سرپنچوں کے براہ راست انتخاب کیلئے بل میں ترمیم
مینڈھرکے سابقہ سرپنچوں نے ریاستی گورنرکے فیصلے کوسراہا
جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر کے کئی سابقہ سرپنچوں نے گورنر کے اس فیصلے کی سراہنا کی ہے جس میں انھوں نے سرپنچوں کو براہ راست منتخب کرنے کے لئے ایک بل میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے الیکشن کا بگل بجایا ہے۔انھوں نے ریاستی گورنر کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جو فیصلہ ریاستی گورنر اور ان کی انتظامیہ نے کیا ہے ہم اس کی سراہنا کرتے ہیں کیونکہ سرپنچوں کا انتخاب براہ راست عمل میں لانا ایک اچھا فیصلہ ہے اور انھوں نے جموں کشمیر پنچائتی راج ایکٹ1989کو اصلی حالت کو بحال کیا ہے جس کے تحت سرپنچوں کا انتخاب اب براہ راست کیا جا سکتا ہے کیونکہ پنچائتی راج نظام میں سرپنچوں کی اہمیت الیکشن سے ہی اجاگر ہوتی ہے اور وہ اپنے فرائض منصبی ٹھیک طریقے سے انجام دیتے ہیں کیونکہ سرپنچوں کو اس طرح مکمل اختیارات حاصل ہوتے ہیں جس سے مقامی ضروریات عام لوگوں کی پوری ہوتی ہیں اور مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی کام عمل میں لائے جاتے ہیں کیونکہ برائے راست انتخابات کی وجہ سے سرپنچ لوگوں کے سامنے جواب دہی بنتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ ریاستی گورنر1773کے آئینی بل میں بھی ترمیم کریں گے جس سے پنچائتوں کو پوراا ختیارات حاصل ہوں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ریاستی گورنر پر پورا یقین ہے کہ وہ جلد پنچائتی انتخابات عمل میں لائیں گے اور پنچائتیں پوری طرح مکمل بھی کروائیں گے تاکہ پنچائتی نمائندگان کو پورا حق حاصل ہو گا کہ وہ لوگوں کے کام اپنی مرضی سے کر سکیں۔ آخر میں سابقہ سرپنچوں نے ریاستی گورنر کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی گورنر جلد الیکشن کروائیں گے تاکہ پنچائتیں اپنا کام کر سکیں۔
پہاڑی ایکشن فورم مینڈھرکااجلاس منعقد
ریاستی گورنرسے پہاڑی طبقہ کے مطالبات پورے کرنے کامطالبہ
جاوید اقبال
مینڈھر//پہاڑی ایکشن فورم مینڈھرنے ریاستی حکومت سے پہاڑی طبقہ کی مانگوں پرہمدردانہ غورکرنے کامطالبہ کیاہے۔یہ مطالبہ یہاں پہاڑی ایکشن فورم مینڈھر کے اجلاس میں کیاگیا جس کی صدارت فورم کے صدر ایڈوکیٹ شوکت چوہدری نے کی۔اس موقعہ پر کافی تعداد میں پہاڑی ایکشن فورم سے تعلق رکھنے والے راکین نے میٹنگ میں حصہ لیا۔اس موقعہ پر بولنے والوں نے ریاستی گورنر سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پہاڑی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تین فیصد ریزرویشن کا فیصلہ لیں جو کہ ریاستی حکومت نے پہاڑی طبقہ کے لئے بل پاس کرکے ریاستی گورنر کے پاس بھیجا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر آپ نے اس بل کو واپس ریاستی حکومت کو بھیج دیا تھا لیکن اس کے بعد ناجانے وہ بل کس دفتر کی دھول چاٹ رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ ریاستی گورنر فوری طور اس بل کو منظوری دیں تاکہ پہاڑی طبقہ کو اپنا حق مل سکے کیونکہ پہاڑی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے بچے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن اس وقت تک پہاڑی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے بارے میں کسی بھی حکومت نے نہیں سوچا۔لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمیں ریاستی گورنر پر پورا یقین ہے کہ وہ پہاڑی طبقہ کو ایس ٹی سٹیٹس کا درجہ دینے میں اہل رول ادا کریں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ہر ریاستی سرکار نے پہاڑی طبقہ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا ہے اور انتخابات کے د وران بڑے بڑے وعدے کئے ہیںلیکن کسی بھی حکومت نے پہاڑی طبقے کے ساتھ کیا ہوا کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ا ن کاکہنا تھا کہ اب ہمیں ریاستی گورنر پر ہی پورا یقین ہے کہ وہ پہاڑی طبقہ کو ایس ٹی سٹیٹس کے زمرے میں ضرور لا کر پہاڑی طبقہ کو اپنا حق ضرور دیں گے۔تاکہ طبقہ کی طرف سے کئی سال پرانی مانگ پوری ہو سکے اور ان کے بچوں کو انصاف مل سکے کیونکہ ریاستی گورنر ایک سنجیدہ اور سلجھے ہوئے انسان ہیں جو لوگوں کے مطالبات کے بارہ میں پوری طرح سوچتے ہیں اور حل بھی کرتے ہیں۔لہذا ہمیں امید ہے کہ پہاڑی طبقہ کو پورا انصاف دیا جائے گا اور ان کے مطالبات فوری طور حل کئے جائیں گے۔
محکمہ تعلیم میں اٹیچ منٹوں کاسلسلہ جاری ،سرکاری حکمنامہ بے اثر
ساتھرہ تعلیمی زون میں متعدد اساتذہ ابھی بھی اٹیچ،طلباء کی تعلیم متاثر
عشرت حسین بٹ
منڈی//گزشتہ دنوں ریاستی حکومت کی جانب سے تمام محکمہ جات میں اٹیچ منٹوں کو منسوخ کرنے کے احکامات صادر کیے گیے تھے جو کاغذات تک ہی محدود ہیں اور زمینی سطح پر سرکار کے اس حکمنامے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔ذرائع کے مطابق ساتھرہ تعلیمی زون میں بیشتر اساتذہ اعلیٰ افسران کے ساتھ اثر رسوخ کی وجہ سے نزدیکی اسکولوں میں اٹیچ کیے گیے ہیں جن کی اٹیچ منٹوں کو سرکار کی طرف سے حکم صادر کرنے کے باوجود بھی اپنی جگہوں پر واپس نہیں بھیجاگیاہے۔ ذرائع نے بتایا کہ تعلیمی زون ساتھرہ کے دور دراز علاقوں کے اسکولوں میں سے اساتذہ کو زون کے ہی نزدیکی سکولوں میں محکمہ کے افسران کی ملی بھگت سے اٹیچ رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے زون کے دور دراز کے علاقہ جات کے اسکولوں میں تعلیمی نظام کافی حد تک متاثر ہوتا جا رہا ہے ۔ذرائع کا کہنا تھا کہ زون کے دور دراز اسکولوں میں اساتذہ حاضر بھی نہیں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان سکولوں کے طلباء دوسرے سکولوں کے طلباء کے ساتھ تعلیمی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ رابطہ کرنے پر زونل ایجوکیشن افسر ساتھرہ پروین اختر نے کشمیر اعظمی کو بتایا کہ کچھ اساتذہ کو انہوں نے چیف ایجوکیشن آفسر کے کہنے پر ضرورت کی بنیاد پر کچھ اسکولوں میں رکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسے اٹیچ منٹ نہیں کہہ سکتے۔
ریچھ کے حملے میںشدید زخمی شخص
علاج کیلئے جموں ریفر
سمت بھارگو
راجوری//بدھل علاقہ کی پہاڑیوں پر ایک خانہ بدوش شخص پرریچھ نے حملہ کرکے اسے شدیدزخمی کردیا جسے ضلع ہسپتال راجوری بنیادی علاج اورسرجری کے بعدجموں میڈیکل کالج ریفرکردیاگیاہے۔متاثرہ شخص کی شناخت عبدالحسن ولدفرنگی حسین ساکن ترگائیں بدھل کے طورپرہوئی ہے جس پرگذشتہ روز نیلی ڈھوک بدھل میں ریچھ نے حملہ کیااوراسے شدیدزخمی کردیا۔اس کے بعدزخمی شخص کوضلع ہسپتال راجوری لایاگیاجہاں پربنیادی علاج اورسرجری کے بعداسے جموں میڈیکل کالج مزیدعلاج کیلئے منتقل کردیا۔ضلع ہسپتال راجوری میں ای این ٹی سپیلشٹ نے معائنہ کرنے بعدگذشتہ روز دیگرعملہ کی مددسے آپریشن کیااوریہ آپریشن میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹرمحمودبجاڑکی نگرانی میں کیاگیا۔ضلع انتظامیہ نے زخمی شخص کے علاج ومعالجہ کیلئے دس ہزارروپے کی امدادورثاء کے حوالے کی۔
