عظمیٰ نیوز سروس
جموں //سرکاری لائبریریوں میں متازع کتابوں کی موجودگی کے معاملہ میں کاؤنٹر انٹیلی جنس جموں نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے تین پبلشروں کی گرفتاری عمل میںلائی ۔حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کو ایسی کتابوں کی اشاعت اور تقسیم کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے جن میں مبینہ طور پر انتہائی نامناسب مواد شامل ہے۔ذرائع کے مطابق یہ گرفتاریاں جموں اور دہلی میں ایک ہی وقت میں کی گئی مربوط کارروائیوں کے دوران عمل میں آئیں۔ تفتیشی ایجنسیاں اس بات کی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہیں کہ ان پبلشروں نے متنازع مواد کی طباعت، اشاعت، سرکاری اداروں تک رسائی اور تقسیم میں کس حد تک کردار ادا کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مسلسل وسیع کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں مزید افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔اس معاملے کی بنیاد اس وقت پڑی جب سرکاری لائبریریوں میں موجود دو کتابوں کے مندرجات پر اعتراضات سامنے آئے۔ حکام کے مطابق ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ ان کتابوں میں بعض علیحدگی پسند رہنماؤں کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے جس پر مختلف حلقوں نے شدید اعتراضات اٹھائے۔ اس کے بعد کاؤنٹر انٹیلی جنس جموں نے 4جولائی کو باضابطہ ایف آئی آر درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا۔تحقیقات کے مطابق متنازع قرار دی گئی پہلی کتاب جس کے مصنف ہلال احمد اور سنتوش مینا ہیں اور اسے جموں کی اوبرائے بک سروس نے شائع کیا۔ دوسری کتاب، جسے سشانت گیری نے تحریر کیا جبکہ اس کی اشاعت دہلی کے انوراگ پرکاشن نے کی۔حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے پبلشروں میں اوبرائے بک سروس کے اندر پال جبکہ ڈومیننٹ پبلشرس سے وابستہ امردیپ سنگھ اور گریش اروڑا شامل ہیں۔ تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ ان افراد سے مسلسل پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ اس پورے نیٹ ورک اور اشاعتی عمل کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت پہلے ہی اوبرائے بک سروس اور ڈومیننٹ پبلشرس کو بلیک لسٹ کر چکی ہے۔ اس کارروائی کے بعد 6 جولائی کو کاؤنٹر انٹیلی جنس کی ٹیموں نے دونوں اداروں کے دفاتر پر چھاپے مارے تھے، جہاں سے متعدد اہم دستاویزات، ریکارڈ اور دیگر مواد ضبط کیا گیا، جن کافارنسک اور قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق متنازع کتابوں کی بڑی تعداد مختلف اضلاع کی سرکاری لائبریریوں تک پہنچائی گئی تھی۔ ایک کتاب کی 123 کاپیاں جموں، رام بن اور ادھم پور کے تعلیمی اداروں اور لائبریریوں کو فراہم کی گئیں، جبکہ دوسری کتاب کی 128 کاپیاں جموں اور بارہمولہ اضلاع میں تقسیم کی گئیں۔ حکام اس بات کی بھی چھان بین کر رہے ہیں کہ ان کتابوں کی خریداری، منظوری اور تقسیم کا طریقہ کار کیا تھا اور اس عمل میں کون کون سے سرکاری یا غیر سرکاری افراد شامل تھے۔