ہے۔انہوںنے کہا کہ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد غلام نبی آزاد تواریخ سے چند حقائق پیش کئے ہیں جس سے پنڈت نہرو کے کام اور تواریخی رول کو صیح سمت میں پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد نے ایوان میں کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کاصیح ریکارڈ پیش کیا،تاکہ عوام کو الحاق کی صداقت سے متعلق جانکاری حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ ملک نے شریمتی اندرا گاندھی کی قیادت میںسب سے عظیم فوجی اور سیاسی کامیابی حاصل کی ،جسے دنیا ائرن لیڈی کے نام سے پکارتی ہے۔بی جے پی لیڈران نے بنگلہ دیش وجود میں آنے کے بعد قیدیوں کو رہا کرنے میں بھی اندرا گاندھی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی یہ بھول گئی ہے کہ یہ اندرا گنادھی ہی تھی جس نے انکے ساتھ شملہ معاہدہ کرکے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو بے اثر بنایا اور پاکستان کو اپنے دیگر مسائل باہمی اشتراک سے حل کرنے کے لئے آمادہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہپاکستان کو تقسیم کرنا بھارت کی ایک بڑی سیاسی کامیابی تھی۔انہوں نے اس سلسلہ میں س وقت تمام سیاسی شخصیات کے رول پر مباحثہ کرنے کیلئے بی جے پی کو خوش آمدید کیا۔انہوں نے کہا کہ تواریخ کو تور موڑ کر پیش کرنا آنے والی پیڑھی کیلئے خطر ناک ہے۔
میں فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کا اہتمام YCET
جموں// کالج کے فیکلٹی ممبروں کو مطلوبہ ہنر اور جانکاری سے لیس کرنے کے مقصد سے یوگانندا کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ’’سپوکن ٹیٹوریل پروجیکٹ آفIIT بمبئی نے فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام منعقد کیا گیا۔ شعبہ ایپلائیڈ سائنسز فیکلٹی کے تمام ممبروں نے ایف ڈی پی میں شرکت کی۔پروگرام کا آغاز کالج کے ڈائریکٹر انجینئر بی آر ورما کی جانب سے افتتاحی خطبہ کے ساتھ کیا گیا۔ایف ڈی پی کا مقصد Libre Office کے متعدد ایپلکیشنز سیکھانا تھا جیسے کہ : Writer (word processing), Calc (spreadsheets), Impress (presentations), Draw (vector graphics and flowcharts), Base (databases), and Math (formula editing)
جس سے یہ مارکیٹ میں سب سے اہم آفس سیوٹز بن جائے گی۔Libre Office ایک طاقتور اور مفت آفس سیوٹ ہے،جسے ملک بھر میں کروڑوں لوگ استعمال کر رہے ہیں۔یہ ایک ایسا آلہ ہے جس سے اپنی تخیلق کو نکھارنے اور اپنی پیدواریت میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ کمپیوٹر اور آئی ٹی انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر انجینئر دنیش گپتا فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے کارڈی نیٹر ہیں۔YCETاپنے طلاب اور فیکلٹی کو اب سے بہترین پڑھائی کا ماحول مہیا کرتا ہے۔پروگرام میں فیکلٹی کے تمام ممبروں نے سرگرمی سے شرکت کی اور سکھلانے کیلئے ایسا پلیٹ فرام مہیا کرنے پر منیجمنٹ کا شکریہ ادا کیا۔
۔ 1947کے شرنارتھیوں کا وفد سکھبیرسنگھ بادل سے ملاقی
جموں / آل جے اینڈ کے پی او جے کے 1947کے شرنارتھیوں کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شرنارتھیوں کے ایک وفد نے نئی دہلی میں پنجاب کے سابقہ وزیر اعلیٰ و شرومنی اکالی دل کے پردھان ممبر پارلیمنٹ سکھبیر سنگھ بادل سے ملاقات کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وفد نے دہلی گورودوارہ منیجمنٹ کمیٹی کے صدر ایس منجندر سنگھ سرسہ سے بھی ملاقات کی اور ان سے جموں وکشمیر کے شرنارتھیوں کے مسائل کے سلسلہ میں بات و چیت کی۔وفد نے اس سلسلہ میں ممبر پارلیمنٹ سکھبیر سنگھ بادل کو وزیر داخلہ کے نام شرنارتھیوں کی13 مانگوں پر مشتمل ایک خط پیش کیا اور انہیں شرنارتھیوں کی جائز مانگوں کو حل کرنے کی استدعا کی ہے۔/ آل جے اینڈ کے پی او جے کے 1947کے شرنارتھی انٹیکچول فورم نے ایس سکھبیر سنگھ اور منجندر سنگھ کا تہیہ دل سے شکریہ ادا کیا جنھوں نے / آل جے اینڈ کے پی او جے کے 1947کے شرنارتھیوں کے وفد کو بغور سان اور انہیں یقین دلایا کہ وہ انکی جائز مانگوں کو وزیر داخلہ کے ساتھ اُٹھائیں گے۔
پینتھرس پارٹی نے رام نگر میں بی جے پی کی غنڈی گردی کی مذمت کی
جموں //جے کے این پی پی نے رام نگر میں بی جے پی کے غنڈوں کی جانب سے ایچ ایس ایس کئیا ،رام نگر میں بی جے پی کی غنڈہ گردی کی مذمت کی ۔جے کے این پی پی کے ریاستی سیکرٹری گگن پرتاپ سنگھ نے طلاب پر ہوئے خطر ناک حملہ کی مذمت کی،جو اپنے جائز مطالبات کیلئے احتجاج کر رہے تھے۔بی جے پی پر اودہم پپور ضلع میں مبینہ طور سے دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنے کا مبینہ الزام لگایا ۔انہوںنے
اسے ناقابل برداشت قرار دیااور کہا کہ اس سے پورے علاقہ میں دکھ کی لہر پھیل گئی ہے۔انہوںنے ان غنڈوں کے خلاف فوری طور سے معاملات درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقہ میں کھے عام گھوم رہے ہیں۔واقعہ کی تفصیل دیتے ہوئے پرتاپ سنگھ نے کہا کہ ایچ ایس ایس کے طلاب سکول میں اساتذہ کی کمی کو لیکر احتجاج کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ جب سکول کے طلاب نے مقامی سابقہ ایم ایل اے کے خلاف احتجاج کیا تو زعفران پارٹی کے غنڈوں نے ان بے گناہوں پر حملہ کیا۔انہوںنے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ بی جے پی کے غنڈوں نے طلاب پر حملہ کیا ہو، بلکہ اس سے قبل بھی ایسے چھ معاملات ہیں۔بی جے پی کو اس حملہ کا ذمہ وار قرار دیا۔انہوں نے اس حملہ میں ملوث لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