ایم ایل اے درہال کی گورنر سے ملاقات
سری نگر/سابق وزیر اور ایم ایل اے درہال چوہدری ذوالفقار علی نے یہاں راج بھون میں گور نر این این ووہرا کے ساتھ ملاقات کی۔انہوں نے گورنر کو اپنے حلقہ میں جاری سکیموں اور مختلف سیکٹروں میں مطالبات کے بارے میں جانکاری دی۔ انہوں نے خاص طور سے سکولوں کو بڑھاوا دینے، نگروٹہ راجوری میں کیندریہ ودھیالیہ قائم کرنے، جموں۔ اکھنور۔ پونچھ سڑک کو چار گلیاروں والی سڑک بنانے، راجوری میں ریسوینگ سٹیشن قائم کرنے اور راجوری و پونچھ اضلاع میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے جیسے معاملات گورنر کے ساتھ اُٹھائے۔چوہدری ذوالفقار نے گورنر کی توجہ قبائلی طبقے کی بہبودی کو یقینی بنانے کی طرف مبذول کرائی۔
پونچھ میں ٹاٹا سومو حادثہ کا شکار
5مسافر زخمی،ایک جموں منتقل
پونچھ//پونچھ میںپیش آئے ایک سڑک حادثے میں پانچ افرادزخمی ہوگئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شاہ پورسے پونچھ آرہی ایک سومو سڑک سے لڑھک کرگہری کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں پانچ افرادزخمی ہوگئے جنھیں ضلع ہسپتال پونچھ علاج کیلئے لیجایاگیاجہاں سے ایک شخص کوجموں میڈیکل کالج ریفرکیاگیا۔اس دوران حادثے میں زخمی ہوئے افرادکی شناخت نظردین ولد عطامحمد،عبدالغنی غنی ولد محمددین ،نظیرحسین ولد محمدبشیر، محمدعارف ساکن ولی محمداورمحمدعثمان ولد ذاکرحسین ساکنان شاہ پورکے طورپرہوئی ہے۔شدیدزخمی نظرمحمدکوجموں میڈیکل ریفرکردیاگیاہے۔ا س سلسلے میں پولیس نے معاملہ درج کرلیاہے۔علاوہ ازیں ڈپٹی کمشنرپونچھ نے ضلع ہسپتال کادورہ کرکے زخمیوں سے بات چیت کی اوربہترعلاج کی ہسپتال انتظامیہ کوہدایت دی۔اس دوران ڈی سی نے چارزخمیوں کے علاج کیلئے ریڈکراس کے تحت 12ہزارروپے امدادواگذارکی ۔
ڈگری کالج کوٹرنکہ کی کلاسزشروع ہونے میں تاخیرسے طلباء پریشان
کوٹرنکہ// ڈگری کالج کوٹرنکہ میںکلاسز شروع نہ کرنے کے سبب نوجوانوں میں مستقبل کولے کرغیریقینی اوربے اطمینانی پائی جارہی ہے اور جن بچوں کو آگے کالج میں داخلہ لینا ہے وہ کافی پریشانیوں سے دوچارہیں کیونکہ سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کہ وہ کہاں داخلہ لیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کوٹرنکہ میں ڈگری کالج کی منظوری تو مل ہی گئی تھی لیکن اب کلاسز کو شروع کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے مقامی طلباء اسے اپنے ساتھ دھوکہ سمجھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بیروزگار یوتھ کے صدر انجینئر سجاد نے کہا کہ مدتوں بعد کوٹرنکہ میں ڈگری کالج قائم ہونے سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑگئی تھی لیکن بد قسمتی سے اب حکومت ہی گر گئی اور اب لوگ اس کشمکش میں مبتلاہیں کہ کالج کی کلاسز کب شروع ہوں گی ۔لوگوں کاکہناہے کہ یہ بہت دور دراز علاقہ ہے جس میں خواص ،گندہ ،کیری ،کھاہ ،جمولہ وغیرہ علاقے کوٹرنکہ سے کئی کلو میٹر کی دوری پر واقع ہیں۔ ان لوگوں کو یا تو بدھل ڈگری کالج میں جانا ہوتا ہے یا راجوری اس لیے یہاں کے لوگ اپنے بچوں کے مستقبل کے سلسلے میںپریشان ہیں۔انجینئر سجاد نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ وہ جلدہی کوٹرنکہ میں ڈگری کالج کی کلاسز کو شروع کرنے کی منظوری دیں تاکہ یہاں کے طلبہ اپنے مستقبل کو سنوار سکیں اور ان کے والدین بھی بچوں کی تعلیم کو آگے بڑھا سکیں کیونکہ بہت سے بچوں کے والدین ایسے ہیں جو کالج دور ہونے کی وجہ سے بچوں کو گھر میںبٹھا دیتے ہیں ان کے اخراجات پورے نہیں کرسکتے اور بچو ںکا مستقبل اندھیرے میں پڑ جاتا ہے لہذا گورنر انتظامیہ کو چاہیے کہ جلد ازجلدکالج کی کلاسز شروع کی جائیںتاکہ طلبہ کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور طلبہ بآسانی اپنے مستقبل کی طرف گامزن ہوسکیں۔
