کوٹا راجستھان سے جموں کے 186 اور کشمیر کے 134 طالب علموں کو واپس لایا گیا
جموں//حکومت نے کہا ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے ملک کے مختلف مقامات پر درماندہ 16,998 مزدورو ں اور دیگر اَفراد کو واپس لایا گیا اور اس کے علاوہ ضروری سازو سامان سے لدے 33,803 ٹرکوں کی بین ریاستی نقل و حمل یقینی بنائی گئی۔جن 16,598درماندہ افراد کو واپس لایا گیا ۔اُن میں سے بدھ کی شام تک 8,100اَفراد کی واپسی منظم طریقے پر انجام دی گئی ۔ ان میں سے بیشتر کو پنجاب ، ہماچل پردیس اور کوٹا راجستھان سے واپس لایا گیا۔حکومت نے کوٹا میں درماندہ 376طالب علموںکو بھی 15بسوں کے ذریعے واپس لایا جن میں سے 186کا تعلق جموںسے ، 134کا کشمیر سے اور 56کاتعلق لداخ سے ہے۔حکومت نے مزیدکہا کہ 23؍ مارچ کے بعد واپس لائے جانے والے سبھی مسافروں کو کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع کے انتظامی کورنٹین مراکز میں رکھا گیا۔سرکار نے مزید کہا ہے کہ اِن اَفراد کو ان کورنٹین مراکز سے رُخصت کئے جانے کے بعد اُنہیں مزید 14دِن کے کورنٹین میں رکھا جارہا ہے ۔مقامی اِنتظامیہ غیر معروف روٹو ں پر آوا جائی کی نگرانی کر رہی ہے اور ایسے روٹوں سے آنے والے اَفراد کو کٹھوعہ کے کورنٹین مرکز میں رکھا جارہا ہے ۔مزید بتایا گیا ہے کہ لکھن پور کراسنگ پر 29؍ اپریل 2020ء تک 17,770 مسافروں کی آمد کی رجسٹریشن کی گئی جن میں سے 10,625کو کٹھوعہ / سانبہ کے کورنٹین مراکز میں رکھا گیا ہے جبکہ اب تک 8,813افرادکو کورنٹین مراکز سے رُخصت کیا گیا ہے۔جو اَفراد واپس آئے ہیں ان میں سے 3,863اَفراد ایسے ہیں جنہیں غیر معروف راستوں سے آتے ہوئے لکھن پور میں روکا گیا۔ اس میں 550 مریض اور اتنی ہی تعداد میں تیماردار اور ڈرائیور شامل ہیں۔ بیرون ممالک سے آنے والے 20افراد کو مرکزی وزارت داخلہ کے رہنما خطوط کے مطابق کورنٹین کیا گیا ۔ اس میں ضروری خدمات سے وابستہ 77 اَفراد ، 737 میڈیکل ایمرجنسی اور 221 فوجی اور نیم فوجی دستوں کے اہلکاربھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ضروری سازو سامان لانے والے ٹرکوں کی نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لئے جموںوکشمیر کی حکومت نے لاک ڈاون کے نفاذ کے فوراً بعد لکھن پور میں ایک سہولیت مرکز قائم کیا۔ اِس سہولیت مرکز میں دن رات کام کرنے والا کنٹرول روم ، میڈیکل سکریننگ ٹیم ، جراثیم کش ٹنل اور دیگر سہولیات قائم کی گئی ہیں۔سینئر آفیسر بشمول ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کٹھوعہ ، صحت عامہ ، آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے کمشنر سیکرٹری اے کے ساہو کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں اور لکھن پور میں انتظامات کے استحکام کی نگرانی کرتے ہیں۔25؍ مارچ 2020ء سے مرکز نے 33,803 ایسے ٹرکوں کی نقل و حمل یقینی بنائی ہے جو میوہ ، سبزیاں ، سوکھے پھل ، رسوئی گیس ، پیٹرولیم مصنوعات ، جانوروں کا چارہ ، راشن ، انڈے ، دودھ ، کھادیں، ادویات ، خام مال ، پولٹری ، بھیڑ بکریاں تعمیراتی مواد ، آلات کشاورزی لے کر جموں وکشمیر آئے ۔ اس کے علاوہ 23؍ اپریل کے بعد اُن ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کی ضلع وار فہرست ترتیب دی گئی جنہوں نے جموںوکشمیر میں ہی رہنے کی خواہش ظاہر کی ۔ یہ فہرست متعلقہ ڈپٹی کمشنروںکو بھیجی گئی تاکہ ایسے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو قواعد و ضوابط کے تحت کورنٹین کیا جاسکے۔لکھن پور میں ایسے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں ، جو ہارٹ سپاٹ اضلاع سے تعلق رکھتے ہوں ،کے نمونے حاصل کرنے کے لئے ایک ٹیسٹنگ کائونٹر قائم کرنے کا منصوبہ ہے ۔