لداخ میں تعلیم کی کہانی بہت طویل اور دلچسپ ہے۔یہاں کے تعلیمی دور کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛
1۔ راجگان لداخ کا دور
2۔ ڈوگرہ حکومت کا دور
3۔ آزادی کے بعد کا دور
لداخی راجاؤں کے دور میں تعلیم کا کوئی انتظام نہیں تھا۔لداخی بودھ عام طور پر اپنے گھر کے ایک بیٹے کو ثواب کی نیت سے لاما (بھکشو) بنانے کی نیت سے گنپہ (بودھ مندر) میں بھیجتا تھا، جہاں اس کو بودھی (لداخی زبان) لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا تھا۔کچھ لوگ ضرورت کے مطابق واجبی سی بودھی سیکھتے تھے۔مسلمانوں میں بھی چند لوگ معمولی لداخی جانتے تھے۔میں نے اپنے آباء واجداد کی کتابوں اور دوسرے کاغذات پر بودھی (لداخی زبان) میں کچھ جملے لکھے ہوئے دیکھے ہیں۔
اس زمانہ میں بودھ و مسلم دونوں میں زبان (language) کے معاملہ میں کوئی بھید بھاؤ اور تعصب نہیں تھا۔دونوں مذاہب کے لوگ اردو اور بودھی سیکھتے تھے اور کوئی عار اور ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔ بعد میں تعصب نے جنم لیا اور یہ پروان چڑھ کر تناور درخت بن گیا۔لوگوں میں زبان کے بارے میں تعصب بڑھ گیا۔ مسلمان بودھی اور لداخی زبان کو بودھوں کی زبان سمجھنے لگے اور اس زبان کو سیکھنے سے گریزاں ہوئے۔ اسی طرح بودھسٹ اردو کو مسلمانوں کی زبان سمجھنے لگے۔ نتیجہ کے طور پر دونوں کا بہت نقصان ہوا۔ محکمہ تحصیل ، پولیس ڈیپارٹمنٹ اور عدالت وغیرہ میں اردو جاننا لازمی ہے۔اسی بنیاد پر ملازمت ملتی ہے۔نیز انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ، ریڈیو اسٹیشن اور دور درشن کیندر میں بودھی (لداخی زبان) کا جاننا لازمی شرط ہے۔
راقم نے لداخی زبان (بودھی) سیکھنا شروع کی تو میرے ایک دوست نے میرے ہاتھ میں لداخی ریڈر دیکھ کر مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ زبان سیکھنا جائز ہے؟ میں نے ان کو سمجھانا شروع کیا کہ قرآن مجید میں مختلف زبانوں اور مختلف رنگوں کے ہونے کو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : "اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے زمین وآسمان کی تخلیق اور زبانوں اور رنگوں کا الگ الگ ہونا ہے۔ یقینا اس میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں "۔ (ترجمہ الروم : ۲۲)
میں نے کہا کہ ہم انگریزی سیکھتے ہیں ، اسی طرح کسی زبان کو سیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ کوئی شخص انگریزی سیکھنے سے کرسچن، ہندی اورسنسکرت سیکھنے سے ہندو ، عربی سیکھنے سے مسلمان اور بودھی (لداخی زبان) سے بودھسٹ نہیں بنتا ہے، زبان سیکھنے میں کوئی نقصان نہیں ، بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے۔