گوجربکروال طلباء کیلئے
ہرضلع میں بورڈنگ اسکول قائم کرنے کامطالبہ
حسین محتشم
پونچھ//پونچھ کے سماجی کارکن وگوجرلیڈرشمشیر ہکلہ پونچھی نے ریاستی گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے گوجر بکروال طبقہ کے لڑکے اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ بورڈنگ اسکول نوودیالیہ کی طرز پر ریاست کے ہر ضلع میں قائم کیے جائیں۔یہاں جاری پریس بیان میں شمشیرہکلہ پونچھی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں گوجر بکروال طبقہ کے لوگ دور اُفتادہ پہاڑی علاقوں میں آباد ہیں اور تعلیمی، مالی، سماجی، طور پر پسماندہ ہیں اس کی وجہ سے گوجر بکروال طبقہ کے طالب علموں کو تعلیم حاصل کر نے میں بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گوجر بکروال طبقہ کے لوگوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کیلئے جموں و کشمیر کے ہر ضلع میں بورڈنگ اسکول قائم کرنے کی اہم ضرورت ہے ۔شمشیر ہکلہ پونچھی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں گوجر بکروال طبقہ کے لئے کچھ سالوں پہلے جو موبائیل اسکول کھولے گئے تھے وہ موبائل اسکول بھی اب موسمِ گرما میں گوجر بکروال طبقہ کے ساتھ ڈھوکوں اور مرگوں میں منتقل نہیں ہوتے جس کی وجہ سے گوجر بکروال طبقہ کے موسمِ گرما میں ڈھوکوں میں جانے والے لوگوں کے بچے اور بچیوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوتی ہے اور ترقی یافتہ دور میں بھی ان لوگوں کے بچے اور بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرناپڑرہاہے۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے پونچھ میںناکے لگائے گئے
قواعدکی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کی گئی کارروائی
حسین محتشم
پونچھ // ٹریفک پولیس کی جانب سے ایس پی ٹریفک رورل مشتاق چوہدری اورڈپٹی ایس پی ٹریفک محمد رفیق کی قیادت میں پونچھ کے مختلف مقامات پر ناکے لگائے گئے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی گئی۔اس دوران ٹریفک پولیس کے افسروں نے ڈرائیوروں کو ہدایت کی کہ وہ ٹریفک قوانین پر عمل در آمد کر کے اپنی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔اس سلسلہ میںٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک ایس پی رورل مشتاق چوہدری اورڈی وائی ایس پی ٹریفک محمد رفیق نے بتایا کہ ہم نے اپنی ٹیم کو متحرک رکھا ہے اور وقتاً فوقتاً ناکے لگائے جاتے ہیں تاکہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کیلئے کام کیا جائے۔ انہوں نے لوگوں کو نظامِ ٹریفک کو بحال کرنے میں ٹریفک پولیس کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے ان ناکوں کے دوران دو پہیہ چلانے والوں کو ہیلمٹ پہننے کی صلاح دی جبکہ دیگر چار پہیہ گاڑیاں چلانے والوں کوسیٹ بیلٹ کا استعمال کرنے اور اور لوڈنگ سے گریز کرنے کی ہدایت دی ۔انہوں نے کہا کہ اس دوران قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی بھی کی گئی۔