گلزار بٹ
سرینگر// سابق آئی اے ایس افسر اورگرین سٹیزنزکونسل (جی سی سی) کے چیئرمین خورشیداحمدگنائی نے جموں و کشمیر میں ماحولیات کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو خطہ ایک سنگین ماحولیاتی ایمرجنسی سے دوچار ہو سکتا ہے۔وہ جمعرات کو ’جموں و کشمیر میں قدرتی ماحولیات کے تحفظ‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے، جس کی اختتامی نشست میں معروف سیاستدان ڈاکٹرکرن سنگھ بھی شریک تھے۔خورشید احمد گنائی نے کہا کہ جموں و کشمیر کو اس وقت متعدد ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، آبی ذخائر کا سکڑنا، جھیلوں اور چشموں کی بگڑتی حالت، جنگلات کی کٹائی، غیر منصوبہ بند شہری توسیع اور ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقوں میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے اور دریاؤں، ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث آنے والے برسوں میں پینے اور آبپاشی کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ان کے مطابق جموں و کشمیر کے متعدد آبی ذخائر میں بڑے پیمانے پر گاد جمع ہو چکی ہے اور تجاوزات بھی بڑھ گئی ہیں، جس سے شدید بارشوں کے دوران سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔گنائی نے کہا کہ آنچارجھیل تقریباً گاد، کچرے اور تجاوزات کی نذر ہو چکی ہے، جبکہ ولر،ڈل اورمانسبل بھی مسلسل ماحولیاتی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔انہوں نے آڈیٹراینڈکمپٹرولرجنرل (سی اے جی) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1960 کی دہائی کے بعد سے جموں و کشمیر اپنے تقریباً 70 فیصد ویٹ لینڈز اور آبی ذخائر کھو چکا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا،’’اگر یہ ماحولیاتی ایمرجنسی نہیں تو پھر اور کیا ہے؟‘‘گنائی نے مقامی طور پر ’نمبل‘ کہلانے والے دلدلی علاقوں کی حالت پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان میں سے کئی یا تو تجاوزات کی نذر ہو چکے ہیں یا مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔انہوں نے ہوکرسرآب گاہ،ہائیگام،شالہ بگ اورگھرانہ نمبل کی فوری بحالی پر زور دیا۔انہوں نے پہاڑی علاقوں میں سڑکوں اور سرنگوں کی تعمیر، زرعی زمینوں کو غیر زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرنے، غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ اور ناقص ویسٹ مینجمنٹ پر بھی تنقید کی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمالیائی خطے جیسے نازک ماحولیاتی نظام میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر منصوبے پہاڑی ڈھلوانوں کو غیر مستحکم بنا سکتے ہیں اور قدرتی آفات کے خطرات بڑھا سکتے ہیں۔گنائی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے جنگلات کا تحفظ اور توسیع ناگزیر ہے۔انہوں نے فارسٹ کنزرویشن ترمیمی ایکٹ۔2023کو ایک دھچکا قرار دیتے ہوئے درختوں کی کٹائی اور بڑے شجرکاری پروگراموں کی عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کی۔اپنے خطاب میں انہوں نے چار اہم اپیلیں پیش کیں، شہری ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائیں اور فضلہ کم پیدا کریں۔ نوجوان اور کاروباری افراد سرکلر اکانومی کی بنیاد پر گرین انٹرپرائزز قائم کریں۔ غیر سرکاری تنظیمیں اور مقامی کمیونٹیز رضاکارانہ ماحولیاتی سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ حکومت غیر فعال طرزِ عمل ترک کرکے فعال ماحولیاتی نگرانی اور تحفظ کو ترجیح دے۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو خود ہر مسئلہ حل کرنے کے بجائے ایسی پالیسی سازی کرنی چاہیے جو عوام، کاروباری اداروں اور مقامی برادریوں کو مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائے۔خورشید احمد گنائی نے اکتوبر 2024 میں عمرعبداللہ کے ساتھ شیرکشمیرانٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس وقت بھی واضح کیا تھا کہ اگرچہ ریاستی درجے کی بحالی اہم ہے، لیکن قدرتی وسائل اور ماحولیاتی ورثے کا نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا۔انہوں نے کہا،’’ریاستی درجہ کسی نہ کسی وقت واپس آ سکتا ہے، لیکن اگر ہم اپنے قدرتی وسائل اور خدا کی عطا کردہ خوبصورتی کھو بیٹھے تو وہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔‘‘خطاب کے اختتام پر انہوں نے انگریزی شاعرشیلی کی مشہور سطر،’’اگربہار آئی،توکیاسرمادورہے‘‘۔کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مشترکہ اور عملی کوششوں کے ذریعے جموں و کشمیر کے ماحولیاتی مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