عمر فاروق
محبت ایک فطری جذبہ ہے۔یہ دل کی اُس کیفیت کا نام ہے جس سے ایک انسان کسی بھی دوسرے’’وجود‘‘کی طرف کشش اور رغبت محسوس کرتا ہے۔یہ انسانی وجود میں موجود طاقتور ترین جذبوں میں سے ایک ہے،جس سے انسانی تہذیب و تمدّن کی عمارت قائم و دائم اور مستحکم ہے۔ایک محب اپنے محبوب کی قُربت میں وہ لذّت،محبّت اور اپنائیت محسوس کرتا ہے جسے فقط وہ بیان کرسکتا ہے۔دوسرے لوگ اس کے ان جذبات کا صحیح طور پر اندازہ نہیں کرسکتے۔محبوب کی قُربت اسے دنیا و ما فیھا کے ہزارہا غموں سے رستگاری عطا کرتی ہے۔محبوب ہمیشہ اپنے مُحب کے ذہن و خیال پہ چھایا رہتا ہے۔وہ چاہے اپنے مُحب سے کتنا بھی دور رہے لیکن امرِ واقعہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اس کے قریب ہی رہتا ہے۔کچھ محبتیں عارضی ہوتی ہیں اور کچھ دائمی۔کبھی کسی سے محبت اُن کا ذکرِ خیر سن کر ہوتی ہے تو کبھی کسی کا ذکر سن کر،اُنہیں دیکھ کر اور پھر پرکھ کر ان سے محبت ہوجاتی ہے۔کبھی کسی کی قُربت اُن سے محبت میں اضافے کا سبب بن جاتی ہے،تو کبھی کسی سے یہی قربت ہمیشہ کی جدائی پر منتج ہو جاتی ہے۔کسی بھی وجود سے محبت عموماً تین وجوہات کی بنا پر کی جاتی ہے۔یا تو محبوب میں یہ تینوں صفات پائی جاتی ہوں گی یا کم از کم ان میں سے کسی ایک کا پایا جانا لازم ہے۔اولاً یہ کہ وہ(یعنی جس سے محبت کی جائے)بجائے خود ایسے حُسن کا مالک ہو کہ دل خود بہ خود ان کی طرف کِھچا چلا جائے۔ثانیاً یہ کہ محبوب کی شخصیت ایسی اعلیٰ صفات،عادات اور خصائل کی حامل ہو،جو حُسن کی کمی کے باوجود بھی اُن سے محبت پر مجبور کریںاور ثالثاً یہ کہ محبوب کا مُحِب کی ذات پر کوئی ایسا احسان ہو،جسے وہ کبھی بھی بھلا نہ پائے،اور مُحب اس احسان مندی اور شکر کے جذبے کے تحت اُن سے محبت کرے۔اب محبوب کی شخصیت کے حُسن میں جس قدر کشش،اخلاق میں جس قدر کمال اور احسان میں جس قدر بڑائی پائی جائے،اسی کے مطابق اُن سے محبت نشیب و فراز اختیار کرے گی۔
سورۂ روم میں خالق ِ کائنات نے میاں بیوں کی باہمی الفت و محبت کو اپنی نشانی قرار دیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم میں سے بیویاں پیدا کیں،تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو،اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت کے جذبات رکھ دیے،یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔‘‘(الروم:21)اسی طرح سورۂ توبہ میں اللہ تعالی نے بہت ہی شدت کے ساتھ مومنین کو اپنی تمام محبتوں کو اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے تابع رکھنے کی تلقین کی ہے۔
جو لوگ قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں،اُن سے یہ بات مخفی نہیں ہوگی کہ کس طرح اللہ تعالی نے قرآنِ پاک میں بار بار اپنے خاص بندوں سے محبت کا اظہار کیا ہے۔یہاں بطورِ مثال چند آیاتِ مبارکہ پیش کی جاتی ہیں:
۱۔’’اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘(البقرة:195)۲۔اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے،جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں۔‘‘البقرة:222)۳۔’’جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا وہ اللہ کا محبوب بنے گا، کیونکہ پرہیز گار لوگ اللہ کو پسند ہیں۔‘‘(آل عمران:76)۴۔’’پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔‘‘(آل عمران:159)۵۔’’اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘(المائدہ:42)
۶۔’’اللہ متقیوں ہی کو پسند کرتا ہے۔‘‘(التوبہ:4)۷۔’’اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔‘‘(الصف:4)
