عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر //مرکز کی جانب سے جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی میں مسلسل تاخیر پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ 20جولائی سے نئی دہلی میں پرامن احتجاجی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے دارالحکومت میں بھی اپنی ہی ریاست کے حق کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے تو پھر آخر کہاں جائیں۔جموں کے ہری سنگھ پارک میں پارٹی جلسہ سے خطا ب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے بعد نیشنل کانفرنس نے تقریباً دو برس تک صبر و تحمل سے ریاستی درجہ کی بحالی کا انتظار کیا اور اس دوران مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، لیکن اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔انہوں نے کہا ’’ہم نے مرکزی حکومت کو کافی وقت دیا، مسلسل مذاکرات کیے، لیکن اب ہمیں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑ رہی ہے۔20جولائی سے دہلی میں جمہوری اور آئینی انداز میں احتجاج شروع کیا جائے گا‘‘۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ ریاستی درجہ ’’مناسب وقت‘‘پر بحال کیا جائے گا، لیکن آج تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ مناسب وقت آخر کب آئے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا ’’کیا مناسب وقت کا مطلب یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے؟۔ ‘‘ بی جے پی کی جانب سے نیشنل کانفرنس کے مجوزہ جنتَر منتر احتجاج پر اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر دہلی میں احتجاج کرنا غلط ہے تو پھر انہیں بتایا جائے کہ وہ اپنی بات کہاں رکھیں۔انہوں نے کہا’’ اگر دہلی میں اپنی ہی حکومت سے اپنے آئینی حق کا مطالبہ نہیں کر سکتے تو کیا ہمیں امریکہ جا کر وائٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنا چاہیے؟ ہم صرف وہ وعدہ یاد دلارہے ہیں جو ہمارے اپنے ملک میں ہم سے کیا گیا تھا‘‘۔عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی ریاستی درجہ کے مسئلے کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جبکہ اسے آئینی وعدے کے مطابق پورا کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کٹرہ کی سرزمین پر جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وعدے کو عملی جامہ پہنایا جائے۔انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ بھی انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد جلد از جلد ریاستی درجہ بحال کرنے کی بات کر چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ ان کا ذاتی مطالبہ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کی ہدایت بھی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی میں تاخیر دراصل جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کے عوام نے ہمیشہ ملک کے مشکل حالات میں قربانیاں دی ہیں، سرحدی علاقوں کے لوگ مسلسل گولہ باری کا سامنا کرتے رہے اور ملی ٹینسی سے بے گھر ہونے والوں کو بھی پناہ دی، اس کے باوجود انہیں ان کا آئینی حق نہیں دیا جا رہا۔انہوں نے مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقسیم ہند کے بعد جب ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا تو جموں و کشمیر کو ہندو، مسلم اور سکھ اتحاد و بھائی چارے کی علامت قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا آج اسی ہم آہنگی کی سزا جموں و کشمیر کے عوام کو دی جا رہی ہے؟۔ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس اپنی تحریک مکمل طور پر پرامن، جمہوری اور آئینی دائرے میں جاری رکھے گی اور ریاستی درجہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔انہوں نے کہا’’ہم اپنے ہی ملک کے دارالحکومت کے دروازے کھٹکھٹاتے رہیں گے، ملک کی قیادت کو ان کے وعدے یاد دلاتے رہیں گے اور صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے‘‘۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ وہ اتوار کی صبح 6 بجے سڑک کے راستے سرینگر سے جموں روانہ ہوئے تاکہ عوام سے دہلی میں احتجاج کیلئے حمایت حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد انہیں سڑکوں پر آنے پر مجبور ہونا پڑا ہے اور 20جولائی کا احتجاج ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے نیشنل کانفرنس کی نئی احتجاجی تحریک کا آغاز ہوگا۔ جلسے میں موجود شرکاء نے ہاتھ اٹھا کر اس احتجاجی مہم کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔عمر عبداللہ نے بی جے پی کے جموں و کشمیر کے رہنماؤں پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وہ آخر وزیر اعظم نریندر مودی کے ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق وعدے کو کمزور کرنے یا اس کی بے حرمتی کرنے کی سازش کیوں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا ’’ اگر بی جے پی کی مرکزی قیادت ریاستی درجہ کی بحالی کے حق میں ہے تو جموں و کشمیر کے بی جے پی رہنماؤں کو بھی اسی مؤقف کی حمایت کرنی چاہیے‘‘۔