ہم نے مسجدوں سے لوگوں کو سمجھانا شروع کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کی زبان سیکھنے کے لیے فرمایا ہے ۔ہم نے مسلمانوں کو سمجھایا کہ لداخ کے کرسچین نے آج سے تقریباً ستّر (70) اسّی (80) سال پہلے لداخی سیکھ لی اور لداخی زبان میں بائبل کا ترجمہ کردیا۔ کرسچن پڑھے لکھے تھے ، اس لیے ان کو زبان کی اہمیت و افادیت کا علم تھا۔ ہمارے سمجھانے بجھانے سے لیہہ (لداخ) کے مسلمانوں نے اسلامیہ پبلک اسکول لیہہ، امامیہ مشن اسکول چھوچھوت لیہہ ، امامیہ ماڈل اسکول لیہہ ، اسلامیہ پبلک اسکول ٹھیکسے لیہہ ، سِیکرِڈ نیو اِرَہ اسکول لیہہ اور سیکرڈ نیو ارہ اسکول نوبرا لیہہ میں لداخی زبان نصاب میں داخل کی ہے۔ الحمد للہ قرآن پاک کا ترجمہ بھی اس زبان میں شروع ہوچکا ہے اور سات پاروں کا کام مکمّل ہوچکا ہے۔
ڈوگرہ عہد حکومت میں1930 تک تعلیم پر بہت کم توجہ دی گئی تھی۔ ڈوگرہ حکومت نے1892میں پہلا پرائمری اسکول لیہہ میں کھولا ، سکردو میں1899 میں پرائمری اسکول کھولا گیا اور ضلع کرگل میں1901پرائمری اسکول قائم کیا گیا۔1892 سے پہلے سنسکرت سکھانے کے لیے ایک پاٹھ شالہ کھولا گیا ، جو چل نہیں سکا، کیوں کہ لداخیوں کو شک ہوگیا کہ یہ ان کا مذہب تبدیل کر نے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
لیہہ میں دستیاب ریکارڈ کے مطابق پہلا مکتب مسلمانوں نے کھولا۔ اس کے پیچھے ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔کہتے ہیں کہ لداخ میں ڈوگرہ ناظم اعلیٰ سید اکبر علی (1866-1871) کی عدالت میں ایک مقدمہ کے سلسلہ میں ایک دفعہ چند مسلمانوں کو بطور گواہ پیش کیا گیا ۔ سید اکبر علی نے ان سے بطور شہادت کلمہ طیبہ پڑھنے کے لیے کہا ، لیکن ان میں سے کوئی کلمہ نہیں پڑھ سکا ۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر ناظم کو حیرت بھی ہوئی اور دکھ بھی ہوا ۔ انہوں نے امام جامع مسجد لیہہ سے کہا کہ قصبہ کے مسلمان اسلام کے بنیادی ارکان سے نابلد لگتے ہیں۔ چنانچہ ایک مکتب کھولا گیا اور دینیات پڑھانے کے لیے ایک استاد مقرر کیا گیا۔ یوں لگتا ہے کہ یہ مکتب کئی دفعہ عارضی طور پر بند ہوا۔ اس کی بڑی وجہ استاد کی نایابی تھی۔
1874میں مہاراجہ رنبیر سنگھ نے لیہہ میں ایک شاستری اسکول کھولا ، جس میں سنسکرت پڑھائی جانے لگی ۔اس کے لیے کشمیر سے ایک استاد کو بھیجا گیا۔سنسکرت کا سکھایا جانا مقامی آبادی کے لحاظ سے فائدہ مند ثابت نہیں ہوا۔مقامی لوگوں کو شک ہو گیا کہ مذہب تبدیل کر نے کے لیے یہ ہتھکنڈا استعمال کیا گیا ہے ۔یہاں تک کہ لیہہ میں متعین انگریز جوائنٹ کمشنر نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ "سنسکرت اسکول ، جو چند سال پہلے قائم ہوا ، آج عملی طور پر بند ہوگیا ، صرف پانچ طالب علم رہ گئے ہیں۔ اسکول کو کشمیر کے موجودہ مہاراجہ نے بودھوں کو ہندو بنانے کے لئے قائم کیا ہے‘‘۔(Diary of JK from Ist to 15th October 1882, Govt of India FGN-A, Political-E Nov, 1882 55-58)
