جموں //محکمہ قبائلی امور نے ضلع انتظامیہ اور محکمہ مردم شماری کے اشتراک سے نقل مکانی کرنے والے قبائلی آبادی کو مختلف سکیموں کے فوائد میں اضافے اور معاشرے کی ترقی کیلئے سروے اور گنتی کا عمل شروع کیا ہے ۔ محکمہ نے نوڈل افسران کی تقرری کیلئے پرنسپل ڈسٹرکٹ مردم شماری کے افسران ( ڈپٹی کمشنرز ) سے رجوع کیا ہے ۔ متعدد اضلاع میں نوڈل افسران مقرر اور سروے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ۔ ان طبقوں کی ترقی اور سروے کیلئے 3 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ محکمہ قبائلی امور کے سیکرٹری ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت ان طبقوں کیلئے تعلیم ، صحت ، نظامِ زندگی ، نقل مکانی کی سہولت، مویشیوں کو پالنے کے طریقوں میں بہتری اور ان پر عمل درآمد کیلئے فلاحی اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کر رہی ہے ۔ اگلے تین ماہ تک ہونے والے پہلے سروے کے بعد مکمل دستاویزات اور تمام تفصیلات پر مشتمل سمارٹ کارڈز کا اجراء کیا جائے گا ۔ سروے میں خانہ بدوش آبادی کے انفرا ڈسٹرکٹ ، بین ضلع ، بین صوبہ اور بین ریاستی نقل مکانی کا احاطہ کیا جائے گا جس میں بڑے پیمانے پر گوجر اور بکروال شامل ہیں جبکہ کچھ اضلاع میں گدی ، سیپس اور دیگر قبائل بھی نقل مکانی کر رہے ہیں ۔ سروے کی تکمیل کے بعد پہلے مرحلے کا مقصد ہجرت کے اسکولوں کو مضبوط بنانے ، ہوسٹلز کے قیام ، نئے رہایشی اسکولوں کے علاوہ صحت ، ذریعہ معاش اور مویشی پالنے کے شعبے میں تجویز کردہ مداخلتوں کے اقدامات شروع کرنا ہے ۔ ڈائریکٹر قبائلی امور مشیر احمد مرزا اس جامع مشق کیلئے اضلاع اور مختلف محکموں کے ساتھ کوارڈینیشن کر رہے ہیں جو خانہ بدوش خاندانوں کی نشاندہی کرنے کا پہلا اقدام ہے اور ان کو ترقیاتی اقدامات کے علاوہ معاشرتی اور معاشی بہبود کیلئے مدد فراہم کی گئی ہے ۔ محکمہ اعلیٰ سرے سے ہجرت کے مخصوص مقامات پر کھیتوں سے متعلق مشق کیلئے سرشار رضاکاروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو بھی شامل کرے گا ۔ اس منصوبے میں ہجرت کے راستوں کی سہولیات کی تشکیل بھی شامل ہے جس کیلئے پانچ بڑے راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