تمام ادیان میں تفکر اور تدبر پر زور دیا گیا ہے۔دین ِاسلام نے اپنے ماننے والوں کو تفکر و تدبر کی پرزور تلقین کی ہے۔تمام آسمانی صحیفوں کے علاوہ مقدر ساز کتاب قرآن مجید میں بھی تفکر اور تدبر کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔گویا دین مبین اسلام میں اس عمل کو بنیادی اور لازمی اہمیت دی گئی ہے۔
بغیر تفکر و تدبر کے ہر کام مذہبی ،سیاسی ،سماجی اور اقتصادی وغیرہ کی سخت نفی کی گئی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ پر افلایدبرون،تفکرون جیسے نورانی کلمات کے ذریعے غور و فکر کی دعوت دی ہے۔
تدبر اور تفکر میں انسان کی فلاح و بہبودی اور کامیابی و کامرانی کے راز مضمر ہیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ’’جس قرأت میں تدبر اور تفکر نہ ہو اس میں کوئی بھلائی نہیں‘‘ یعنی قرآن کی ورق گردانی سے نزول قرآن کا اصل ہدف اور مقصد حاصل نہیں ہوسکتا بشرطیکہ اس میں تدبر اور تفکر ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تدبر اور تفکر معرفت الٰہی کا وسیلہ ہے اور شیطان کے مقابلے میں سُپر ہے۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ نزول قرآن کا اصل ہدف ہدایت الناس ہے۔ جس کی تصدیق خود قرآن کریم نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 185 میں کی ہے جس کا ترجمہ یوں ہے’’ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی واضع نشانیاں موجود ہیں‘‘۔صاف لفظوں میں نزول قرآن کا مقصد ہدایت انسان ہے تاکہ انسان قرآن پاک کے نورانی کلمات پر غور و فکر کرکے ان کلمات کا راز داں بن کر فلسفہ خلقت انسان سمجھے اور سمجھ کر معرفت الٰہی کی پرواز کرکے پرچمِ کامرانی بلند کرے۔
افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان قرآن پاک کو محترم سمجھنے کے سوا اس بحر ِبیکراں سے اور کچھ حاصل نہ کرسکا۔ اس مقدس اور محترم کتاب کو تعویز اور قرأت ختم قرآن تک ہی محدود رکھا۔ملائوں اور جعلی پیروں فقیروں نے اس کتاب کو راہ نجات کے بجائے ذریعہ معاش بنایا۔خوف جہنم سے بے معرفت قرأت کے کروڑوں ختم کئے۔ تصرف جنات اور شیطانی وسوسوں سے رہائی اور مردوں کے ایصال ثواب کے لیے قبرستانوں اور گھروں میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا لیکن درحقیقت قرأت قرآن میں عدم توجہی کی وجہ سے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔بامقصد زندگی بے مقصد بنادی۔ تعلیمات قرآنی کو فراموش کرکے زندگی کو تنگ و تاریک گلیوں میں قید کردیا۔
اس تعلیم یافتہ اور ترقی پذیر دور میں بھی مسلمان نے قرآن کو بالائے طاق رکھ کر ایصال ثواب اور تعویز تک محدود رکھاہے۔غفلت کی نیند نے زندگی کے مقصد کا ستیاناس کردیا ۔ڈھیر ساری خواہشاتِ نفسانی نے تعلیمات قرآنی، اسوہ رسولؐ کو مقید کرکے رکھ دیا۔افسوس صد افسوس کہ ہمارا ذی شعور طبقہ خاموش تماشائی بنا بیٹھا۔
تعلیمات قرآنی اور اسوہ رسول ؐسے دوری سبب بنا کہ پیر نما ٹھگوں، جعلسازوں اور بدکرداروں نے اسلامی لبادہ اوڑھ کر مذہب کے نام پر سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ شیطانی منصوبوں کی تکمیل کے لیے ان جعلی پیروں فقیروں نے تاریخ اسلام کے عظیم الشان روحانی و عرفانی ہستیوں کا مقدس مشن بٹورنے کی کوشش کی ۔ جعلی پیروں کا یہ طبقہ سماج کے لیے ناسور ہے۔ برصغیر ہند و پاک خاص طور پر ہماری وادی میں جعلی پیروں اور فقیروں کی بڑھتی ہوئی تعداد معاشرے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جعلی پیروں کایہ جھنڈ شیطانی حربے اور ہتھکنڈے آزما کر شرم و حیا کی تمام حدیں پار کرچکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مردوں کے مقابلے میں خواتین ہی اس بدکردار گروہ کے جال میں پھنس جاتی ہیں۔ عورتیں معمولی گھریلو تنازعات سے لے کر سرکاری نوکریاںپانے کیلئے ان کثیف حجروں کا چکر لگاتی ہیں جہاں اپنی جمع پونجی کے علاوہ بسا اوقات اپنی عزت و عصمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑتاہے۔
ہمارا معاشرہ ’’صم بکم عمی فھم لایعقلون‘‘کا مصداق بن گیا ہے ورنہ جس معاشرے میں خواتین کو بے پردہ گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں اور اپنے گھر کے نزدیک رشتہ دار بھی محرم قرار نہیں دے دیتا، وہ معاشرہ کیسے ایک عورت کو نامحرم ،جعلی اور بدکردار پیر کے پاس جانے کی اجازت دے گا۔؟قرآن ہمارے لیے منبع ہدایت ہے لیکن اس قرآن کو ہم نے ہی مظلوم بنادیا ۔ہم قرآن کے تئیں اپنا حق ادا نہ کرسکے۔ اگر ہمارے معاشرے میں آج بے حیائی، ذلت اور رسوائی کا بول بالا ہے ،قرآن کو ذریعہ معاش بنایا جارہا ہے، اس کے ذمہ دار بھی ہم ہی ہیںکیونکہ ہم حقیقت سے آگاہ ہونے کے باوجودتماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
معاشرہ کے باشعور افراد ،علمائے کرام اور دانشور حضرات اگر اس ناسور کو روکنے میں لیت و لعل سے کام لیں گے تو یہ صاف و پاک معاشرہ ایسے جعلی پیروں کی کرتوتوں سے آلودہ ہوجائے گا۔ہوشمندی، تدبر اور تفکر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ نزول قرآن کا اصل ہدف سمجھنے کی ضرورت ہے ۔قرآن راہ نجات ہے۔ اس کو ذریعہ معاش کی بجائے ذریعہ نجات بنانا ہے تاکہ دین و دنیا آباد ہوجائے۔
�������
رابطہ:گنڈ حسی بٹ سرینگر ،موبائل نمبر7006861759
ای میل :[email protected]