عازم جان
بانڈی پورہ //بانڈی پورہ ضلع میں حالیہ بارشوں کے بعد بیشترفلٹریشن پلانٹ اورپانی سپلائی کرنے والی سکیمیں عضومعطل دکھائی دی ،کیوں کہ نلکوں سے صاف پانی کے بجائے گدلاپانی برآمد ہوتا ہے اور بھاری رقومات سے تعمیر کی گئی سکیموں اورفلٹریشن پلانٹوں کی کارکردگی پرلوگ انگشد بدندان ہیں۔لوگوں کا محکمہ جل شکتی کے افسروں سے سوال ہے کہ معمولی بارش کے بعد واٹرسپلائی سکیمیں اورفلٹریشن پلانٹ صاف پانی فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہوئے؟ بانڈی پورہ قصبہ کو صاف پانی سپلائی کرنے والا فلٹریشن پلانٹ جو بالکل شہاب الدین صاحب بٹھو پرہے، بارشوں کے دوران مٹیالی پانی کیوں سپلائی کررہا ہے چونکہ یہ فلٹریشن پلانٹ 2013 میں جدید انجینئرنگ کے ذریعے کثیر رقم سے تعمیر ہوا ہے لیکن اس فلٹریشن پلانٹ نے بانڈی پورہ قصبے کی آبادی کو مایوس کردیا ہے ۔جب بھی بارش ہوتی ہے ،اس فلٹریشن پلانٹ سے گدلا پانی سپلائی ہوتا ہے جس کی وجہ سے بانڈی پورہ قصبے کی وسیع آبادی پینے کے صاف پانی محروم رہتی ہے۔ اس کے علاوہ کلوسہ، آجر ،آیت مولا ،چکریشی پورہ، سنر وانی کی بستیوں کو بھی بارشوں کے نتیجے میں نلکوں سے گدلا پانی سپلائی ہورہاہے ۔وٹہ پورہ قاضی پورہ کی پانی سپلائی لائنوں سے بارشوں کے دوران مٹیالی پانی سپلائی ہوجاتا ہے ۔ان دیہات کے لوگوں نے بتایا کہ آرم پورہ سنروانی کے قدیم فلٹریشن پلانٹ سے پینے کا صاف پانی سپلائی کیا جاتا ہے لیکن ہربرس لاکھوں روپے مرمت کے نام پر محکمہ جل شکتی اس فلٹریشن پلانٹ پر خرچ کررہا لیکن بارش برستے ہی اس فلٹریشن پلانٹ سے گدلا پانی سپلائی لائنوں سے بہہ جاتا ہے۔ سوناواری تحصیل اور بانڈی پورہ تحصیل کی دیگر بستیوں سے بھی اسی طرح کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ بانڈی پورہ کے لوگ ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ محکمہ جل شکتی کی ناقص کارکردگی کو ملحوظ نظر رکھ کر صاف پانی سپلائی کرنے والی سکیموںمیںسدھار لانے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں اورآبادی کو بارشوں کے دوران گدلا پانی کی سپلائی سے نجات دلائیں ۔