سرنڈرکی پیش کش کی گئی ،اہل خانہ نے بھی منت سماجت کی ،لیکن وہ نہیں مانے اور مارے گئے :پولیس وفوجی حکام
شوپیان//پہاڑی ضلع شوپیان کے مانی ہل بٹہ پورہ امام صاحب گائوں میں شبانہ کریک ڈائون کے دوران مسلح تصادم ہوا جس میں 4مقامی جنگجو جاں بحق جبکہ ایک فوجی اہلکار زخمی ہوا۔مسلح تصادم آرائی کے دوران مظاہرین اور فورسز مین شدید جھڑپیں ہوئیں جس میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے جن میں 3کو سرینگر منتقل کردیا گیا جنہیںپیلٹ لگے تھے۔ضلع میں انٹر نیٹ سروس معطل رہی۔آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہا ہے کہ چاروں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا،کیونکہ لشکرمصطفیٰ اورٹی آر ایف جعلی نام ہیں۔
ملسح تصادم کیسے ہوا؟
پولیس نے بتایاکہ مانی ہل گائوں میں جنگجوئوں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ طور پر اطلاع ملنے کے بعد اتوار کی شام دیر گئے قریب 8بجے34آر آر،سی آر پی ایف 178 بٹالین اور جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے محاصرہ کیا اور گھر گھر تلاشی آپریشن سے قبل روشنی کا انتظام کیا۔ رات کے قریب 2 بجے تک تلاشی آپریشن جاری رہا جس کے دوران فورسز کا جنگجوئوں کیساتھ آمنا سامنا ہوا۔کچھ دیر تک زبردست فائرنگ کے تبادلے کے بعد صورتحال تھم گئی اور اسی اثناء میں فورسز کو محصور جنگجوئوں کی شناخت کے بارے میں معلومات مل گئیں۔فورسزنے محصور جنگجوئوں کے اہل خانہ کو فوری طور پر مقام جھڑپ پر بلایا جنہوں نے رات کے دوران کئی مرتبہ جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے پر مائل کرنے کی کوشش کی۔ خاص کر پولیس نے عاقب احمد نامی جنگجو کی اہلیہ اور اسکے بیٹے کو بھی یہاں بلایا جنہوں نے عاقب کو سرنڈر کرنے کیلئے کہا۔ اسکی اہلیہ اور بیٹے نے اسے بار بار سرنڈر کرنے کی منتیں کیں لیکن چاروں نے اہل خانہ کی اپیلوں پر کان نہیں دھرا اور جوابی فائرنگ کی۔صبح کے قریب 4بجے طرفین کے درمیان فائرنگ شروع ہوئی جس کے دوران گولی لگنے سے فوج کا ایک اہلکار سچن کمار پائوں میں گولی لگنے سے زخمی ہوا جسے فوری طورپر اسپتال پہنچایا گیا۔تصادم آرائی میں صبح ہوتے ہی شدت آگئی اور فورسز نے ارشد احمد نامی ایک شخص کے مکان کو بارودی مواد سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں اس میں آگ لگ گئی اور مکان مکمل طور پر خاکستر ہوا۔اسکے بعد مکان کے قریب ہی چار جنگجوئوں کی لاشیں بر آمد کی گئیں۔انکی شناخت رئیس احمد بٹ ساکن ڈی کے پورہ شوپیان، عامر شفیع ساکن بٹہ پورہ مانی ہل شوپیان، عاقب ملک ساکن آرشی پورہ شوپیان اور آفتاب احمد وانی ساکن دچھی پورہ شوپیان کے طور ہوئی ۔ پولیس نے بتایاکہ مہلوک جنگجوئوں سے اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا گیا۔عاقب احمد ملک نامی جنگجو کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ جموں کشمیر بنک شوپیان مین برانچ میں کام کررہا تھا اور پچھلے سال جب بنک کی ایک وین سے مسلح جنگجوئوں نے 80لاکھ روپے کی رقم لوٹی تھی تو پولیس تحقیقات کے دوران عاقب پر شک ظاہر ہوا جس کے دوران ہی وہ لاپتہ ہوا تھا۔عاقب ملک 25دسمبر 2020کو لاپتہ ہوا تھا۔عامر شفیع 13فروری 2021سے لاپتہ تھا۔ ریس احمد نے 13اکتوبر2020کو ہتھیار اٹھائے تھے جبکہ الطاف احمد نے 24نومبر 2020کو جنگجوئوں کی صف میں شمولیت اختیار کی تھی۔
پر تشدد جھڑپیں
پیر کی صبح نوجوان کئی جگہوں پر جمع ہوئے اور انہوں نے سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ مظاہرین نے شدید پتھرائو کیا جس کے جواب میں انہیں منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے پھینکے گئے۔ جب مظاہرین منتشر نہیں ہوئے تو فورسز نے پیلٹ استعمال کئے۔ یہاں جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس کے دوران کئی مظاہرین کو چوٹیں آئیں لیکن 3نوجوان بری طرح پیلٹ لگنے سے زخمی ہوئے جنہیں سرینگر منتقل کردیا گیا۔ان میںیاور یوسف کی بائیں آنکھ میں پیلٹ لگے ہیں،قیصر احمد کی دائیں آنکھ متاثر ہوئی ہے جبکہ ماجد احمد کے جسم میں پیلٹ لگے ہیں۔چار جنگجوئوں کی ہلاکت پر شوپیان قصبہ میں بٹہ پورہ کراسنگ کے نزدیک پولیس گاڑی پر پتھرائو کیا گیا اور کچھ نقاب پوش نوجوانوں نے ٹائون کے بازاروں میں گشت لگا کر دکانیں بند کروانے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے انکا تعاقب کیا اور کچھ دیر تک دکانیں بند رہنے کے بعد کاروبار معمول کے مطابق چلتا رہا۔
پولیس بیان
پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے بتایاکہ جنگجوئوں نے بار بار ہتھیار ڈالنے کی پیش کشوں کوماننے سے انکار کردیا۔آئی جی پی کشمیر نے کہا کہ اطلاع ملنے پر فوج ، پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیموں نے شوپیاں کے علاقے امام صاحب کامحاصرہ کیا۔ جب مشتبہ مکان کوچاروں اطراف سے محاصرے میں لیاگیا تویہاں موجود عسکریت پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔انہوں نے کہاکہ ہم پھنسے ہوئے مقامی جنگجوئوں کے اہل خانہ کو لائے اور صبح 2 بجے ، تک بار بار ہتھیار ڈالنے کی پیش کش کی گئی۔لیکن جنگجوئوں نے پیش کش کو ٹھکرا کر فورسز پر فائرنگ کردی جس میں ایک فوجی کو گولی لگنے سے زخمی ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں چار جنگجو ہلاک ہوگئے۔ آئی جی پی کاکہناتھاکہ کچھ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ان کا تعلق ٹی آر ایف سے ہے ، لیکن ہمارے لئے ٹی آر ایف اور لشکر مصطفیٰ جعلی نام ہیں اور وہ لشکر طیبہ اور جیش محمد کے قائم کردہ ذیلی گروپ ہیں۔