عیسائیوں نے تعلیم کے سلسلہ میں بہت کوشش کی۔ ان کا مقصد لوگوں کو عیسائی بنانا تھا۔انہوں نے متعدد مشن اسکول کھولے ، جن میں مروّجہ مضامین کے علاوہ بائبل بھی پڑھائی جاتی تھی۔ وہ اس سلسلہ میں انتھک کوششیں کرتے تھے۔ وہ اپنے دھن کے پکے اور محنت مذہبی جذبے سے کرتے تھے۔ وہ لداخ میں چار چرچ بنانے میں کام یاب ہو گئے ، اس کے علاوہ متعدد اعلیٰ مشن اسکول بھی قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔
ڈاکٹر فرنکی ریسرچ سکالر اور مصنف کے ساتھ کرسچن پادری بھی تھے۔ان کا تعلق جرمنی سے تھا۔ انہوں نے لداخ میں رہ کر تبتی اور لداخی (بودھی) سیکھی۔ وہ1896 میں لداخ آئے۔ لداخ پر کئی اہم کتابوں کے علاوہ انھوں نے پچاس مقالے لکھے۔ ان مقالوں میں لداخ کے قدیم گیتوں سے لیکر سنگ تراشی کے نمونوں کے تذکرے شامل ہیں۔ ڈاکٹر فرانکی کی دو کتابیں بہت مشہور ہیں ۔اسکالرس اور مصنفین انکو مستند تاریخی دستاویزات کے طور پر مانتے ہیں۔ان کی دو مشہور کتابیں حسب ذیل ہیں؛
History of Western Tibet
Antiquities of Indian Tibet
فرانکی نے 1904 میں لداخ سے ایک اخبار "لداخ گی اخبار" کے نام سے جاری کیا ۔ یہ لداخ کا سب سے پہلا اخبار تھا۔ لداخ سے نکلنے والا اخبار"لداخ گی اخبار" جموں و کشمیر کا دوسرا اخبار تھا۔ یہ اخبار پچاس سال تک نکلتا رہا۔فرانکی نے لیہہ ، شے اور خلسے تین مشن کھولے۔ ان کو ہر جگہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ، مگر وہ ہمت نہیں ہارے۔ کرسچن مشنریوں کی محنت و کوشش اور تکلیف کے باوجود اپنے مقصد کو پیش نظر رکھنا مسلمان مبلغین کے لیے درس عبرت ہے۔
لیہہ شہر سے 90 کلومیٹر دور خلسی گاؤں میں ایک مشنری اسکول کھولا ۔ڈاکٹر فرانکی اور ان کی اہلیہ وہاں گئے ، مشن کھولا اور گھر گھر جاکر تیس بچوں کو لانے میں کامیاب ہوگئے ۔اسکول کا سب سے چھوٹا طالب علم 6 سال کا تھا اور سب سے بڑے طالب علم کی عمر 60 سال تھی جو وہاں کا نمبر دار تھا۔
اس زمانہ میں مسلمانوں میں تعلیم کا تناسب سب سے اچھا تھا ، لیکن آج مسلمان تعلیم میں بودھسٹ اور کرسچن سے پیچھے ہیں۔البتہ بحمد اللہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری عروج پر ہے اور صد فی صد بچے اور بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔
رسول گلوان (1878-1925)(حالیہ ہند و چین کشیدگی کے دوران رسول گلوان کا ذکر بہت آیا تھا۔ وہ اب بین الاقوامی Figure بن چکے ہیں)،اپنی کتابServent of Saheb میں لکھتے ہیں’’جب لیہہ میں مشن اسکول کھولا گیا تو انھوں نے اپنی ماں سے اسکول جانے کی خواہش ظاہر کی ۔ماں بولی " رسول ! پڑھنا لکھنا امیروں کا کام ہے ، ہم جیسے غریبوں کا نہیں ‘‘۔ مشن اسکول کے قیام کے وقت رسول گلوان کی عمر 9 سال تھی ۔اس کی پیدائش لگ بھگ 1878 میں ہوئی تھی۔
