سرینگر//نئی دہلی پرجموں کشمیر کے عوام کوبیوروکریسی کے رحم وکرم پرچھوڑنے کاالزام عاید کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ مرکزیہاں لال فیتہ شاہی کو دوام بخشنے کا مرتکب ہوا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے زمینی حقائق مرکزی حکومت کے تمام دعوئوں کی نفی کرتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے اگرگزشتہ ڈیڑھ سال میں کچھ کیا تو وہ جموں و کشمیر کے عوام کو پشت بہ دیوار کرنے اور اندھیروں میں دھکیلنے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت 5اگست2019کے اعداد و شمار کو لیکر ایک وائٹ پیپر جاری کرے اور ملک کے عوام کو بتائے کہ یہاں کتنے پروجیکٹ شروع کئے گئے، یہاں کتنے لوگوں کو ملازمتیں اور روزگار فراہم کیا گیا، یہاں کتنی سڑکیں بنائی گئیں، کتنے بجلی پروجیکٹ اور واٹر ٹریٹمنٹ سکیمیں تعمیر کی گئیں؟ اُن کا کہنا تھا کہ 5اگست2019کے بعد یہاں کچھ نیا کرنے کے بجائے پرانے پروجیکٹوں پر جاری کام کو بھی سست رفتاری کا شکار بنا دیا گیا یا پھر بند کیا گیا۔ ا نہوں نے کہا کہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر عوامی مسائل حل کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر لوگوں کی داد رسی کیلئے کوئی بھی افسر یا اہلکار دستیاب نہیں۔ ذرائع ابلاغ میں جگہ کو پُر کرنے کیلئے مختلف محکموں کے نت نئے دن منائے جارہے ہیں جبکہ حقیقت میں ان پروگراموں کا عوام کو ذرا بھر بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ سب کچھ کاغذے گھوڑے دوڑانے کے مترادف ہے تاکہ یہ تاثر عام کیا جائے کہ حکومت عوام کیلئے دستیاب ہے ۔این سی ترجمان نے کہا کہ افسرشاہی کا رجحان اس قدر غالب ہوگیا ہے کہ سرکاری افسر ان لوگوں کے مسائل پر کان نہیں دھرتے جن کا ازالہ کرنا ان کا کام ہے ۔ترجمان نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ایسے افسران کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جن کو یہاں کے مسائل و مشکلات اور لوگوں کے مزاج کی نفی برابر بھی معلومات نہیں۔ اس رجحان کی وجہ سے بیروکریسی اور لوگوں میں رابطے کا فقدان بڑھ گیا ہے اور ایسی صورتحال میں عوام کی دادرسی ہونا ناممکن ہے۔ عمران نبی ڈار نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بیروکریسی ایک دوسرے کو ترقیاں و عہدے نوازنے اور حکومت کی طرف سے کھڑی کی گئی جھوٹ و فریب کی عمارتوں کی لیپاپوتی میں مصروف ہے۔ ڈی ڈی سی انتخابات کے وقت انتخابات لڑنے والوں کو بڑے بڑے خواب دکھائے گئے لیکن جب انہیں رتبہ اور دیگر مراعات دینے کی بات آئی تو حکمرانوں نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لی۔