انسانی زندگی کے ڈھانچے میں تہوار ایک اہم سماجی اور تفریحی عنصر ہے۔ مختلف اقوام، قبائل اور مذاہب کے ماننے والے لوگ اپنی اپنی جگہ مختلف انواع کے تہواروں کا انعقاد کرتے ہیں۔ذرا سے غور و فکر پر یہ بات بآسانی سمجھ میں آتی ہے کہ ان تہواروں کے انعقاد میں متعدد فوائد پنہاں ہوتے ہیں۔ایک تو منانے والوں کے درمیان یگانگی کا احساس اور ایک متحد اجتماعیت ہونے کا جذبہ گہرا اور مضبوط ہوتا ہے۔۔ دوسرا انہیں َزندگی کی کشمکش اور دوڈ دھوپ سے فراغت حاصل کر کے خوشی منانے کا موقع میسر آتا ہے جس میں الہامی کیف و سرو مومن کی شخصیت کو تروتازہ کرتی ہے اور جب سارے لوگ ایک ہی وقت میں مل کر اس خوشی میں شریک ہوتے ہیں تو یہ خوشی دوبالا ہوجاتی ہے۔ اس خوشی کی ہیئت و کیفیت الگ ہی نوع کی ہوتی ہے جسکو کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں کیا جاسکتا.تیسرا اگر یہ تہوار کسی عقیدے سے منسلک ہو تو وہ عقیدہ بھی مزید راسخ ہوتا ہے۔
لیکن ان مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ ان موقعوں پر فضول خرچی، بے حیائی ، قیمتی متاع کا زیاں(مثال کے طور پر La Tomatina کا تہوار جس میں وافر مقدار میں ٹماٹر ضائع کیے جاتے ہیں) اور اسی طرح کے اور منفی کام بھی انجام پاتے ہیں۔ اس سب کے باوجود یہ کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ان تہواروں سے جو اجتماعی و تہذیبی فوائد ایک گروہ کو حاصل ہوتے ہیں وہ بہت زیادہ ہیںبہ نسبت ان کے نقصانات کے اور اس گروہ کا خیر خواہ انکو یہی مشورہ دے گا کہ ان تہواروں کو جاری رکھیں، ہاں اگر طور طریقوں میں اصلاحات کی جائیں تو یہ سونے پر سہاگہ ہوگا۔ لیکن اسلام کے معاملے پر جب غور کیا جاتا ہے تو ایک الگ اور منفرد چیز دیکھنے کو ملتی ہے۔ موضوع کی مناسبت سے ہم صرف عید الاضحیٰ پر بات کریں گے۔ ہم دیکھتے ہے کہ یہاں نا کوئی فوضول خرچی ہے،نا بے حیائی اور نا ہی کسی قسم کی زیاں کاری ،الٹا اس تہوار میں ہم ایک اعلیٰ اخلاقی مقصد کیلئے اپنے مال کو صرف کرتے ہیں اور ذہن میں اس شخص کی یاد گار ہوتی ہے جس نے ایک غیر مادی اور اعلیٰ مقصد کیلئے اپنے بیٹے پر چھری چلائی اور بیٹا بھی اسی مقصد کیلۓ ذبح ہونے کو تیار ہو گیا۔ مقصد بس ایک ہی چیز ہے اور اس چیز کو قرآن کریم سے زیادہ خوبصورت الفاط میں ادا نہیں کیا جاسکتا یعنی "کہہ دو میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کیلئے ہے"(الأنعام آیت ۱۶۲)۔جانور کی قربانی میں انسان اپنے مال پر اللہ تعالیٰ کے حقوق مالکانہ کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی عاجزانہ تسلیم ( Humble Surrender) کا ثبوت پیش کرتا ہے۔اس سے مادیت کے نظریے پر ایک کاری ضرب پڑتی ہے اور پھر مسلمان کا ایک ۱/۳ حصہ رشتہ داروں میں اور ۱/۳ حصہ پڑوسیوں میں تقسیم کرنا اتحاد و الفت کے ساتھ ساتھ نیکی و صدقہ کے جذبہ کو بھی اُبھارتا ہے۔مجموعی طور پر عید الاضحیٰ سے پیسا امیر لوگوں سے غریب لوگوں کی طرف منتقل ہوتا ہے اور معیشت میں ایک قوی تحرک رونما ہوتا ہے۔عقل گواہی دیتی ہے کہ اگر خالق کائنات کوئی تہوار تجویز کرتا تو وہ بلکل اسی طرح کا تہوار ہوتا اور ہاں اسی نے تو اسے تجویز کیا ہے۔