1920ء کی دہائی میں لیہہ کے مسلم مکتب کے بارے میں خواجہ عبد الوحید اپنی کتاب"Islam in Tibet and Tibetan Caravans‘‘میںلکھتے ہیں" میں نے بھی اور بچوں کی طرح مے مے (دادا، بزرگ) لسہ سے ناظرہ اور اردو پڑھی ۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں مکتب میں پڑھتے تھے۔اس کے بعد میمے غلام محمد سے پڑھنا شروع کیا۔ وہ جامع مسجد لیہہ کے مؤذن تھے اور آخوند' (ترکی زبان میں آخوند استاد کو کہتے ہیں) کہلاتے تھے‘‘ ۔خواجہ عبدالوحید نے استاد غلام محمد سے یہ دونوں زبانیں اچھی طرح سیکھ لیں ، پھر انہوں نے مڈل اسکول لیہ میں داخلہ لیا۔ خواجہ صاحب نے اسکول کے پنڈت (کشمیری ہندو) استادوں کی بھی تعریف کی ہے۔بعد میں عبد الوحید صاحب نے بسکو اسکول سرینگر سے میٹرک پاس کیا ، پھر مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ جاکر بی اے کیا۔
لداخ کا پہلا گریجویٹ ایک عیسائی جے دیچن تھے۔ وہ آزادی کے بعد لیہہ (لداخ) کے ڈپٹی کمشنر رہے ۔ایک اور کرسچن ایلی ایزر جولڈن نے گریجویشن کے بعد لاہور یونیورسٹی سے تعلیم میں بی ٹی (شاید اس زمانہ کا بی ایڈ ) کی۔ دانیال دانا نامی (کرسچن) فوج میں کپتان ریٹائر ہوا۔ ان کے بعد محمد اقبال دراسی ( ضلع کرگل کی ایک تحصیل جو سائبریا روس کے بعد دنیا کا دوسرا سرد ترین علاقہ ہے ، جہاں کبھی درجہ حرارت منفی پچاس تک ہو جاتا ہے ، جیسا کہ عبدالغنی شیخ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے) اور وزیر مہدی بلتستانی (آج کل یہ علاقہ پاکستان میں ہے ، پہلے کرگل ، لیہہ اور بلتستان ایک وزیر کے ماتحت ہوتے تھے) نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے ، ایل ایل بی کیا۔ اس زمانہ کے پڑھے لکھے لوگوں میں ایک نام خواجہ عطاء اللہ کا آتا ہے۔خواجہ صاحب نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کیا ۔یہ لداخ کے پہلے مسلمان تھے ، جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ شروع میں یہ سرینگر کے انگریز ریذیڈنٹ کے دفتر میں جونیئر آفسر تقرر ہوئے۔ ملک کی تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے ، جہاں وزارتِ خارجہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے بعد لیبیا اور نیپال میں حکومت ِ پاکستان کے سفیررہے۔
کرگل میں جمیلہ خانم پہلی خاتون تھی ، جس نے 1917 میں استانی کا کام شروع کیا۔ بودھوں میں ایشے چھومو (جنہوں نے مجھے سب سے پہلے بودھی پڑھائی) بہت اچھی استانی ہیں اور بقید حیات ہیں۔ اس وقت میں استاد مقرر ہو چکا تھا۔مئی 1988کا زمانہ تھا۔
آزادی کے بعد لداخ میں اسکولوں کا جال بچھ گیا۔ آج لداخی تعلیمی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ لداخی مسلمان بھی تعلیمی دوڑ میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ آج لیہہ اور کرگل کے مسلمان بچے اور بچیاں اچھے اچھے پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں میں مروّجہ علوم کے ساتھ دینیات کی تعلیم کی تحصیل میں مشغول ہیں۔ گورنمنٹ کی طرف سے لیہہ اور کرگل میں اسکولوں کا جال بچھا دیا گیا ہے۔ پرانے زمانہ میں لڑکیاں نامعلوم وجوہ سے تعلیم حاصل کرنے سے تقریباً محروم تھیں۔آج کل وہ بھی لڑکوں کے دوش بدوش تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور تعلیم کے میدان میں لڑکوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
رابطہ۔9419613784
��������