سرینگر//شیعہ وقف بورڈاترپردیش کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کی طرف سے قرآن کریم کی 26 آیات کوحذف کرنے کیلئے عدالت عظمیٰ میں داخل کی گئی عرضی کودنیابھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کومجروح کرنے اور مسلکی تشددبھڑکانے کی ایک منصوبہ بندسازش ہے۔ا س بات کااظہار میرواعظ مولوی عمر فاروق کی ہدایت پر انجمن شرعی شیعان کے آغاسیدحسن کی سربراہی میںمتحدہ مجلس علماء کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں وسیم رضوی کی طرف سے قرآن مقدس سے آیات بینات حذف کرنے سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر عرضی سے پیدا شدہ صورتحال کوزیربحث لایاگیا۔ایک بیان کے مطابق اس موقعہ پر ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں متفقہ قراردادمیں وسیم رضوی کی ناشائستہ حرکت اور ارتدادی فعل کی پرزورالفاظ میں مذمت کی گئی اورحکومت ہند سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مذکورہ شخص کو قران کریم کی توہین اورفرقہ وارانہ فسادبپا کرنے کی کوشش کرنے کی پاداش میں فوری طور گرفتار کرکے قرارواقعی سزادے۔قراردادمیں کہاگیا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی مذہب یامذہبی کتاب کے خلاف عدالت میں کوئی عرضی داخل نہیں کی جاسکتی۔پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ اس نوعیت کی عرضی کی سماعت کرنے کیلئے معاملہ داخل کرناانتہائی دلخراش ہے۔قراردادمیں مطالبہ کیا گیا کہ اس عرضی کو بلاتاخیر خارج کیاجائے اوراس طرح کی حرکت کرنے والے عناصر کو کسی مذہب یامسلک سے نہ جوڑاجائے۔قرار دادمیں متحدہ مجلس علماء کے امیرمیرواعظ مولوی عمر فاروق کی نظر بندی کو فوری طورختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیاتاکہ موصوف اس نوعیت کے حساس معاملوں مین قیادت کے ساتھ اپنی منصبی ذمہ داریاں پوری کرسکیں۔قرار داد میں جموں کشمیر کے تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا گیااوروسیم رضوی کے ارتدادی فعل سے متعلق شعیان عالم کے علماء کو تفصیلی خط روانہ کرکے موصوف کے ارتدادکا فتویٰ لیاجائے۔اجلاس میں مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام ، مولانا مسرور عباس انصاری ، آغا سید محمد ہادی ،مفتی محمد اسحاق نازکی ، مولوی محمد اشرف عنایتی ، مولانا خورشید احمد قانونگو ، مولانا لطیف احمد بخاری، مفتی سید احمد بخاری،مفتی غلام رسول سامون ،مولانا فرید الرحمان بخاری، مولاناغلام رسول نوری ، سید عابد حسین حسینی ،مولوی بشیر احمد بٹ،سید عابد رضوی، مولوی مدثراحمد ،مولوی غلام حسین متو ، مجلس کے سیکریٹری مولانا ایم ایس رحمان شمس و دیگر درجنوں علما و مشائخ نے شرکت کی۔