سرینگر+جموں// جامع مسجد سرینگر اور درگاہ حضرت بل میں مسلسل دوسرے سال بھی اجتماعی طور پر جمعتہ الوداع کی ادائیگی ممکن نہ ہو سکی۔ ادھر جموں کشمیر کے9اضلاع میں اعلانیہ اور دیگر اضلاع میں غیر اعلانیہ طور پر کورونا کرفیو کے8ویں روز سخت بندشوں اور قدغنوں کے نتیجے میں عام زندگی بدستور مفلوج رہی۔وادی میں روایتی طور پر جمعتہ الوداع کی تقریبات کے سلسلے میں روح پرور مجالس کا اہتمام کیا جا تاتھا جس کے دوران لاکھوں فرزندان توحید نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔پچھلے سال بھی کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے ان مرکزی اور تاریخی مذہبی مقامات پر جمعتہ الوداع کی تقریبات منعقد نہیں ہوسکیں اور امسال بھی کورونا کی وجہ سے ایسا ہی ہوا۔ لاک ڈاون کی وجہ سے دوسرے سال جامع مسجد سرینگر ، درگاہ حضرت بل اور وادی کی دیگر مرکزی جامع مساجد میں اور درگاہوںو خانقاہوں کے ممبرومحراب خامو ش رہے اور لوگوں نے مقامی مساجد کے علاوہ گھروں میں ہی نما زادا کی۔ا نجمن اوقاف جامع مسجد سرینگرنے جمعتہ الوداع اور شب قدر کی مجالس و تقریبات منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔وادی کے اطراف و اکناف میں بیشتر بڑی مساجد ،خانقاہوں،درگاہوں اور امام باڈوں میں اجتماعی طور پر نماز جمعہ کی ادائیگی ممکن نہ ہوسکی۔ آستان عالیہ،حضرت شیخ العالمؒکی زیارت حضرت شیخ حمزہ مخدوم ؒکے آستان عالیہ واقع کوہ ماران ،میں بھی نمازِ جمعہ ادا نہیں کی جاسکی ۔جمعتہ الوداع کے پیش نظر حکومت نے لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لئے پابندیوں کو مزید سخت کیا تھا۔ ضلع و تحصیل صدر مقامات تک8 ویںروز بھی ہر سو سناٹا رہا۔کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے جموں کشمیر میں کرفیو نافذ رہا ۔ پورے جموں کشمیر میں ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا، بازارنہیں کھلے اور لوگوں کی آمد و رفت معطل رہی۔ جموں اور سانبہ اضلاع میں بھی کورونا کرفیو کے نتیجے میں عام زندگی مفلوج رہی۔ لاک ڈائون کے نتیجے میں کاروباری و تجارتی مراکز مقفل رہے اور ٹرانسپورٹ سڑکوں سے دور رہا۔پولیس نے کورونا ضوابط کی خلاف ورزی کی پاداش میں وادی میں43افراد کو حراست میں لیا جبکہ12کیسوں کا اندراج کرکے480افراد سے70ہزار10روپے کا جرمانہ وصول کیا۔اس دوران پولیس نے بارہمولہ اور بڈگام اضلاع میں24گاڑیوں کو بھی ضبط کیا۔