اب جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سے بہتر یہ ہے کہ کہیں پر واٹر کولر لگایا جایا، یا یہ رقم کسی غریب کو دے دی جائے وغیرہ وغیرہ تو ان سے سوال ہے کہ ان مختلف اجتماعی و اخلاقی فوائد کے باوجود جو اوپر خود ساختہ تقریبات گنوائی گئی ہیں ،اگر آپ اپنے اعتراض پر مصر ہیں تو آپکو پھر نفس تہوار کو ہی غلط سمجھ کر اس قسم کی ہر سرگرمی کی نفی کرنی چاہیے۔آپکو پھر برتھ ڈئیز، نیو ائر ، مختلف قسمیں کی سال گرہوں وغیرہ، سے بھی مکمل اجتناب برتنا چاہیے اور ان دنوں پر بھی لوگوں کو کچھ رفاعی و امدادی کام کرنی کی تلقین کرنی چاہیے۔تو کیا آپ تیار ہیں؟ کم اور زیادہ خرچہ کا سوال یہاں بنتا ہی نہیں کیونکہ ایسی ہر صورت میں آپکے بیان پر کیا ہوا کااصول لاگو ہوتا ہےاور اگر ایک سال میں صرف لوگوں کے برتھ ڈئیز پر صرف ہونی والی رقم کا ہی تخمینہ لگایا جائےتو وہ قربانی پر صرف ہونی والی رقم سے کئی گنا زیادہ نکل آئے گی۔اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے اور ہرگز نہیں کرسکتے تو ایسی صورت میں آپکا قربانی پر اعتراض کرنا ثابت کرتا ہے کہ آپ معروضییت اور بنیادی اخلاقیات سے عاری ہیں۔ ایک اور بات یہاں پر آپکو سمجھ لینی چاہیے کہ انسانی زندگی کے مختلف شعبے اور رخ ہیں کسی ایک شعبہ کو نظر انداز کرکے ساری توجہ و محنت دوسرے شعبہ پر مرکوز کرنا غیر ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ حماقت اور نا انصافی بھی ہے۔ معاشرے میں پسماندہ طبقات کی امداد کے حوالے سے خالق کائنات نے صاحب استطاعت لوگوں پر زکوۃ فرض کرکے اور اس کی وصولی و تقسیم کی ذمےداری کو حکومت کا اولین فریضہ قراد دے کر اس پہلو کا سامان کردیا۔ اسکے علاوہ صدقات، عشر، فطر کا الگ انتظام بھی کیا ہے۔ یہاں تک کہ گناہوں پر کفارہ کیلئے بھی مسکینوں کو کھانا کھلانا،کپڑے پہنانے وغیرہ کی صورت قرآن میں خود متعین شدہ ہے۔لیکن ایک آفاقی اور مکمل دین ہونے کی وجہ سے اس نے انسان کے تہواروں کی فطری ضرورت کو بھی پورا کیے بغیر نہیں چھوڑا۔ فللّه الحمد۔آپکو مزید یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ایک مسلمان قربانی اللہ کے حکم کی بنیاد پر کرتا ہے اور اس وجہ سے اس حکم کو بالاتری و ابدیت حاصل ہےبلکل اسی طرح جس طرح نماز کے حکم کو حاصل ہے۔ تو جس طرح آپکی یہ تلقین بیجا ہے کہ اس میں بہت سارا وقت ضائع ہوتا ہے اصل میں مسلمانوں کو نماز کے بدلے کوئی اور مفید کام کرنا چاہیے ،اسی طرح قربانی کے بارے میں بھی آپکا طرزعمل بیجا ہی ہے۔(واضع رہے کہ کمیونسٹ حکومتوں نے ماضی میں بہرحال اس بنیاد پر نماز پر پابندی لگائی ہے اور چین سے بھی ایسی خبریں کچھ سال پہلے موصول ہوئی تھی)
(ایم بی بی ایس (جی ایم سی جموں)