جموں//لفٹینٹ گورنر گریش چندر مرمو نے جموں و کشمیر انفراسٹریکچر ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن لمٹیڈ ( جے کے آئی ڈی ایف سی ) کی کافی ٹیبل کتاب جاری کی جو مالی سال 2019-20 کے دوران کارپوریشن کی مالی معاونت سے مکمل کئے گئے عوامی اہمیت کے حامل 500 پروجیکٹوں کی تدوین ہے ،جو اس سے قبل مالی و دیگر عمل آوری میں درپیش رکاوٹوں کے سبب التوا میں پڑے تھے ۔ کارپوریشن نے پہلا سنگِ میل 200 پروجیکٹوں کو مکمل کر کے فروری میں قائم کیا جبکہ دوسرا مارچ 2020 سے قبل 500 پروجیکٹوں کو مکمل کر کے کیا ۔ اس موقعہ پر چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم کے علاوہ فائنانشل کمشنر محکمہ خزانہ ، فائنانشل کمشنر صحت و طبی تعلیم ، پرنسپل سیکرٹری داخلہ ، لفٹینٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ، پرنسپل سیکرٹری مکانات و شہری ترقی ، پرنسپل سیکرٹری پشو و بھیڑ پالن ، پرنسپل سیکرٹری مال ، کمشنر سیکرٹری جل شکتی اور دیگر انتظامی سیکریٹری اور اعلیٰ افسران از خود اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے موجود تھے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ جے کے آئی ڈی ایف سی نے جموں کشمیر کے ترقیاتی ایجنڈے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور کارپوریشن کو مختصر مدت کے اندر التوا میں پڑے مالی مشکلات کے شکار پروجیکٹوں کو عوامی اہمیت کے حامل اثاثوں میں بدلنے کیلئے سراہا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کارپوریشن کے متعلقین سے کہا کہ وہ اجتماعی کوششوں سے پروجیکٹوں کی تیز تر عمل آوری میں مثال قائم کر کے یہ یقینی بنائیں کہ پروجیکٹوں کے فوائد عام لوگوں تک بغیر کسی تاخیر کے پہنچیں ۔ انہوں نے شفافیت اور جوابدہی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھانے پر بھی زور دیا ۔ جموں کشمیر انفراسٹیکچر ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن لمٹیڈ کے بارے میں تفصیل دیتے ہوئے فائنانشل کمشنر محکمہ خزانہ نے لفٹینٹ گورنر کو جانکاری دی کہ مالی سال 2019-20 کے آخیر تک اعلیٰ اختیار والی کمیٹی نے 2274 پروجیکٹوں کو منظور کیا ہے جن کیلئے جے کے آئی ڈی ایف سی 5886 کروڑ روپے کی رقم فراہم کرے گی ۔ مالی سال 2019-20 کے دوران جن التوا میں پڑے پروجیکٹوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا اُن میں پانپور میں 90.653 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے گئے 400 فلیٹ ، 26.97 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا 300 ٹی پی ڈی کلنکر گرائینڈر کم پیکنگ یونٹ ،16.84 کروڑ روپے کی لاگت والی گورنمنٹ سلک فیکٹری بڑی براہمناں ، 16.805 کروڑ روپے کی لاگت سے راج بھون میں تعمیر کئے گئے آڈیٹوریم و کانفرنس ہال ، 11 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے گئے سکاسٹ کے شالیمار میں لیبارٹری و آفس بلاک کی تعمیر وغیرہ شامل ہے ۔ جے کے آئی ڈی ایف سی 2018 میں اُن التوا میں پڑے پروجیکٹوں جو مالی مشکلات کی وجہ سے مکمل نہیں کئے جا سکے ،کیلئے مالی اداروں سے قرضہ اٹھانے کے مقصد سے تشکیل دی گئی تھی ۔