یہ رہی اُن خوش نصیب لوگوں کی بات جن سے اللہ تعالی خود محبت کرتے ہیں۔اب ان بدنصیبوں کا تذکرہ کرنا بھی یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالی ان کی مذموم صفات کی بنا پر ناپسند فرماتے ہیں۔ اس سلسلے میں مَیں کتابِ ہدایت یعنی قرآنِ حکیم کے چند ایک مقامات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔جیسا کہ ارشاد ہوا ہے:
۱۔’’اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘(البقرة:190)۲ ۔’’اُن سے کہو کہ’’اللہ اور رسول کی اطاعت قبول کر لو‘‘ پھر تم اگر وہ تمہاری دعوت قبول نہ کریں،تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے،جو اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں۔‘‘(آل عمران:32)۳۔’’یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے۔‘‘(النساء:36)۴۔’’اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو۔‘‘(النساء:107)
۵ ۔’’اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘(القصص77)
قرآن کے ان ارشادات سے ہمیں معلوم ہوا کہ محبت نام ہے محبوب کی مرضی کے مطابق خود کی تعمیر کا۔جو لوگ اللہ تعالی کے ان پسندیدہ بندوں میں اپنا نام درج کرائیں گے ،وہی لوگ اللہ سے محبت کے دعوے میں سچے ہیں۔یعنی ان کی مرضی مطابق اپنی ہر خواہش کو ڈھالنے ہی کا نام محبت ہے۔
ایک مُحب کے لئے اپنے محبوب کے سوا دُنیا کی ہر چیز بے معنی ہوتی ہے گویا اس کے لئے جیسے پوری دنیا جل کر راکھ ہوچکی ہو۔یہ محبت اگر حقیقی ہو یعنی اللہ تعالی کی مرضی کے عین مطابق ہو(جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے دلوں میں موجود تھی) تو اس سے انسان ہر دوسری شے کی طلب سے مستغنی ہوجاتا ہے۔اور اگر یہ اس کے برخلاف بدرجۂ اتم کسی فانی وجود سے کی جائے تو انسان کبھی بھی حقیقی طور پر مطمئن نہیں ہوسکتا۔
قرآنِ مجید ہی کی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی اس مقصدی اور حقیقی محبت کی کافی اہمیت بیان ہوئی ہے۔رسول اللہﷺ نے اپنی محبت کو امّتیوں کے ایمان کا معیار قرار دیا ہے۔یہ محبت ہی ہے جس کی بدولت والدین اپنی اولاد سے(چاہے وہ کتنی بھی بگڑی ہوئی ہو)حد درجہ محبت کرتے ہیں۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں ایک جگہ پہ لکھا ہے(جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے) کہ:اگر اللہ تعالی نے والدین کے دلوں میں اولاد کیلئے محبت الہام نہ کی ہوتی تو اپنے بچوں سے بڑھ کر ان کا کوئی دشمن نہ ہوتا۔کیوں کہ جتنی تکلیفیں ماں باپ کو اولاد کی طرف سے پہنچتی ہیں،شاید ہی انہیں کسی اور کے ذریعے پہنچیں۔پھر بھی وہ اپنی اولاد کی خاطر راتوں کو جاگ کر اپنی نیند خراب اور اپنی ہر خواہش کو ترک کر اولاد پر جان چھڑکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
اسلام دین ِ فطرت ہے۔یہ انسان کی سرشت میں موجود ان مختلف قسم کے جذبات کو نہ دباتا ہے اور نہ ہی انہیں کسی غلط سمت میں ضائع ہونے دیتا ہے،بلکہ انہیں ایک صحیح اور مثبت رُخ عطا کرتا ہے۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس محبت کے جذبے کو بھی صحیح سمت دی جائے اور دنیا کی ہر محبت کو(چاہے وہ بظاہر کتنی ہی بھلی اور دلکش نظر آئے)اللہ تعالیٰ اور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے تابع ہی رکھا جائے اور ان کے فرمودات کو عملی جامہ پہنا کر اپنی شخصیت کی تعمیر کی جائے ۔اسی طرزِ عمل میں ہماری شان،عزت ، وقار،دائمی سربلندی اور دنیوی و اُخروی نجات مضمر ہے۔
[email protected]